48

کیا گوشت کھانے سے مسلمان تشدد پسند نہیں ہو جاتے؟

گوشت مسلمانوں کو متشدد بناتا ہے ؟
“سائنس بتاتی ہے کہ انسان جو کچھ کھاتا ہے اس کا اثر اُس کےکے رویے پر پڑتا ہے، پھر اسلام مسلمانوں کو غیر نباتاتی خوراک، یعنی گوشت کھانے کی اجازت کیوں دیتا ہے؟ جبکہ جانوروں کا گوشت کھانے سے ایک شخص ظالم اور متشدد ہوسکتا ہے۔”
میں اس بات سے متفق ہوں کہ انسان جو کچھ کھاتا ہے اس کا اس پر اثر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام درندوں اور چیر پھاڑ کرنے والے جانوروں کا گوشت کھانے سے منع کرتا ہے۔ اور ان کے گوشت کو حرام قرار دیتا ہے، مثلاً شیر، چیتا وغیرہ جو پُر تشدد اور خونخوار جانور ہیں۔ ان جانوروں کا گوشت کھانے سے ایک شخص متشدد اور ظالم ہوسکتا ہے۔ اسلام صرف چرندوں یا سبزی خور جانوروں کا گوشت استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ جیسے گائے، بھیڑ، بکری وغیرہ جو کہ پُر امن اور فرمانبردار ہوتے ہیں۔ مسلمان پُر امن اور سدھائے جانے والے جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں کیونکہ وہ خود امن پسند اور صلح جو لوگ ہیں۔ نبی کریم (ﷺ) نے ہر اُس چیز سے منع فرمایا ہے جو بُری ہے قرآن کہتا ہے:
وَالإنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ (سورۃ الاعراف 7 آیت 157)
” وہ نبی کریم ( صلی اللہ علیہ وسلم) ان کو نیک کاموں کا حکم دیتے ہیں اور بُرے کاموں سے منع کرتے ہیں، اور وہ پاکیزہ چیزوں کو ان کے لیئے حلال بتاتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں۔ ” (سورۃ الاعراف 7 آیت 157)
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا (سورۃ الحشر 59 آیت 7)
“رسول تمھیں جو کچھ دیں، وہ لے لو اور جس سے روکیں، اس سے رُک جاؤ” ( سورۃ الحشر 59 آیت 7)
ایک مسلمان کے لیئے نبی (ﷺ) کا یہ فرمان کافی ہے کہ اللہ چاہتا ہے انسان وہ گوشت کھائیں جس کی اللہ نے انہیں اجازت دی ہے اور وہ مت کھائیں جس کی اجازت نہیں دی۔ درندوں کا گوشت حرام ہونے کی احادیث صحیحین کی بعض مستند حدیثوں میں سے ، جِن میں ابن عباس (رضی اللہ تعالی عنہ ) کی صحیح مسلم میں شامل ذبح سے متعلق حدیث نمبر 1934 بھی ہے۔ اور سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3232 تا 3234 میں نبی کریم (ﷺ) نے درج ذیل دو قسموں کے جانورحرام قرار دیئے ہیں :
ذی ناب: وہ جنگلی جانور جن کے دانت نوکیلئے ہوں، یعنی گوشت خور درندے اور جو بلی کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً: شیر ، چیتا ، کتا، بلی اور بھیڑیا وغیرہ، کترنے والے جانور ، جیسے چوہیا، چوہا وگیرہ، رینگنے والے جانور، مثلاً: سانپ اور مگر مچھ وغیرہ ( یہ سب ” ذی ناب ” یعنی نوکیلے دانتوں والے جانور ہیں )
ذی مخلب: پنجوں سے شکار کرنے والے تمام پرندے، جیسے گدھ، عقاب، کوے اور اُلو وغیرہ
نوٹ: ایسی کوئی سائنسی شہادت موجود نہیں جو ثابت کرتی ہو کہ غیر نباتاتی خوراک یعنی گوشت کھانے سے انسان متشدد ہوجاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں