50

کیا قرآن اللہ کا کلام ہے؟

” قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ اس کے برعکس یہ شیطان کا کارنامہ ہے؟ ”

متعصب مغربی مصنفین اور پادری یہ بے سروپا الزام دہراتے رہتے ہیں۔ اسی طرح کا الزام مکہ کے کافروں نے بھی لگایا تھا کہ محمد (ﷺ) کو شیطان کی طرف سے الہام ہوتا ہے۔

جندب بن سفیان (رضی اللہ تعالی عنہ ) سے روایت ہے:

” اِشتکٰی رسول اللہ (ﷺ) فلم یقم لیلتین او ثلاثاً، فجاءت امراۃ، فقالت: یا محمد! انی لارجو ان یکون شیطانک قد ترکک، لم ارہۃ قربک منذ لیلتین او ثلاثاً، فأنزل اللہ عزو جل: (وَالضُّحَى (١)وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى (٢)مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى (٣)

” ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ (ﷺ) بیمار ہوگئے تو آپ نے دویا تین راتیں قیام الیل نہ کیا۔ اس دوران میں ایک عورت آئی اور کہنے لگی: اے محمد! میرے خیال ہے کہ تمہارے شیطان نے تمہارے پاس آنا چھوڑ دیا ہے۔ میں نے دو تین راتوں سے اسے تمہارے پاس آتے نہیں دیکھا۔ اس پر اللہ عزو جل نے یہ آیات نازل فرمائیں:

” دن چڑھے کی قسم! اور رات کی جب وہ چھا جائے ( اے نبی!) آپ کے رب نے آپ کو نہ چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔

(صحیح البخاری، التفسیر، سورۃ ( و الضحی ) بات: 1 حدیث 4950)

پھر سورۃ واقعہ کی درج ذیل آیات نازل ہوئیں:

إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ (٧٧)فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ (٧٨)لا يَمَسُّهُ إِلا الْمُطَهَّرُونَ (٧٩)تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ (٨٠)

” بے شک یہ قرآن نہایت قابل احترام ہے ایک محفوظ کتاب میں۔ اسے بس پاک ( فرشتے ) ہی ہاتھ لگاتے ہیں۔ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔

( سورۃ الواقعہ 50 آیات 77 تا 80)

“کتاب مکنون ” سے مراد ایسی کتاب جو خوب محفوظ ہ مصئون ہو۔ اور اس میں آسمان پر موجود لوحِ محفوظ کی طرف اشارہ ہے ۔ اس کتاب قرآن مجید کو مطہرین کے سوا کوئی نہیں چھو سکتا اور مطہرین کے معنی ہیں ” جو ہر قسم کی ناپاکی، آلودگی یا گناہوں جیسی بُرائیوں سے پاک ہیں۔ “ یہ فرشتوں کی طرف اشارہ ہے اور شیطان قرآن کو ہرگز نہیں چھو سکتا۔

اب چونکہ شیطان کے لیے قرآن پاک کو چھونا ممنوع ہے اور وہ اس کے قریب نہیں پھٹک سکتا، اس لیے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اس نے قرآن مجید کی آیات لکھی ہوں۔

مزید برآں سورۃ الشعراء میں کہا گیا ہے:

وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ (٢١٠)وَمَا يَنْبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ (٢١١)إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ (٢١٢)

” اور شیطاطین اس ( قرآن ) کو لے کر نازل نہیں ہوئے اور نہ یہ ان کے لائق ہے اور نہ وہ اس کی استطاعت ہی رکھتے ہیں بے شک وہ تو اس کے سُننے سے بھی دوور رکھے گئے ہیں۔

( سورۃ الشعراء 26 آیات 210-212)

شیطان کے متعلق غلط تصور :

بہت سے لوگ شیطان کا غلط تصور رکھتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ شیطان غالباً ہر کام کرسکتا ہے، سوائے چند کاموں کے جو اللہ انجام دے سکتا ہے۔ ان کے نزدیک شیطان اقتدار و اختیار میں اللہ سے قدرے نیچے ہے۔ چونکہ یہ لوگ تسلیم کرنا نہیں چاہتے کہ قرآن معجز نما وحی ہے، لہذا وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ شیطان کا کارنامہ ہے، لیکن غور کیجیئے! اگر شیطان نے قرآن لکھنا ہوتا تو وہ اس قرآن کی سورۃ نحل میں یہ ذکر نہ کرتا:

فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ (٩٨)

“پھر جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگیں۔

( سورۃ النحل 16 آیت 98)

کیا خیال ہے شیطان ایسی کتاب تصنیف کرسکتا تھا؟ کیا وہ انسانوں سے یہ کہ سکتا تھا کہ ” میری کتاب پڑھنے سے پہلے اللہ سے دعا مانگ لیا کرو وہ تمہیں اپنی پناہ رکھے “ مزید برآں قرآن مجید کی کئی آیات ہیں جو اس امر کی کافی شہادت دیتی ہیں کہ شیطان قرآن کا مصنف نہیں۔

سورۃ الاعراف میں ہے:

وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (٢٠٠)

” اور اگر آپ کو شیطان کا کوئی وسوسہ اُبھارے تو اللہ کی پناہ مانگیئے، بے شک وہ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔

( سورۃ الاعراف 7 آیت 200)

اب شیطان بھلا اپنے پیروکاروں کو کیوں بتاتا کہ جب وہ ان کے ذہن میں کوئی وسوسہ ڈالے تو وہ اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں جس کا وہ کھلا دشمن ہے۔

سورۃ یس میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے:

أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَنْ لا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ (٦٠)

” اے بنی آدم ! کیا میں نے تمہیں یہ تاکید نہیں کی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ بلاشبہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔”

( سورۃ یس 36 آیت 60)

کفار کو شیطان نے پٹی پڑھائی :

شیطان ذہین ہے۔ لہذا یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ اس نے بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ خیال ڈال دیا کہ شیطان ہی نے قران تصنیف کیا۔ اللہ قادرِ مطلق کے مقابلے میں شیطان کی کوئی اہمیت نہیں اور اللہ کہیں زیادہ علیم و حکیم ہے۔ وہ شیطان کے گھناؤنے ارادوں کو جانتا ہے، اسی لیئے اس نے قرآن کے قاری کو کئی شواہد فراہیم کیے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کلام الہٰی ہے اور یہ شیطان کی تصنیف ہرگز نہیں۔

انجیل مرقس میں لکھا ہے۔

” اگر کسی سلطنت میں پھوٹ پڑ جائے تو وہ سلطنت قائم نہیں رہ سکتی۔ اور اگر کسی گھر میں پھوٹ پڑجائے تو وہ گھر قائم نہ رھ سکے گا۔ اور اگر شیطان اپنا ہی مخالف ہرکر اپنے میں پھوٹ ڈالے تو وہ قائم نہیں رہ سکتا بلکہ اُس کا خاتمہ ہو جائے گا۔”

( مُرقس، باب 3، فقرہ 24 تا 26)

یہ کسی طور ممکن نہیں تھا کہ شیطان اپنا ہی مخالف ہو کر ایک ایسی کتاب تصنیف کرتا جو شیطنت کی جڑ کاٹتی ہے۔ لہذا قرآن مجید کے بارے میں کفار مکہ اور یہود نصارٰی کا مذکورہ بالا الزام بے سروپا اور سراسر خلاف حقیقت ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں