51

جنت میں مردوں کو حوریں ملیں گی تو عورتوں کے لیے کیا ہوگا؟

” قرآن کریم کے مطابق کوئی شخص جنت میں داخل ہوگا تو سے حور، یعنی خوبصورت دو شیزہ دی جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ جب کوئی عورت جنت میں جائے گی تو اسے کیا دیا جائے گا ؟”لفظ حور قرآن کریم میں کم از کم چار مختلف مقامات پر استعمال ہوا ہے۔

كَذَلِكَ وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِينٍ (٥٤)

” یوں ہی ہوگا اور اہم ان کا نکاح کردیں گے بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے۔”

( سورۃ الدخان 44 آیت 54)

مَصْفُوفَةٍ وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِينٍ (٢٠)

” اور ہم ان کا نکاح بڑی بڑی اور روشن آنکھوں والی حوروں سے کردیں گے۔”

( سورۃ الطور 52 آیت 20)

حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ (٧٢)

” خیموں میں ٹہرائی گئی حوریں ”

( سورۃ الرحمن 55 آیت 72)

وَحُورٌ عِينٌ (٢٢)كَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ (٢٣)

” اور ان کے لیے خوبصور آنکھوں والی حوریں ہوں گی، ایسی حسین جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی۔ ”

( سورۃ الواقعہ 56 آیات 22 تا 23)

حور کا مطلب :

قرآن کریم کے بہت سے مترجمین نے لفظ حور کا ترجمہ خصوصاً اردو تراجم میں خوبصورت دوشیزائیں یا لڑکیاں کیا ہے۔ اس صورت میں وہ صرف مردوں کے لیے ہوں گی۔ تب جنت میں جانے والی عورتوں کے لیے کیا ہوگا ؟

لفظ ” حُور ” فی الواقع اَحوَر ( مردوں کے لیے قابل اطلاق ) اور حَورَاء ( عورتوں کے لیے قابل اطلاق ) دونوں کا صیغہ جمع ہے اور یہ ایک ایسے شخص کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی آنکھیں حَوَر سے متصف ہوں، جو جنت میں جانے والے مردوں اور خواتین کی صالح ارواح کو بخشی جانے والی خصوصی صفت ہے اور یہ روحانی آنکھ کے سفید حصے کی انتہائی اجلی رنگت کو ظاہر کرتی ہے۔

دوسری کئی آیات میں قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ جنت میں تمہارے ازواج ، یونی جوڑے ہوں گے۔ اور تمہیں تمہارا جوڑا یا پاکیزہ ساتھی عطاء کیا جائے گا۔ ارشاد باری تعالٰی ہے:

وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (٢٥)

” اور ( اے پیغمبر! ) جو لوگ اس کتاب پر ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، انہیں خوشخبری دے دیں کہ ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ جب بھی ان میں سے کوئی پھل انہیں کھانے کو دیا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دنیا میں دیا جاتا تھا۔ ان کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی، اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔”

( سورۃ البقرہ 2 آیت 25)

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا لَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلا ظَلِيلا (٥٧)

” اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا اور نیک عمل کیئے، ان کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور ان کو پاکیزہ بیویاں ملیں گی اور انہیں ہم گھنی چھاؤں میں رکھیں گے۔ ”

( سورۃ النساء 4 آیت 57)

لہذا لفظ ( حُور ” کسی خاص جنس یا صنف کے لیئے مخصوص نہیں، علامہ محمد اسد نے لفظ حور کا ترجمہ خاوند یا بیوی (Spouse) کیا ہے جبکہ علامہ عبداللہ یوسف علی نے اسکا ترجمہ (Companion) کیا ہے۔ چنانچہ بعض علماء کے نزدیک جنت میں کسی مرد کو جو حور ملے گی وہ ایک بڑی بڑی چمکتی ہوئی آنکھوں والی خوبصورت دوشیزہ ہوگی جبکہ جنت میں داخل ہونے والی عورت کو جو ساتھی ملے گا وہ بھی بڑی بڑی روشن آنکھوں والا ہوگا۔

عورتوں کے لیے خصوصی انعام :

بہت سے علماء کا خیال ہے کہ قرآن میں جو لفظ ” حور ” استعمال ہوا ہے اس سے مراد صرف خواتین ہیں کیونکہ اس کے بارے میں خطاب مردوں سے کیا گیا ہے۔ اس کا وہ جواب جو سب قسم کے لوگوں کے لیے لازماً قابل قبول ہو، حدیث مبارک میں دیا گیا ہے۔ جب نبئ کریم (ﷺ) سے ایسا ہی سوال کیا گیا کہ اگر مرد کو جنت میں ایک خوبصورت دوشیزہ یعنی حور دی جائے گی تو عورتوں کو کیا ملے گا؟ تو جواب میں ارشاد ہوا کہ عورتوں کو وہ چیز ملے گی جس کی ان کے دل نے کبھی خواہش نہ کی ہوگی نہ ان کے کانوں نے کبھی اسکا ذکر سنا ہوگا اور نہ ان کی آنکھوں نے کبھی اسے دیکھا ہوگا، گویا عورتوں کو جنت میں کوئی خاص شے عطاء کی جائے گی۔ (حاشیہ: یہ سوال جنت میں مَردوں کو حوریں ملیں گی تو عورتوں کو کیا ملے گا؟ اس ضمن میں ڈاکٹر صاحب نے حدیث پیش کی وہ اس سیاق و سباق سے ہمیں اصل مرجع سے نہیں مل سکے۔ صحیح بخاری میں حدیث کے الفاظ یوں ہیں:

قال اللہ تبارک و تعالی: اعددت لعبادی الصالحین ما لا عین رات، ولا ازن سمعت ولا خطر علی قلب بشر۔

” اللہ تعالی فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کررکھا ہے جسے ان کی آنکھوں نے دیکھا نہ ان کے کانوں نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گذرا۔

(صحیح البخاری، التفسیر، حدیث 4779)

حدیث کے الفاظ عِباَد میں مراد مرد اور عورت دونوں شامل ہیں البتہ اس سلسلے میں شیخ ناصر الدین الالبانی ( رحمۃ اللہ علیہ ) نے سلسلہ صحیحہ میں ایک حدیث نقل کی ہے۔ :

المراۃ لاخر ازواجھا”

( جنت میں عورت ( دنیا کے لحاظ سے ) آخر خاوند کے ساتھ ہوگی۔”

( الصحیحۃ، حدیث: 1281)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں شادی شدہ عورت جنت میں بھی اپنے خاوند ہی کے ساتھ ہوگی، البتہ جن کی شادی نہ ہوئی یا جن کے خاوند کافر رہے، ان کو جنت میں مردوں کے ساتھ بیاہ دیا جائے گا۔

( دیکھیئے: تفسیر روح المعانی: 14 / 207))

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں