28

ابلیس فرشتہ ہے یا جن ہے ؟

” قرآن کریم میں مختلف مقامات پر آدم و ابلیس کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔

سورۃ بقرہ میں اللہ تعالی فرماتا ہے:

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلائِكَةِ اسْجُدُوا لآدَمَ فَسَجَدُوا إِلا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ (٣٤)

” ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو، سو ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔”

( سورۃ البقرہ 2 آیت 34)

اس بات کا تذکرہ حسب ذیل آیات میں بھی کیا گیا ہے:

٭ سورۃ اعراف کی آیت: 11

٭ سورۃ حجر کی آیات: 28-31

٭ سورۃ بنی اسرائیل کی آیت: 61

٭ سورۃ طہ کی آیت: 116

٭ سورۃ ص کی آیت: 71-74

لیکن 18 ویں سورۃ الکہف کی آیت 50 کہتی ہے :

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلائِكَةِ اسْجُدُوا لآدَمَ فَسَجَدُوا إِلا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ (٥٠)

” اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے ، وہ جنوں میں سے تھا، پس اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔”

( سورۃ الکہف 18 آیت 50)

تغلیب کا کلیہ :

سورۃ البقرہ کی مذکورہ بالا آیت کے پہلے حصے سے ہمیں یہ تاثر ملتا ہے کہ ابلیس ایک فرشتہ تھا، قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا۔ عربی گرامر میں ایک کلیہ تغلیب کے نام سے معروف ہے جس کے مطابق اگر اکثریت سے خطاب کیا جرہا ہو تو اقلیت بھی خود بخود اس میں شامل ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر میں 100 طالب علموں پر مشتمل ایک ایسی کلاس سے خطاب کررہا ہوں جس میں لڑکوں کی تعداد 99 ہے اور لڑکی صرف ایک ہے ، اور میں عربی زبان میں یہ کہتا ہوں کہ سب لڑکے کھڑے ہوجائیں تو اس کا اطلاق لڑکی پر بھی ہوگا۔ مجھے الگ طور پراس سے مخاطب ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اسی طرح قرآن مجید کے مطابق جب اللہ تعالی نے فرشتوں سے خطاب کیا تو ابلیس بھی وہاں موجود تھا، تاہم اس امر کی ضرورت نہیں تھی کہ اس کا ذکر الگ سے کیا جاتا، لہذا سورۃ بقرہ اور دیگر سورتوں کی عبارت کے مطابق ابلیس فرشتہ ہو یا نہ ہو لیکن 18 ویں سورۃ الکہف کی 50 ویں آیت کے مطابق ابلیس ایک جن تھا۔ قرآن کریم میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ ابلیس ایک فرشتہ تھا، سو قرآن کریم میں اس حوالے سے کوئی تضاد نہیں۔

ارادہ و اختیار جنوں کو ملا ، فرشتوں کو نہیں :

اس سلسلے میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ جنوں کو ارادہ و اختیار گیا دیا ہے اور وہ چاہیں و اطاعت سے انکار بھی کرسکتے ہیں۔ لیکن فرشتوں کو ارادہ و اختیار نہیں دیا گیا۔ اور وہ ہمیشہ اللہ کی اطاعت بجا لاتے ہیں، لہذا اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی فرشتہ اللہ کی نافرمای بھی کرسکتا ہے۔

اس حقیقت سے اس بات کی مزید تائید ہوتی ہے کہ ابلیس ایک جن تھا، فرشتہ نہیں تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں