44

کیا یہ زمین چپٹی اور ہموار ہے؟ اور کیا یہ بات سائنس کے خلاف نہیں؟

کیا یہ زمین چپٹی اور ہموار ہے؟

” قرآن یہ کہتا ہے کہ زمین کو تمہارے لیئے بچھونا بنا دیا گیا ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ زمین چپٹی اور ہموار ہے۔ کیا یہ بات مسلمہ جدید سائنسی حقائق کے منافی نہیں؟”

اس سوال میں قرآن کریم کی سورہ نوح کی ایک آیت کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں فرمایا گیا ہے:

وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الأرْضَ بِسَاطًا (١٩)

“اور اللہ نے تمہارے لیئے زمین کو بچھونا بنایا ہے۔”

(سورۃ نوح 71 آیت 19)​

لیکن مندرجہ بالا آیت کا جمہ مکمل نہیٰں، جمہ اس سے اگلی آیت میں جاری ہے جو پچھلی ایات کی وضاحت کرتا ہے۔ اس میں ارشاد ہے۔:

لِتَسْلُكُوا مِنْهَا سُبُلا فِجَاجًا (٢٠)

” تاکہ تم اس کے کشادہ راستوں پر چل سکو۔”

( سورۃ نوح 71 آیت 20)​

اسی طرح کا ایک پیغام سورۃ طہٰ میں دہرایا گیا ہے:

الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الأرْضَ مَهْدًا وَسَلَكَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلا (٥٣)

“وہ ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور تمہارے چلنے کے لیئے اس میں راستے بنائے۔ ”

( سورۃ طہٰ 20 آیت 53)

زمین کی بالائی تہ یا قِشُر ارض کی موٹائی 30 میل سے بھی کم ہے اور اگر اس کا موازنہ زمین کے نصف قطر سے کیا جائے جس کی لمبائی 3750 میل ہے تو قشر ارض بہت ہی باریک معلوم ہوتا ہے۔ زیادہ گہرائی میں واقع زمین کی تہیں بہت گرم، سیال اور ہر قسم کی زندگی کے لیئے ناسازگار ہیں، قشر ارض کا ٹھوس صورت اختیار کر لینے والا وہ خول ہے جس پر ہم زندہ رہ سکتے ہیں، لہذا قرآن مجید بجا طور پر اس کو ایک بچھونے یا قالین سے مشابہ قرار دیتا ہے تاکہ ہم اس کی شاہراہوں اور راستوں پر سفر کرسکیں۔

قرآن کے مطابق زمین چپٹی نہیں :

قرآن کریم میں کوئی ایسی آیت موجود نہیں جس میں یہ کہا گیا ہو کہ زمین مستوی یا چپٹی ہے۔ قرآن صرف قشرِ زمین کو قالیین سے تشبیہ دیتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک قالین صرف قطعی ہمواز زمین ہی پر بچھایا جاسکتا ہے، حالانکہ کرہ ارض جیسے بڑے کرے پر بھی قالین بچھانا ممکن ہے اور اس کا مظاہرہ زمین کے گلوب کا ایک بہت بڑا نمونہ لے کر اور اس پر قالین بچھا کر بآسانی کیا جاسکتا ہے۔ قالین بالعموم ایک ایسی سطح پر بچھایا جاتا ہے جس پر بصورت دیگر سہولت سے نہ چلا جاسکتا ہو۔ قرآن مجید قشر زمین کا ذکر بطور قالین کرتا ہے جس کے نیچے گرم، سیال اور مانع حیات ماحول پایا جاتا ہے۔ قشر زمین کی صورت میں بچھائے گئے قالین کے بغیر بنی نوع انسان کا زندہ رہنا ممکن نہ ہوتا، لہذا قرآن کریم کا بیان نہ صرف عین منطق کے مطابق ہے بلکہ اس میں ایک ایسی حقیقت بھی بیان کردی گئی ہے جسے صدیوں بعد ماہرین ارضیات نے دریافت کیا۔

کشادہ فرشِ ارضی :

قرآن کریم کی متعدد آیات میں یہ فرمایا گیا ہے کہ زمین بچھا دی گئی ہے، حکم ربانی ہے:

وَالأرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ (٤٨)

” ہم نے زمین کو ( قالین کی طرح ) بچھا دیا ہے، سو ہم کیسے اچھے بچھانے والے ہیں۔ ”

(سورۃ الذاریات 51 آیت 48)​

اسی طرح قرآن کریم کی متعدد دوسری آیات میں زمین کو کشادہ بچھونا یا فرش کہا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے:

أَلَمْ نَجْعَلِ الأرْضَ مِهَادًا (٦)وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا (٧)

” کیا ہم نے زمین کر فرش نہیں بنایا؟ اور پہاڑوں کو ( اس میں ) میخیں ( نہیں بنایا ؟)”

( سورۃ النباء 78 آیت 6 تا 7 )​

قرآن کریم کی کسی ایت میں معمولی سا اشارہ بھی نہیں کیا گیا کہ زمین چپٹی اور ہموار ہے۔ آیات سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زمین وسیع اور کشادہ ہے اور اس وسعت و کشادگی کی وجہ بیان کردی گئی ہے قرآن عظیم میں ارشاد ہے:

يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ (٥٦)

” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو! بے شک میری زمین بڑی وسیع ہے ، پس میری ہی عبادت کرو۔”

(سورۃ العنکبوت 29 آیت 56) ​

( حاشیہ: لہذا کوئی شخس یہ عذرپیش نہیں کرسکتا کہ وہ نیکی نہیں کرسکا اور وہ برائیوں کے ارتکاب پر مجبور تھا کیونکہ اس کے اردگرد کا ماحول اور حالات سازگار نہیں تھے۔ )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں