51

کیا الڑا سونو گرافی (الٹرا ساؤنڈ) قرآنی آیات کی نفی کرتی ہے؟

” قرآن کریم کہتا ہے کہ کسی ماں کے رحم میں موجود بچے کی جنس صرف اللہ ہی کو معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اب سائنس ترقی کرچکی ہے اور ہم بآسانی الٹرا سونو گرافی کے ذریعے سے جنین کی جنس کا تعین کرسکتے ہیں۔ کیا یہ آیت قرآنی میڈیکل سائنس سے متصادم نہیں؟ ”

علم غیب صرف اللہ جانتا ہے :

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ قرآن کریم کا یہ دعوٰی ہے کہ صرف اللہ ہی رحم مادر میں جنین کی جنس کو جانتا ہے، اس سلسلے میں قرآن مجید کہتا ہے:

إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأرْحَامِ و (٣٤)

“بے شک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ جو کچھ ماؤں کے پیٹوں میں ہے۔ ”

( سورۃ لقمان 31 آیات 34)

اس طرح کا ایک پیغام مندرجہ ذیل آیات میں دیا گیا ہے:

اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَى وَمَا تَغِيضُ الأرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ (٨)

” اللہ ہی جانتا ہے جو کچھ ہر مادہ پیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے۔ اور ارحام کی کمی بیشی بھی، اور اس کے ہاں ہر چیز کی مقدار ( مقرر ) ہے۔

( سورۃ الرعد 13 آیت 8)

الٹرا سونو گرافی سے جنس کا تعین :

موجودہ سائنس ترقی کرچکی ہے اور ہم الٹرا سونو گرافی (Ultrasonography) کی مدد سے حاملہ خاتون کے رحم میں بچے کی جنس کا تعین بآسانی کرسکتے ہیں۔

قرآن اور جنین کی جنس :

یہ درست ہے کہ قرآن مجید کی اس آیت کے متعدد تراجم اور تشریحات میں یہ کہا گیا ہے کہ صڑف اللہ ہی یہ جانتا ہے کہ رحم مادر میں موجود بچے کی جنس کیا ہے۔ لیکن اگر آپ اس آیت کا عربی متین پڑھیں تو آپ دیکھیں گے کہ انگریزی کے لفظ جنس (Sex) کا کوئی متبادل عربی لفظ استعمال نہیں ہوا۔ درحقیقت قرآن کریم جو کچھ کہتا ہے ، وہ یہ ہے کہ ارحام میں کیا ہے، اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ بہت سے مفسرین کو غلط فہمی ہوئی اور انہوں نے اس سے یہ مطلب لیا کہ اللہ ہی رحم مادر میں بچے کی جنس سے واقف ہے۔ یہ درست نہیں،

یہ آیت جنین کی جنس کی طرف اشارہ نہیں کرتی بلکہ اس کا اشارہ اس طرف ہے کہ رحم مادر میں موجود بچے کی فطرت کیسی ہوگی۔ کیا وہ اپنے ماں باپ کیلئے بابرکت اور با سعادت ہوگا یا باعث زحمت ہوگا؟
کیا وہ معاشرے کے لیے باعث رحمت ہوگا یا باعث عذاب؟ کیا وہ نیک ہوگا یا بد؟
کیا وہ جنت میں جائے گا یا جہنم میں ؟
ان تمام باتوں کا مکمل علم صرف اللہ ہی کے پاس ہے، دنیا کا کائی سائنس دان، خواہ اس کے پاس کیسے ہی ترقی کے آلات کیوں نہ ہوں، رحم مادر میں موجود بچے کے بارے میں کبھی ان باتوں کا صحیح جواب نہیں دے سکے گا۔۔

( حاشیہ:

ابتدائی مراحل میں جب نطفہ اور علقہ رحم مادر میں ہوتا ہے تو کوئی سائنسدان بھی اس کا تعین نہیں کرسکتا کہ اس کی جنس کیا ہے۔ پھر آلات کے ذریعے سے معلوم کرنا تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی آپریشن کرکے کہے کہ مجھے اس کی جنس معلوم ہوگئی ہے، حالانہ یہ اسباب کے بغیر معلوم کنے کی نفی ہے۔ اور ایسے واقعات بھی سننے میں آئے ہیں کہ ڈاکٹر کی رپورٹ کے خلاف نتیجہ نکلا ہے، یعنی ڈاکٹری رپورٹ حتمی اور یقینی نہیں۔
(( عثمان منیب ))

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں