22

کیا حروفِ مقطعات بے فائدہ ہیں؟

کیا حروفِ مقطعات بے فائدہ ہیں؟

“قرآن مجید کی بعض سورتیں الم، حم اور یس وغیرہ سے کیوں شروع ہوتی ہیں؟ ان حروف یا تراکیب کی اہمیت کیا ہے؟”

الم، یٰس، حٰم وغیرہ کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے۔ عربی حروف تہجی میں کل 29 حروف شامل ہیں، ( بشرطیکہ ہمزہ اور الف کو دو الگ الگ حروف شمار کیا جائے ) اور قرآن مجید کی کل 29 سورتیں ایسی ہیں جو حروف مقطعات سے شروع ہوتی ہیں۔ یہ حروف مقطعات بعض اوقات واحد حرف اور بعض اوقات ایک سے پانچ حروف تک ترکیب کی صورت میں ہوتے ہیں۔

حروفِ مقطعات :

1۔ تین سورتوں کا آغآز صرف ایک حرف سے ہوتا ہے:

٭ سورت ص 38 ویں سورت ہے جو حرف ص سے شروع ہوتی ہے۔

٭ 50 ویں سورت ق سے شروع ہوتی ہے۔

٭ 68 ویں سورت ں یا القلم حرف ن سے شروع ہوتی ہے۔

2۔ دس سورتوں سے قبل دو حروف مقطعات آتے ہیں :

٭ 20 ویں سورت طٰہٰ انھی حروف مقطعات سے شروع ہوتی ہے۔

٭ 27 ویں سورت النمل کا آغآز طٰس کے حروف سے ہوتا ہے۔

٭ 36 ویں سورت یٰس کا آغاز یٰس کے حروف سے ہوتا ہے۔

3۔ 40 ویں سے 46 ویں تک مسلسل سات سورتیں حٰم ( ح م ) کے حروف مقطعات سے شروع ہوتی ہیں :

٭ 40 ویں سورت سورت الغافر یا سورۃ المؤمن

٭ 41 ویں سورت حٰم السجدہ

٭ 42 ویں سورت الشورٰی

٭ 43 ویں سورت الزخرف

٭ 44 ویں سورت الدخان

٭ 45 ویں سورت الجاثیہ

٭ 46 ویں سورت الاحقاف

4۔ 14 سورتوں کا تین تین حروف مقطعات سے آغاز ہوتا ہے :

حسب ذیل چھ سورتیں الف ل م ( الم ) سے شروع ہوتی ہیں:

٭ دوسری سورت البقرہ

٭ تیسری سورت آل عمران

٭ 14 ویں سورت العنکبوت

٭ 30 ویں سورت الروم

٭ 31 ویں سورت لقمان

٭ 32 ویں سورت السجدۃ

جروف مقطعات ( الر 9 10 ویں سے 15 ویں تک پانچ سورتوں سے قبل آتے ہیں:

٭ 10 ویں سورت یونس

٭ 11 ویں سورت ھود

٭ 12 ویں سورت یوسف

٭ 13 ویں سورت ابراہیم

٭ 14 ویں سورت الحجر

طٰسم ( ط س م ) کے حروف مقطعات دو سورتوں میں آتے ہیں:

٭ 26 ویں سورت الشعراء

٭ 28 ویں سورت القصص

5۔ چار حروف مقطعات کی ترکیب صرف دو دفعہ آئی ہے:

٭ ساتویں سورت الأعراف: المص ( ا ل م ص )

٭ تیرھویں سورت الرعد: المر ( ا ل م ر )

6۔ پانچ حرور مقطعات کی ترکیب بھی دو دفعہ استعمال ہوئی ہے :

٭ 19 ویں سورت مریم کھیعص ( ک ہ ی ع ص ) سے شروع ہوتی ہے۔

٭ 42 ویں سورت الشورٰی کا آغاز حروف مقطعات کی دو ترکیبوں سے ہوتا ہے: دو حروف کی ترکیب حٰم ( ح م ) تین حروف پر مشتمل ترکیب عسق ( ع س ق )

ان حروف کے معانی اور مقاصد کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا مختلف ادوار میں مسلم علماء نے ان کی مختلف تو ضیحات پیش کی ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں:

٭ یہ حروف بعض جملوں اور الفاظ میں کی مختصر صورت ہوسکتے ہیں، جیسے الم سے مراد اللہ أعلم ( اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے ) اور ن سے مراد ” نور ” ہوسکتا ہے۔

٭ یہ حروف اختصار کی صورتیں نہیں بلکہ اللہ تعلی یا کسی اور چیز کی علامتیں اور نام ہیں،

٭ یہ حروف قافیہ بندی کے لیئے استعمال ہوئے ہیں۔

٭ ان حروف کی کوئی عددی اہمیت بھی ہے چونکہ سامی زبانوں کے حروف عددی قدر بھی رکھتے تھے۔

٭ یہ حروف نبی کریم (ﷺ) ( اور بعد میں سامعین ) کی توجہ مبذول کرانے کے لیے استعمال کیے گئے۔

حروف مقطعات کی معنویت و اہمیت پر کئی جلدیں لکھی گئی ہیں۔

حروف مقطعات کی بہترین تعبیر :

مختلف علماء کی طرف سے پیش کردہ تعبیرات میں سے مستند تعبیر حسب ذیل ہے جس کی تائید امام ابن کثیر، زمخشری اور ابن تیمیہ ( رحمۃ اللہ علیہ ) کی طرف سے بھی کی گئی ہے:

انسانی جسم کا مرکب کائنات میں پائے جانے والے مختلف عناصر سے تیار کیا گیا ہے۔ مٹی اور گارا بھی انہی بنیادی عناصر کا آمیزہ ہیں۔ لیکن یہ کہنا غلط ہوتا کہ انسان بالکل مٹی جیسا ہے، ہم سب سے ان عناصر تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں جو انسانی جسم میں پائے جاتے ہیں اور ہم ان میں چند گیلن پانی ڈال سکتے ہیں جس سے انسانی جسم تشکیل پاتا ہے مگر اس سے ہم زندگی تخلیق نہیں کرسکتے۔ ہمیں انسانی جسم میں شامل عناصر کا علم ہے لیکن اس کے باوجود جب ہم سے رازِ زندگی کے بارے میں سوال کیا جائے تو ہمارے پاس اظہار حیرت کے سوا کچھ نہیں ہوتا، اسی طرح قرآن مجید ان لوگوں سے خطاب کرتا ہے جو اس کے اُلُوہی احکام کو نہیں مانتے۔ قرآن ان سے کہتا ہے کہ یہ کتاب تمہاری اپنی زبان میں ہے۔ ( جس پر عرب بہت فخر کرتے تھے ) یہ انہی حروف پر مشتمل ہے جنہیں عرب بڑی فصاحت سے اظہار و بیان کے لیے استعمال کرتے تھے۔ عرب اپنی زبان پر بہت نازاں تھے اور جس زمانے میں قرآن نازل ہوا، عربی زبان اپنے عروج پر تھی، حروف مقطعات: الم، یس، حم وغیرہ کے استعمال سے ( انگریزی میں اے، بی، سی، ڈی کہ سکتے ہیں۔ ) قرآن بنی نوع انسان کو چیلنج کرتا ہے کہ اگر انہیں اس کے مستند ہونے میں شک ہے تو وہ حسن فصاحت میں قرآن سے ملتی جلتی کم از کم ایک سورت ہی لکھ کر لے آئیں۔

ابتداء میں قرآن کریم تمام انسانوں اور جنوں کو چیلنج دیتا ہے کہ تم قرآن جیسا کلام لا کر دکھا دو، پھر مزید کہتا ہے کہ وہ سب ایک دوسرے کی امداد کرکے بھی یہ کام انجام نہیں دے سکتے۔ یہ چیلنج سورۃ الاسراء ( بنی اسرائیل ) کی 88 ویں آیت اور سورۃ طور کی 34 ویں آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد یہ چیلنج گیارھویں سورت ہود کی 13 ویں آیت میں دہرایا گیا اور فرمایا گیا کہ اس جیسی 10 سورتیں تیار کرکے دکھاؤ، بعد ازاں دسویں سورت یونس کی آیت 38 میں اس جیسی ایک سورت بنا لانے کو کہا گیا اور آخر کار سورۃ البقرہ کی ایات 23 اور 24 میں آسان ترین چیلنج دیا گیا:

وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (٢٣)فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ (٢٤)

” اور اگر تم اس ( کلام ) کے بارے میں شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو تم اس جیسی ایک سورت ہی لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے حمایتیوں کو بلا لاؤ اگر تم سچے ہو، پھر اگر تم ایسا نہ کرسکو، اور تم کر بھی نہیں سکتے، تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، ( اور جو ) کافروں کیلئے تیار کی گئی ہے۔

( سورۃ البقرہ 2 آیت 23 تا 24)​

دو ہنر مندوں کی مہارت کا تقابل کے لیے انہیں لازماً ایک ہی خام مال کے نمومے فراہم کئے جانے چاہیئیں اور پھر ایک ہی کام کے ذریعے سے ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جانا چاہیئے۔ عربی زبان کا خام مواد یہی حروف الم، یس وغیرہ ( جیسے انگریزی میں اے ، بی ، سی ، ڈی ) ہیں۔ قران کریم کی زبان کی معجزاتی فطرت صرف یہی نہیں کہ یہ کلام الہٰی ہے بلکہ اس کی عظمت اس حقیقت میں بھی مضمر ہے کہ اگرچہ یہ انہی حروف سے وجود میں آئی ہے جن پر مشرکین فخر کرتے تھے۔ لیکن اس کے مقابلے کی کوئی عبارت پیش نہیں کی جاسکی۔

قرآن مجید کا معجزاتی وصف :

عرب اپنی خطابت، فصاحت اور قدرت کلام کی وجہ سے معروف ہیں، جیسے ہمیں انسانی جسم کے ترکیبی عناصر معلوم ہیں اور ہم انہیں حاصل کرسکتے ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم کے حروف، جیسے: الم سے بھی ہم خوب واقف ہیں اور انہیں اکثر الفاظ بنانے کے لیے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ لیکن انسانی جسم کے ترکیبی عناصر کا علم حاصل ہونے کے باوجود ، زندگی کی تخلیق ہمارے بس میں نہیں ہے۔ اسی طرح جن حروف پر قرآن مشتمل ہے ان کا علم رکھنے کے باوجود ہم قرآن کریم کی فصاحت اور حسن کلام پر گرفت حاصل نہیں کرسکتے، یوں قرآن بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کلامِ الہٰی ہے۔

اسی لیئے سورۃ بقرہ کے حروف مقطعات کے فوراً بعد جو آیت ہے اس میں معجزہ قرآن اور کلام الہی کی ثقاہت کا ذکر کیا گیا ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے۔

الم (١)ذَلِكَ الْكِتَابُ لا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (٢)

” یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، یہ پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے۔ ”

( سورۃ البقرہ آیات 1 تا 2)​

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں