52

کیا اسلام تشدد اور قتل و غارت کی دعوت دیتا ہے؟ اس لیئے قرآن کہتا ہے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جہاں کہیں کفار کو پائیں انہیں قتل کردیں

” کیا اسلام تشدد، اور خونریزی کی اور بہیمت کو فروغ دیتا ہے۔ اس لیئے قرآن کہتا ہے مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ جہاں کہیں کفار کو پائیں انہیں قتل کردیں؟”

قرآن کریم سے بعض مخصوص آیات کا ٖغلط طور پر اس لیے حوالہ دیا جاتا ہے کہ اس غلط تصور کو قائم رکھا جاسکے کہ اسلام تشدد کی حمایت کرتا ہے اور اپنے پیروکاروں پر زور دیتا ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے باہر رہنے والوں کو قتل کردیں۔

آیت جس کا غلط حوالہ دیا جاتا ہے :

سورۃ توبہ کی مندرجہ ذیل آیت کا اسلام کے ناقدین اکثر حوالہ دیتے ہیں تاکہ یہ ظاہر کیا جاسکے کہ اسلام تشدد، خون ریزی اور وحشت کو فروغ دیتا ہے۔

فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ (٥)
” تم مشرکوں کو جہاں کہیں پاؤ، انہیں قتل کردو۔” ​
( سورۃ التوبہ 9 آیت 5)

آیت کا سیاق و سباق :

در حقیقت ناقدینِ اسلام اس ایت کا حوالہ سیاق و سباق سے ہٹ کردیتے ہیں۔ آیت کے سیاق و سباق کو سمجھنے کے لیئے ضروری ہے کہ اس سورت کا مطالعہ آیت نمبر 1 سے شروع کیا جائے۔ اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان جو معاہداتِ امن ہوئے تھے، ان سے براءت کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس براءت ( معاہدات کی منسوخی ) سے عرب میں شرک اور مشرکین کا وجود عملاً خلاف قانون ہوگیا کیونکہ ملک کا غالب حصہ اسلام کے زیر حکم آچکا تھا۔ ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہ رہا کہ یا تو لڑنے پر تیار ہوجائیں یا ملک چھوڑ کر نکل جائیں یا پھر اپنے آپ کو اسلامی حکومت کے نظم و ضبط میں دے دیں۔ مشرکین کو اپنا رویہ بدلنے کے لیے چار ماہ کا وقت دیا گیا۔ ارشاد الٰہی ہوا:

فَإِذَا انْسَلَخَ الأشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (٥)

” پس جب حرمت ( دی گئی مہلت ) والے مہینے گزر جائیں تو تم مشرکین کو جہاں کہیں پاؤ قتل کردو اور ان کر پکڑ لو اور گھیرو اور ہر گھات میں ان کی تاک میں بیٹھو، پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکواۃ دینے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو،بے شک اللہ بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والاہے۔

( سورۃ التوبہ 9 ایت 5)​

عہد نو کی ایک مثال :

ہم سب جانتے ہیں کہ ایک وقت تھا امریکہ ویت نام پر برسر پیکار تھا۔ فرض کیجیئے کہ صدر امریکہ یا امریکی جرنیل نے جنگ کے دوران میں امریکی سپاہیوں سے کہا: جہاں کہیں ویت نامیوں کو پاؤ انہں ہلاک کردو۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے اگر آج میں سیاق و سباق سے ہٹ کر یہ کہوں کہ امریکی صدر یا جرنیل نے کہا تھا کہ جہاں کہیں ویت نامیوں کو پاؤ انہیں قتل کردو، تو یوں معلوم ہوگا کہ میں کسی قصائی کا ذکر کرررہا ہوں۔ لیکن اگر میں اس کی یہی بات صحیح سیاق و سباق میں بیان کروں تو یہ بالکل منطقی معلوم ہوگی کیونکہ وہ دراصل جنگ کے حالات میں اپنی سپاہ کا حوصلہ پڑھانے کے لیئے ایک ہنگامی حکم دے رہا تھا کہ دشمن کو جہاں کہیں پاؤ ختم کردو، حالت جنگ ہونے کے بعد یہ حکم ساقط ہوگیا۔

حالتِ جنگ کا حکم :

اسی طرح سورۃ توبہ کی آیت نمبر 5 میں ارشاد ہوا کہ ” تم مشرکوں کو جہاں کہیں پاؤ انہیں قتل کردو۔ ” یہ حکم جنگ کے حالات میں نازل ہوا اور اس کا مقصد مسلم سپاہ کا حوصلہ بڑھانا تھا، قرآن کریم درحقیقت مسلمان سپاہیوں کو تلقین کررہا ہے کہ وہ خوفزدہ نہ ہوں اور جہاں کہیں دشمنوں سے سامنا ہو انہیں قتل کردیں۔

ارون شوری کی فریب کاری :

ارون شوری، بھارت میں اسلام کے شدید ناقدوں میں سے ہے۔ اس نے بھی اپنی کتاب ” فتاوٰی کی دنیا ” کے صفحہ 572 پر سورۃ توبہ کی آیت نمبر 5 کا حوالہ دیا ہے۔ آیت نمبر 5 کا حوالہ دینے کے بعد وہ دفعتاً ساتویں آیت پر آجاتا ہے، یہاں ہر معقول آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر آیت نمبر 6 سے گریز کیا ہے۔

قرآن سے جواب :

سورۃ توبہ کی آیت نمبر 6 اس الزام کا شافی جواب دیتی ہے کہ اسلام ( نعوذ باللہ ) تشدد، بہیمت اور خونریزی کو فروغ دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالٰی ہے:

وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لا يَعْلَمُونَ (٦)

” ( اے نبی! ) اگر کوئی مشرک آپ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دیجیئے تاکہ وہ اللہ کا کلام سن سکے ، پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دیجیئے، یہ ( رعایت ) اس لیئے ہے کہ بے شک وہ لوگ علم نہیں رکھتے۔ ”

( سورۃ التوبہ 9 آیت 6)​

قرآن کریم نہ صرف یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی مشرک حالات جنگ میں پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دی جائے بلکہ یہ حکم دیتا ہے کہ اسے محفوظ مقام پر پہنچا دیا جائے، ہوسکتا ہے کہ موجود بین الاقوامی منظر نامے میں ایک رحم دل اور امن پسند جرنیل جنگ کے دوران میں دشمن کے سپاہیوں کو امن طلب کرنے پر آزادانہ جانے دے لیکن کون ایسا فوجی جرنیل ہوگا جو اپنے سپاہیوں سے یہ کہ سکے کہ اگر دوران جنگ دشمن کے سپاہی امن کے طلب گار ہوں تو انہیں نہ صرف یہ کہ رہا کردو بلکہ محفوظ مقام پر پہنچا بھی دو؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں