39

کیا حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں؟

“کیا یہ بات درست نہیں کہ آپ کا قرآن سورۃ مریم ( آیت : 33 ) میں ذکر کرتا ہے کہ یسوع مسیح علیہ السلام انتقال کرگئے اور پھر زندہ کیئے گئے اور اٹھائے گئے تھے ؟ ”

قرآن مجید میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام انتقال کرگئے بلکہ ان کا قول صیغہ مستقبل میں ہے۔ سورۃ مریم میں عیسیٰ علیہ السلام کی بابت ارشاد باری تعالٰی ہے کہ انہوں نے کہا:

وَالسَّلامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا (٣٣)

” اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا، اور جس میں مرجاؤں گا، اور جس دن میں زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا۔”

( سورۃ مریم 19 آیت 33)​

قرآن کا بیان یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام نے کہا:

سلام ہو مجھ پر جس روز میں پیدا ہوا اور جس روز میں مرجاؤں گا، یہ نہیں کہا گیا کہ جس روز میں فوت ہوا، یہ بات مستقبل کے صیغے میں کہی گئی ہے، صیغہ ماضی میں نہیں۔

مسیح علیہ السلام زندہ اٹھائے گئے :

قرآن کریم سورۃ النساء میں مزید بتاتا ہے:

وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا (١٥٧)بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (١٥٨)

“اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے ( ہم نے ان پر لعنت کی ) کہ ” ہم نے مسیح ابن مریم اللہ کے رسول کو قتل کیا” حالانکہ انہوں نے نہ انہیں قتل کیا اور نہ انہیں سولی پر چڑھایا بلکہ انہیں شبہے میں ڈال دیا گیا۔ اور بے شک جنہوں نے عیسٰی کے بارے میں اختلاف کیا وہ ضرور ان کے متعلق شک میں ہیں، انہیں ان کے بارے میں کوئی علم نہیں سوائے گمان کی پیروی کے، اور انہوں نے یقیناً انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا، اور اللہ بڑا زبردست، بہت حکمت والا ہے۔

( سورۃ النساء 4 آیات 157 تا 158 )​

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے عیسٰی علیہ السلام کو یہودیوں کی گھناؤنی سازش سے بچا کر زندہ آسمان پر آُٹھالیا تھا، قیامت کے قریب زمین پر ان کا نزول ہوگا اور فتنہ دجال کے ختم ہوجانے اور تمام روئے زمین پر اللہ کے دین اسلام کے فروغ کے بعد عیسٰی علیہ السلام انتقال کرجائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں