52

انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے یا نطفہ سے ؟ قرآن میں ایک جگہ نطفہ کا لفظ ہے اور ایک جگہ مٹی کا، صحیح بات کیا ہے؟

” ایک مقام پر قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان کو نطفے ( مادہ منویہ ) سے پیدا کیا گیا جبکہ ایک دوسرے مقام پر کہا گیا ہے کہ آدمی کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ کیا یہ دونوں آیات باہم متصادم نہیں؟ اپ سائنسی طور پر یہ کیسے ثابت کریں گے کہ آدمی کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے؟ ”

قرآن کریم میں بنی نوع انسان کی حقیر ابتدا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسے مادہ منویہ کے ایک قطرے سے پیدا کیا گیا۔ یہ بات متعدد آیات میں کہی گئی جن میں سورۃ قیامہ کی حسب ذیل آیت بھی شامل ہے:

أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنَى (٣٧)

” کیا وہ ( ایک حقیر ) پانی کا نطفہ نہ تھا جو ( رحم مادر میں ) ٹپکایا جاتا ہے۔”

( سورۃ قیامہ 75 آیت 37)

قرآن کریم متعدد مقامات پر اس بات کا ذکر بھی کرتا ہے کہ بنی نوع انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ حسب ذیل آیت میں بنی نوع انسان کی تخلیق اور ابتداء کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ تُرَابٍ (٥)

“لوگو! اگر تمہیں زندگی بعدِ موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو ( تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ ) بے شک ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ ”

(سورۃ الحج 22 آیت 5)

موجودہ دور میں ہمیں معلوم ہے کہ جسمِ انسانی کےک عناصر، جن سے مل کر انسانی جسم وجود میں آیا ہے، سب کے سب کم یا زیادہ مقدار میں مٹی میں شامل ہیں، سو یہ اس آیتِ قرآن کی سائنسی توجیہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ۔

قرآن کی بعض آیات میں اگر یہ فرمایا گیا ہے کہ آدمی نطفے سے پیدا کیا گیا جبکہ بعض اور آیات میں کہا گیا ہے کہ اسے مٹی سے پیدا کیا گیا، تو ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں۔ تضاد سے مراد تو ایسے بیانات ہیں، جو باہم مختلف ہوں یا متصادم ہوں اور بیک وقت صحیح نہ ہوں۔

پانی سے انسان کی تخلیق :

بعض مقامات پر قرآن کریم یہ بھی کہتا ہے کہ انسان کو پانی سے پیدا کیا گیا۔ مثال کے طور پر سورۃ الفرقان میں کہا گیا :

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا ف (٥٤)

” اور وہی ( اللہ ) ہے جس نے آدمی کو پانی سے پیدا کیا۔

( سورۃ الفرقان 25 آیت 54)

فرض کیجئے میں یہ کہتا ہوں کہ چائے کا کپ تیار کرنے کے لیے پانی درکار ہے لیکن اس کے لیے چائے کی پتی اور دودھ یا ملک پاؤڈر بھی درکار ہوتا ہے۔ یہ دونوں بیانات متضاد نہیں کیونکہ پانی اور چائے کی پتی دونوں ہی چائے کی پیالی تیار کرنے کے لیئے ضروری ہیں، مزید برآں اگر میں میٹھی چائے بنانا چاہوں تو اس میں چینی بھی ڈال سکتا ہوں، لہذا قرآن جب یہ کہتا ہے کہ انسان کو نطفے ، مٹی اور پانی سے تخلیق کیا گیا تو اس میں کوئی تضاد نہیں بلکہ تینوں میں امتیاز قائم کیا گیا ہے۔ چیزوں میں امتیاز (Contradistinction) کا مطلب ایک ہی موضوع کے ایسے دو تصورات کے بارے میں بات کرنا جو باہیم متصادم نہ ہوں، مثال کے طور پر اگر میں یہ کہوں کہ انسان ہمیشہ سچ بولتا ہے اور عادتاً جھوٹا ہے تو یہ ایک متضاد بات ہوگی لیکن اگر میں یہ کہوں کہ انسان ہمیشہ سچ بولتا ہے اور عادتاً جھوٹا ہے تو یہ ایک متضاد بات ہوگی لیکن اگر میں یہ کہوں کہ یہ آدمی دیانت دار ، مہربان اور محبت کرنے والا ہے تو یہ اس کی مختلف صفات میں امتیاز ظاہر کرنے والا ایک بیان ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں