55

کیا قرآنی احکامِ وراثت میں ریاضی کی غلطی ہے اور کیا اللہ کو ریاضی نہیں آتی؟

” ہندو دانسور ارون شوری نے دعوٰی کیا ہے کہ قرآن کریم میں ریاضی کی ایک غلطی پائی جاتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ سورۃ النساء کی آیات نمبر 11 اور 12 میں وارثوں کو دی جانے والی وراثت کے حصوں کو جمع کیا جائے تو کل عدد ایک سے زیادہ بن جاتا ہے۔ لہذا ( نعوذ باللہ ) قرآن کامصنف ریاضی نہیں جانتا۔”

وراثت کے مسائل قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بیان کیئے گئے ہیں :

٭ سورۃ البقرہ 2 آیت 180

٭ سورۃ البقرہ 2 آیت 240

٭ سورۃ النساء 4 آیت 7 تا 9

٭ سورۃ النساء 4 آیات 19 اور 33

٭ سورۃ المائدہ 5 آیات 105 اور 108

لیکن وراثت کے حصوں کے بارے میں سورۃ النساء کی آیات نمبر 11، 12 اور 176 میں واضح احکام ہیں۔

آیئے سورۃ النساء کی آیات نمبر 11 اور 12 کا جائزہ لیں جس کا حوالہ ارون شوری نے دیا ہے:

يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلأبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلأمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلأمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا (١١)وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ (١٢)

” تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے، پھر اگر ( دو یا ) دو سے زیادہ عورتیں ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے، اور اگر ایک ہی بیٹی وارث ہوتو آدھا ترکہ اس کا ہے۔ اگر میت صاحب اولاد ہوتو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہیئے اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے اور اگر میت کے ( ایک سے زیادہ ) بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصے کی حقدار ہوگی۔ ( یہ تقسیم ) اس کی وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد ہوگی۔ تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ دادا اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے۔ یہ حصے اللہ نے مقرر کیئے ہیں اور بے شک اللہ خوب جاننے والا ، بڑی حکمت والا ہے۔ اور تمہاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہو، اگر وہ بے اولاد ہوں تو اس کا آدھا حصہ تمہیں ملے گا، ورنہ اولاد ہونے کی صورت میں ان کےترکے کا چوتھا حصہ تمہارا ہے۔ ( یہ تقسیم ) ان کی وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد ہوگی۔ اور گر تمہاری اولاد نہ ہو تو تمہارے ترکے میں تمہاری بیویوں کا چوتھا حصہ ہے، پھر اگر تمہاری اولاد ہو تو تمہارے ترکے میں ان کا آٹھواں حصہ ہے۔ ( یہ تقسیم ) تمہاری وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد ہوگی۔ اور اگر وہ آدمی جس کا ورثہ تقسیم کیا جارہا ہو۔ اس کا بیٹا نہ ہو باپ، یا ایسی عورت ہو اور اس کا ایک بھائی یا بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے ، پھر اگر ان کی تعداد اس سے زیادہ ہو تو وہ سب ایک تہائی حصے میں ( برابر ) شریک ہوں گے۔ ( یہ تقسیم ) اس کی وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد ہوگی ( جبکہ وہ کسی کو نقصان پہنچانے والا نہ ہو۔ یہ اللہ کی طرف سے تاکید ہے۔ اور اللہ خوب جاننے والا، بڑے حوصلے والا ہے۔ ”

( سورۃ النساء 4 آیات 11 اور 12 )​

اسلام کا قانون وراثت :

اسلام نے قانونِ وراثت کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ قرآن میں ایک جامو اور بنیادی خاکہ دیا گیا ہے۔ جبکہ اس کی تفصیل اور جزئیات نبی کریم (ﷺ) کی احادیث میں بیان کی گئی ہیں۔ یہ قانون اتنا جامع اور مفصل ہے کہ اگر کوئی شخص حصہ داروں کی مختلف ترتیب و ترکیب کے ساتھ اس پر عبور حاصل کرنا چاہے تو اسے اس کے لیے ساری عمر وقت کرنی پڑے گی۔ ادھر ارون شوری ہے جو قرآن کی دو آیات کے سرسری اور سطحی مطالعے سے اور شرعی معیارات سے واقفیت حاصل کیے بغیر ہی اس قانون کو جاننے کی توقع رکھتا ہے۔

اس کی حالت اس شخص جیس یہے جو الجبرے کی ایک مساوات حل کرنے کا خواہاں ہے، حالانہ وہ ریاضی کے بنیادی قواعد (Bodmas) بھی نہیں جانتا جن کے مطابق قطع نظر اس بات سے کہ ریاضی کی کون سی علامت پہلے آئی ہے، پہلے آپ کو Bodmas حل کرنا ہوگا، یعنی پہلے بریکٹیں حل کرنی ہوں گی۔ دوسرے مرحلے پر تقسیم کا عمل کرنا ہوگا، تیسرے پر ضرب کا عمل، چوتھے پر جمع کا عمل اور پانچویں مرحلے پر تفریق کا عمل انجام دینا ہوگا۔ اگر ارون شوری ریاضی سے نابلد ہے اور وہ مساوات کے حل کا عمل ضرف سے شروع کرتا ہے۔ پھر تفریق کا عمل کرتا ہے اس کے بعد بریکٹوں کو دور کرنے کا عمل انجام دیتا ہے، پھر تقسیم کی طرف آتا ہے اور آخر میں جمع کا عمل بروئے کار لاتا ہے تو یقیناً اس کا جواب غلط ہی ہوگا۔

اسی طرح جب قرآن مجید سورۃ النساء کی آیات 11 اور 12 میں قانون وراثت بیان کرتا ہے تو اگرچہ سب سے پہلے اولاد کے حصے کا ذکی گیا ہے اور اس کے بعد والدین اور میں یا بیوی کے حصے بیان ہوئے ہیں لیکن اسلامی قانون وراثت کے مطابق سب سے پہلے قرض اور واجبات ادا کیے جاتے ہیں اس کے بعد والدین اور میاں یا بیوی کا حصہ ادا کیا جاتا ہے جو اس امر پر منحصر ہے کہ مرنے والے نے اپنے پیچھے بچے بھی چھوڑے ہیں یا نہیں، اس کے بعد بچنے والی جائداد بیٹوں اور بیٹیوں میں مقررہ حصوں کے مطابق تقسیم کی جاتی ہے۔ لہذا کل حصص کے مجموعے کا ایک سے بڑھ جانے کا سوال کہاں پیدا ہوا؟

حاشیہ :

قانون وراثت کے عام مسائل تو سیدھے ہیں ان میں جتنے حصص ہوں وہ مخرج کے حساب سے ورثاء پر تقسیم ہوجاتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات ورثآء کے حصص مخرج سے بڑھ جاتے ہیں۔ اس میں مناسب عدد کا اضافہ کرکے مخرف کو حصص کے برابر کرلیا جاتا ہے۔ اصطلاح میںاسے ” عَول ” کہتے ہیں۔ اس سے یہ فرق پڑتا ہے کہ ورثاء کا حصہ کچھ کم ہوجاتا ہے۔ عول کا سب سے پہلے فتوٰی حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ تعالی عنہ ) نے دیا۔ اکثر صحابہ کرام ( رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین ) نے اسے قبول کیا سوائے چند ایک کے۔

ان میں حضرت عبداللہ بن عباس ( رضی اللہ تعالی عنہ) بھی ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے:

مرنے والی خاتون اپنے پیچھے، خاوند اور دو سگی بہنیں وارث کے طور پر چھوڑ جاتیہے۔ خاوند کا حصہ نصف ½ ہے اور دو سگی بہنوں کا حصہ دو تہائی 2/3 ہے ۔ یہاں اصل مسئلہ ( ذو اضعاف اقل ) 6 ماہ۔ خاوند کو نصف ( تین حصے ) ملے گا اور بہنوں کے لیے 2 تہائی ( چار حصے ) ہے۔ اب اس مسئلے میں ” عول ” آگی، یعنی مخرج تنگ ہوگیا جس کی بنا پر حصص بڑھا دیئے، پہلے 6 تھے اب 7 ہوگئے۔ اس طرح چند صورتیں اور بھی ہیں جن میں عَول آتا ہے۔ اور یہ عَول کا آنا ریاضی کے قانون سے ناواقفیت کی بنا پر نہیں بلکہ یہ ایک تقدیری مسئلہ ہے۔ کہ مؤرث کی کے وقت کون سا وارث زندی ہے۔ ان میں سے جو زیادہ حق دار ہے اسی کو وراثت میں حصہ ملے گا۔ بوض دفعہ مخج کے مطابق نکالے ہوئے حصص بچ جاتے ہیں وہ اصحاب الروض میں سوائے زوجین کے ، تقسیم کردیئے جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں