50

اللہ معاف کرنے والا ہے یا انتقام لینے والا ہے؟

اللہ معاف کرنے والا ہے یا منتقم مزاج؟

“قرآن کئی مقامات پر یہ کہتا ہے کہ اللہ نہایت رحم کرنے والا اور معاف فرمانے والا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتا ہے کہ وہ سخت سزا دینے والا ہے۔ تو کیا فی الحقیقت وہ معاف فرمانے والا ہے یا منتقم مزاج ہے ؟ ”

قرآن کریم میں متعدد مقامات پر فرمایا گیا ہے کہ اللہ نہایت رحم کرنے والا ہے۔ فی الواقع قرآن کریم کی نویں سورت، سورۃ توبہ کے سوا تما سورتیں ( بسم اللہ الرحمن الرحیم ) کے خوبصورت الفاظ کے ساتھ شروع ہوتی ہیں۔ جن کے معانی ہیں: ” اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان اور انتہائی رحم فرمانے والا ہے۔ ”

اللہ تعالی کی معافی :

قرآن مجید میں سورۃ النساء کی 25 ویں آیات اور سورۃ المائدہ کی آیت: 75 سمیت متعدد مقامات پر فرمایا گیا ہے۔

وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (٢٥)

” اور اللہ بہت معاف فرمانے اور انتہائی رحم کرنے والا ہے۔ ” ( سورۃ النساء 4 آیت 25)

اللہ کی پکڑ :

اللہ تعالی غفور الرحیم ہونے کے ساتھ بہت سخت بھی ہے اور سزا کے مستحق لوگوں کو عذاب بھی دیتا ہے۔ قرآن کریم کی متعدد آیات میں بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالی ملحدوں اور کافروں کو سخت سزا دے گا۔ وہ ان سب کو عذاب میں مبتلاء کرے گا جو اس کی نافرمانی کے مرتکب ہیں۔ کئی آیات میں مختلف قسم کی شدید سزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے جو جہنم میں نافرمانی کرنے والوں کو دی جائیں گی ۔ ارشاد باری تعالی ہے۔:

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا (٥٦)

” بے شک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا اناکر کیا، ہم جلد انہیں آگ میں ڈالیں گے ، جب ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ہم ان کی جگہ دوسری کھالیں چڑھا دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھیں۔ بے شک اللہ بہت زبردست ، بڑی حکمت والا ہے۔ ”

(سورۃ النساء 4 آیت 56)

اللہ کا عدل :

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ تعالی معاف فرمانے والا ہے یا منتقم ہے؟ اس سلسلے میں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ اللہ غفور الرحیم ہونے کے علاوہ سزا کے مستحق بد اعمال اور برے لوگوں کو سخت سزا بھی دیتا ہے کیونکہ وہ عادل بھی ہے۔ سورۃ النساء میں ارشاد ہوتا ہے۔:

إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ (٤٠)

“بے شک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ ” (سورۃ النساء 4 آیت 40)

سورۃ الانبیاء میں یہ حقیقت یوں بیان کی گئی ہے:

وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ (٤٧)

” اور ہم قیامت کے دن انصآف کے ترازو رکھیں گے، پھر کسی شخص پر ظلم نہ ہوگا، اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی ( کسی کا ) عمل ہوگا تو ہم اسے ( تولنے کے لیئے وہاں ) لے آئیں گے ، اور ہم حساب کرنے والے کافی ہیں۔ ” ( سورۃ الانبیاء 21 آیت 47)

عدل کی ایک مثال :

کیا استاد اس طالب علم کو معاف کردیتا ہے جو امتحان میں نقل کرتا ہے؟ اگر امتحان کے دوران میں ایک طالب علم نقل کرتا پایا جائے اور امتحان میں نگرانی کرنے والا استاد اس کو رنگے ہاتھوں پکڑ لے تو کیا استاد یہ کہتا ہے کہ وہ بہت قابل رحم ہے اور پھر اسے نقل جاری رکھنے کی اجازت دے دیتا ہے؟ یقیناً وہ طالب علم جنہوں نے امتحانات کے لیے محنت کی ہوگی، استاد کو قطعاً رحم دل اور مہربان نہیں کہیں گے بلکہ اسے غیر عادل قرار دیں گے۔ استاد کا یہ رحم دلانہ فعل دوسرے طالب علموں کے لیے بھی نقل کی ترغیب کا باعث ہوگا۔ اگر تمام اساتذہ اسی طرح رحم دل اور مہربان ہوجائیں اور طالب علموں کو نقل کرنے کی اجازت دینے لگیں تو کوئی طالب علم کبھی امتحانات کے لیے مطالعہ نہیں کرے گا جبکہ نقل کرکے وہ اعلٰی درجے میں امتحان پاس کرلے گا۔ نظری طور پر امتحانات کے نتائج بڑے شاندار ہوں گے جن میں تمام طلبہ اول درجے میں اور امتیازی نمبروں کے ساتھ کامیاب قرار پائیں گے لیکن عملی طور پر وہ زندگی میں ناکام ہوجائیں گے اور امتحانات کا سارا مقصد ہی غارت ہوجائے گا۔

دنیا کی زندگی آخر کیلئے آزمائش ہے :

دنیا کی زندگی آخرت کی زندگی کے لیے ایک امتحان ہے، قرآن کریم کی سورہ الملک میں اشارہ ہوتا ہے:

الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ (٢)

” وہ ( اللہ ) جس نے موت اور زندگی کو پیدا یا تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔ اور وہ زبردست اور بہت بخشنے والا ہے۔ ”

( سورۃ الملک 67 آیت 2 )

جزا و سزا کی حکمتِ ربانی :

اگر اللہ تعالی ہر شخص کو معاف فرما دے اور سکی کو سزا نہ دے تو انسان اللہ تعالی کی اطاعت کیونکہ کریں گے؟ مجھے اس بات سے اتفاق ہے کہ اس صورت میں کوئی شخص جہنم میں نہیں جائے گا لیکن اس کے نتیجے میں اس دنیا کی زندگی ضرور جہنم بن جائے گی۔ اگر یہ طے ہوجائے کہ تمام انسانوں کو جنت ہی میں جانا ہے تو انسانوں کے اس دنیا میں آنے کا کیا مقصد باقی رہ جاتا ہے؟ اس صورت میں دنیاوی زندگی کو اخروی زندگی کے لیے ہرگز امتحان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

معافی صرف تائبین کیلئے :

اللہ صرف توبہ کرنے والے کو معاف کرتا ہے۔ اور اس شخص کو معاف فرماتا ہے جو اپنے کئے پر پشیمان ہو اور توبہ کرے۔ قرآن کریم کی سورۃ الزُمر میں ارشاد باری تعالی ہے:

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (٥٣)وَأَنِيبُوا إِلَى رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لا تُنْصَرُونَ (٥٤)وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ (٥٥)

” کہ دیجیئے: ( اللہ فرماتا ہے: ) اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے! تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ سب گناہ معاف کردیتا ہے۔ یقیناً وہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے ، اور تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو، اور اس کے فرماں بردار بن جاؤ، اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آئے، پھر تمہاری مدد نہ کی جاے گی۔ اور تم اس بہترین چیز کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہے۔ اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے جبکہ تمہیں اس کی خبر تک ہو۔

( سورۃ الزمر 39 آیات 53 تا 55)

پچھتاوے اور توبہ کی چار شرائط ہیں:

٭ اس امر سے اتفاق کرنا کہ ایک برے فعل ( گناہ ) کا ارتکاب کیا گیا۔

٭ اس سے فوری طور پر باز آجانا

٭ مستقبل میں دوبارہ کبھی اس کا ارتکاب نہ کرنا۔

٭ آخری بات یہ کہ اگر اس فعل کی وجہ سے کسی فرد کو نقصان پہنچا ہوتو اس کی تلافی کرنا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں