45

کیا تنسیخ آیات غلطی کی اصلاح ہے؟ کیا آیات کا منسوخ ہونا اور نئی لانا پہلے غلطی تھی؟

کیا تنسیخ آیات غلطی کی اصلاح ہے؟

” مسلمان تنسیخ آیات کے تصور پر ایمان رکھتے ہیں، یعنی ان کا عقیدہ یہ ہے کہ بعض ابتدائی آیات قرآنی کوبعد میں اترنے والی آیات کے ذریعے سے منسوخ کردیا گیا تھا، کیا اس سے یہ مطلب اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ( نعوذ باللہ ) اللہ نے ایک غلطی کی اور بعد ازاں اس کی تصحیح کرلی؟”

قرآن مجید اس مسئلے کو حسبِ ذیل آیت میں بیان کرتا ہے:

مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (١٠٦)

” ہم جو کوئی آیت منسوخ کرتے یا اسے بھُلوا دیتے ہیں تو ہم اس سے بہتر یا اس جیسی (آیت ) لے آتے ہیں، کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔”

(سورۃ البقرہ 2 آیت 106)​

سورہء النحل کی آیت نمبر 16 میں بھی اس کی طرف اشادہ کیا گیا ہے ۔

عربی لفظ ” آیت ” کا لغوی مطلب علامت، مصرع یا جملہ ہے اور اس سے مراد وحی بھی ہے، قرآن کی اس آیت کی تعبیر دو مختلف طریقوں سے کی جاسکتی ہے:

وہ آیات جو منسوخ کردی گئیں ان سے مراد یا تو وہ وحی ہے جو قرآن سے پہلے نازل کی گئی –

مثلاً:

تورار، زبور اور انجیل کی اصل وحی کی شکل میں اور مذکورہ بالا آیت کا مطلب ہوگا کہ وہ سابقہ کلامِ وحی کو فراموش نہیں ہونے دیتا بلکہ اسے بہتر یا یکساں کلام سے تبدیل کردیتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تورات، زبور اور انجیل کی جگہ قرآن مجید نے لے لی ہے۔

اگر ہم مذکورہ بالا قرآنی آیت میں عربی لفظ ” آیت ” سے مراد آیات قرآنی لیں اور سابقہ کتب وحی نہ لیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی آیت قرآنی اللہ تعالی کی طرف سے اس وقت تک منسوخ نہیں کی گئی جب تک اسے کسی بہتر یا ویسی ہی آیت سے تبدیل نہیں کردیا گیا۔ میں ان دونوں تعبیرات سے اتفاق کرتا ہوں۔

بعض مسلمان اور اکثر غیر مسلم دوسری تعبیر سے غلط طور پر یہ مطلب اخذ کرتے ہیں کہ قرآن مجید کی بعض ابتدائی آیات منسوخ کردی گئی تھیں اور وہ آج ہم پر لاگو نہیں ہوتیں کیونکہ بعد میں نازل ہونے والی آیات یعنی ناسخ آیات نے ان کی جگہ لے لی ۔ یہ گروہ یہ غلط عقیدہ بھی رکھتا ہے کہ یہ آیت باہم متضاد ہیں، آئیے ایسی چند مثالوں کا جائزہ لیں۔

قرآن کا چیلنج :

بعض مشرکین یہ الزام لگاتے تھے کہ محمد رسول اللہ (ﷺ) نے خود یہ قرآن گھڑ لیا ہے۔

اللہ تعالی نے عربوں کو سورہ بنی اسرائیل کی مندرجہ ذیل آیت میں چیلنج کی:

قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الإنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا (٨٨)

” ( اے نبی (ﷺ) !) کہ دیجیئے اگر سب انسان اور جن اس بات پر جمع ہوجائیں کہ اس قرآن کا مثل بنا لائیں تو وہ اس جیسا نہیں لاسکیں گے، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مدد گار ہی کیوں نہ ہوں۔ ”

پھر اس چیلنج کو سورۃ ھود کی حسب ذیل آیت کے ذریعے سے آسان بنا دیا گیا:

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (١٣)

” کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے ( اپنے پاس سے ) یہ (قرآن) گھڑ لیا ہے؟ ( سو اے نبی! ()) کہ دیجیئے: پھر لے آؤ تم بھی دس سورتیں ویسی ہی گھڑی ہوئی اور ( مدد کیلئے ) بلا لو جسے تم بلا سکو اللہ کے سوا، اگر تم سچے ہو۔ ”

( سورۃ ھود 11 آیت 13)​

بعد میں سورۃ یونس کی مندرجہ ذیل آیت میں چیلنج کو آسان تر بنا دیا گیا:

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (٣٨)

” کیا وہ ( کافر ) کہتے ہیں کہ اس ( رسول ) نے اسے گھڑ لیا ہے ؟ ( اے نبی! )کہ دیجیئے: تم تو اس جیسی ایک ہی سورت لے آؤ ( مدد کے لیے ) اللہ کے سوا جن کو بلا سکتے ہو بلا لو، اگر تم سچے ہو۔ ”

(سورۃ یونس 10 آیت 38)​

آخر کار سورۃ بقرہ میں اللہ تعالی نے اس چیلنج کو مزید آسان بنا دیا اور یہ کہا:

وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (٢٣)فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ (٢٤)

” اور اگر تم اس (کلام) کے بارے میں شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا تو تم اس جیسی ایک سورت ہ یلے آؤ، اور بلا لاؤ اپنے حمایتیوں کو سوائے اللہ کے، اگر تم سچے ہو، پھر اگر تم ایسا نہ کرسکو، اور تم کر بھی نہیں سکتے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں ( اور جو ) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ ”

( سورۃ البقرہ 2 آیات 23 تا 24)​

یوں اللہ تعالی نے اپنے چیلنجوں کو انتہائی آسان بنا دیا۔ یکے بعد دیگرے نازل ہونے والی آیات قرآن کے زریعے سے پہلے مشرکوں کو چیلنج دیا گیا کہ وہ قرآن جیسی کوئی کتاب لاکر دکھائیں، پھر ان سے کہا گیا کہ قران کی سوروں جسی دس سورتیں لاکر دکھا دو اور آخر میں انہیں چیلنج کیا گیا کہ چلو قرآنی سورتوں سے ملتی جلتی کوئی ایک ہی سورت پیش کردو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سورۃ بقرہ کی آیات نمبر 23 اور 24 ( جو بعد میں نازل ہوئیں ) پہلی تین آیات سے متضاد ہیں، تضاد سے مراد ایسی دو چیزوں کا ذکر ہے جو بیک وقت موجود نہیں ہوسکتیں یا آبیک وقت وجود میں نہیں آسکتیں۔

قران کریم کی پہلی ایات، یعنی منسوخ آیات اب بھی کلام الہٰی ہیں اور ان میں بیان کردہ ہدایت آج بھی عین حق ہے، مثال کے طور پر یہ چیلنج کہ قرآن جیسا کلام لا کر دکھاؤ، آج بھی برقرار ہے، اسی طرح عین قرآن جیسی 10 سورتیں یا ایک سورت پیش کرنے کا چیلنج بھی بدستور قائم ہے اور قرآن کریم سے کسی حد تک ملتی جلتی ایک ہی سورت لانے کا چیلنج بھی برقرار ہے۔ یہ چیلنج سابقہ چیلنجوں کے منافی نہیں لیکن یہ دوسرے چیلنجوں کے مقابلے میں آسان ہے۔ اگر آخری چیلنج کا جواب بھی نہیں دیا جاسکتا تو کسی شخص کیلئے باقی تین مشکل چیلنجوں کا جواب دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

فرض کیجیئے میں کسی شخص کے بارے میں یہ کہتا ہوں کہ وہ اتنا کند ذہن ہے کہ وہ سکول میں دسویں جماعت پاس کرنے کے قابل بھی نہیں، بعد ازاں میں کہتا ہوں کہ وہ پانچویں جماعت بھی پاس نہیں کرسکے گا۔ آخر میں میں کہتا ہوں کہ وہ اتنا نالائق ہے کہ کے جی بھی پاس نہیں کرسکے گا جبکہ سکول میں داخلے کے لیے کےجی، یعنی کنڈر گارٹن میں کامیابی لازم ہے، گویا بالفعل میں یہ کہ رہا ہوں کہ مذکورہ شخص اتنا کند ذہن ہے کہ وہ کے جی پاس کرنے کے قابل بھی نہیں۔ میرے چاروں بیانات ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے، لیکن میرا چوتھا بیان اس طالب علم کی ذہنی استعداد کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ اگر کوئی طالب علم کے جی کلاس پاس نہیں کرسکتا تو اس کے لیئے پہلی جماعت، پانچویں جماعت یا دسویں جماعت پاس کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

منشیات کی بتدریج ممانعت :

ایسی آیات کی ایک مثال ان آیات سے دی جاسکتی ہے، جو منشیات کی بتدریج ممانعت سے تعلق رکھتی ہیں۔ منشیات کے بارے میں قرآن میں پہلی وحی سورۃ بقرہ کی اس ایت کی صورت میں نازل ہوئی:

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا (٢١٩)

” ( اے نبی (ﷺ)! ) وہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ آپ کہ دیجئے: ان دونوں ( کے استعمال ) میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدہ بھی ہے، اور ان کا گناہ فائدے سے بہت زیادہ ہے۔”

(سورۃ البقرہ 2 آیت 219)​

منشیات کے بارے میں نازل ہونے والی اس سے پہلی آیت سورۃ نساء میں شامل ہے جسے یہاں نقل کیا جارہا ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا (٤٣)

“اے ایمان والو! تم اس وقت نماز کے قریب بھی نہ جاؤ جب تم نشے میں مست ہو، یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو جو کچھ تم کہتے ہو۔ ”

( سورۃ النساء 4 آیت 43)​

منشیات کے بارے میں نازل ہونے والی آخری آیت سورۃ مائدہ کی حسب ذیل آیت ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأنْصَابُ وَالأزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (٩٠)

” اے ایمان والو! بے شک شراب اور جوا اور آستانے اور فال نکالنے کے تیر ناپاک شیطانی عمل ہیں، سو ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ”

(سورۃ المائدہ 5 آیت 90)​

قرآن کریم ساڑھے بائیں برس کے عرصے میں نازل ہوا اور معاشرے میں کی جانے والی بیشتر اصلاحات بتدریج نافذ کی گئیں، اس کا مقصد نئے قوانین پر عمل درآمد میں لوگوں کے لیئے آسانیاں پیدا کرنا تھا کیونکہ معاشرے میں اچانک تبدیلی ہمیشہ بغاوت اور افراتفری پر منتج ہوتی ہے۔

منشیات کی ممانعت تین مراحل میں کی گئی، اس سلسلے میں پہلی وحی میں صرف یہ ذکر فرمایا گیا کہ نشہ آور اشیاء کا استعمال بہت بڑا گناہ ہے اور ان میں کچھ فائدہ بھی ہے لیکن ان کا گناہ ان کے نفع سے زیادہ ہے۔ اس سے اگلی وحی میں نشے کی حالت میں نماز پڑھنا منع فرما دیا گیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوا کہ کسی مسلمان کو دن کے اوقات میں کوئی نشہ نہیں کرنا چاہیئے۔ اس لیے کہ ہرمسلمان پر دن میں پانچ مرتبہ نماز ادا کرنا فرض کردیا گیا ہے۔ اس آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ جب رات کو کوئی شخص نماز ادا نہ کررہا ہو تو اسے نشہ کرنے کی اجازت ہے، اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وچاہے تو نشہ کرے اور چاہے تو نشہ نہ کرے۔ قرآن اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرتا۔ اگر اس آیت میں یہ کہا گیا ہوتا کہ جب کوئی شخص نماز نہ پڑھ رہا ہو تو شراب پی سکتا ہے، تب یہ بات بلاشبہ مبنی بر تضاد ہوتی۔ اللہ تعالی نے نہایت موضوں الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ آخر مین سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 90 کے ذریعے سے ہمیشہ کے لیے نشہ آور چیزوں کی ممانعت کردی گئی ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا کہ تینوں آیات ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ اگر ان میں باہمی تضاد ہوتا تو بیک وقت تینوں آیات پر عمل کرنا ممکن نہ ہوتا۔ چونکہ ہر مسلمان سے قرآن مجید کی ہر آیت کو مانے کی توقع کی جاتی ہے۔ اس لیے جب وہ سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 90 پر، جو آخر میں نازل ہوئی ، عمل کرتا ہے تو سابقہ دو آیات سے بھی خود بخود اتفاق اور ان پر عمل درآمد ہوجاتا ہے۔ فرض کیجئے! میں کہتا ہوں کہ میں لاس اینجلس میں نہیں رہتا۔ بعد ، میں کہتا ہوں کہ میں کیلیفورنا میں نہیں رہتا، اور آخر میں، میں یہ بیان دیتا ہوں کہ میں ریستہائے متحدہ امریکہ میں نہیں رہتا۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ یہ تینوں بیانات باہم متضاد ہیں، حالانکہ ہر بیان پہلے بیان کے مقابلے میں زیادہ معلومات فراہم کرتا ہے، لہذا صرف یہ کہ دینے سے کہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں نہیں رہتا، خود بخود واضح ہوجاتا ہے کہ میں کیلیفورنیا یا لاس اینجلس میں بھی نہیں رہتا، اسی طرح جب شاب کی مکمل ممانعت کردیگئی تو ظاہر ہے نشے کی حالت میں نماز ادا کرنا بھی ممنوع ٹھہرا اوریہ بات بھی سچ ثابت ہوئی کہ نشہ آور اشیاء کا استعمال بڑا گناہ ہے اور اس میں انسانوں کے لیے کچھ فائدہ بھی ہے لیکن ان کا گناہ ان کے نفع سے زیادہ ہے۔

قرآن مجید میں تضاد نہیں :

تنسیخ آیات کے نظریئے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن میں تضاد پایا جاتا ہے۔ اس لیئے بیک وقت قرآن کریم کی تمام آیات پر عمل کرنا ممکن ہے۔ اگر قرآن میں تضاد ہوتا تو یہ کلامِ الہٰی نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

أَفَلا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلافًا كَثِيرًا (٨٢)

” کیا پھر وہ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کی بجائے کسی اور کی طرف سے آیا ہوتا تو وہ اس میں یقیناً بہت اختلاف پاتے۔ ”

( سورہ النساء 4 آیت 82)​

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں