59

حضرت عیسی کو” روح اللہ ” کہا جاتا ہے تو دوسرے الفاظ میں وہ بھی ایک خدا ہی ہوئے-

” کیا قرآن کریم یہ بیان نہیں کرتا کہ یسوع مسیح کلمۃ اللہ ( اللہ کا کلمہ ) ہیں اور روح اللہ ( اللہ کی روح ) بھی، کیا اس سے شان الوہیت ظاہر نہیں ہوتی؟

قرآن مجید کی رُو سے مسیح علیہ السلام اللہ کی جانب سے ایک کلمہ ہیں اللہ کا کلمہ نہیں، چنانچہ سورہ آل عمران کی آیت نمبر 45 میں کہا گیا ہے۔:

إِذْ قَالَتِ الْمَلائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ (٤٥)

” ( یاد کرو ) جب فرشتوں نے کہا: اے مریم ! بے شک اللہ تجھے اپنی طرف سے ایک کلمے کی خوشخبری دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح ابن مریم ہوگا۔ وہ دنیا اور آخرت میں بڑے رتبے والا اور اللہ کے قریبی بندوں میں سے ہوگا۔ ”

( سورۃ آل عمران 3 آیت 45)​

گویا قرآن میں مسیح علیہ السلام کا ذکر” اللہ کی جانب سے ایک کلمہ ” کے طور پر کیا گیا ہے نہ کہ ” اللہ کے کلمہ ” کے طور پر ، اللہ کے ایک کلمے سے مراد اللہ کا پیغام ہے، اگر کسی شخص کو اللہ کی جانب سے ایک کلمہ کہا جائجے تو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ اللہ کا پیغمبر اور نبی ہے۔

انبیاء کے القاب :

مختلف انبیائے کرام کو مختلف القاب دیئے گئے، جب کسی پیغمبر کو کوئی لقب دیا جاتا ہے تو اس کا لازمی طور پر یہ مطلب نہیں ہوتا کہ دوسرے پیغمبر وہ خصوصیت یا خوبی نہیں رکھتے، مثال کے طور پر حضرت ابراہیم کو قرآن میں خلیل اللہ، یعنی اللہ کا دوست کہا گیا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں لیا جاسکتا کہ تمام دوسرے پیغمبر اللہ کے دوست نہیں تھے۔ حضرت موسی علیہ السلام کو کلیم اللہ کہا گیا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے ان سے کلام کیا۔ اس سے بھی یہ مراد نہیں کہ اللہ نے دوسرے انبیاء سے بات نہیں کی،اسی طرح مسیح علیہ السلام کا بطور کلمۃ من اللہ یعنی ” اللہ کی طرف سے ایک کلمہ ” کا ذکر کیا گیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے انبیاء اللہ کی طرف سے ایک کلمہ یا پیغام بر نہیں ہیں۔

حضرت یحیٰی علیہ السلام جنھیں عیسائی یوحنا صباغ (John the Baptist) کہتے ہیں۔ ان کے ذکر میں بھی عیسیٰ علیہ السلام کو کلمۃ من اللہ، یعنی ” اللہ کی طرف سے ایک کلمہ ” کہا گیا ہے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے:

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ (٣٨)فَنَادَتْهُ الْمَلائِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَى مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ (٣٩)

” وہیں زکریا نے اپنے رب سے دعا کی: میرے رب ! مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا کر، بے شک تو ہی دعا سننے والا ہے، پھر جب وہ حجرے میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا تو فرشتوں نے اسے آواز دی: بے شک اللہ تجھے یحیٰ کی خوشخبری دیتا ہے، وہ اللہ کے ایک کلمے ( عیسیٰ ) کی توثیق کرے گا، اور سردار، نفس پر ضبط رکھنے والا اور نیکو کار نبی ہوگا۔

( سورۃ آل عمران 3 آیات 38 تا 39)​

مسیح علیہ السلام کا ذکر بطور روح اللہ کے نہیں کیا گیا بلکہ سورۃ نساء میں روح من اللہ، یعنی ” اللہ کی جانب سے ایک روح ” کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے:

يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلا الْحَقَّ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انْتَهُوا خَيْرًا لَكُمْ إِنَّمَا اللَّهُ إِلَهٌ وَاحِدٌ سُبْحَانَهُ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيلا (١٧١)

” اے اہل کتاب! دین کے بارے میں حد سے نہ گزر جاؤ اور اللہ کے بارے میں حق بات کے سوا کچھ نہ کہو، بے شک عیسیٰ ابن مریم تو اللہ کا رسول اور اس کا کلمہ ہی ہے جسے اس نے مریم کی طرف ڈالا اور وہ اس کی طرف سے ایک روح ہے، چنانچہ تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور یہ نہ کہو کہ معبود تین ہیں، اس سے باز آجاؤ یہ تمہارے لیے بہتر ہے ، بے شک اللہ ہی معبود واحد ہے، وہ اس ( امر ) سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو، آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے، اور اللہ بطور کارساز کافی ہے۔”

( سورۃ النساء 4 آیت 171)​

اللہ کی روح ہر انسان میں پھونکی گئی ہے :

اللہ کی طرف سے روح پھونکے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ( نعوذ باللہ ) معبود ہیں، قرآن متعدد مقامات پر بیان کرتا ہے کہ اللہ انسانوں میں ” اپنی روح سے ” پھونکتا ہے، مثلاً

فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ (٢٩)

” پھر جب میں اسے ( آدم کو ) درست کرلوں اور اپنی روح سے اس میں پھونک دوں تو اس کے آگے سجدی کرتے گر پڑنا۔

( سورۃ الحجر 15 آیات 29)​

ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالأبْصَارَ وَالأفْئِدَةَ قَلِيلا مَا تَشْكُرُونَ (٩)

” پھر انسان ( کے اعضاء ) کو درست کیا اور اس میں اپنی روح سے پھونکا، اور اس نے تمہارے کانِ آنکھیں اور دل بنائے، تم کم ہی شکر کرتے ہو۔ ”

( سورۃ السجدہ 32 آیت 9)​

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں