56

کیا موجودہ قرآن اصلی ہے؟

کیا موجودہ قرآن اصلی ہے؟

” کیا ایسا نہیں کہ قرآن کے متعدد نسخے موجود تھے جنھیں حضرت عثمان (رضی اللہ تعالی عنہ ) کے حکم سے جلا ڈالا گیا اور سرف ایک نسخہ باقی رہنے دیا گیا اور اسی طرح کیا یہ درست نہیں کہ موجودہ قرآن کریم وہ ہے جس کی تدوین حضرت عثمان (رضی اللہ تعالی عنہ) نے کی اور یہ اصلاً وہ نہیں جو اللہ تعالی کی طرف سے وحی کیا گیا؟ ”

قرآن کریم کے بارے میں بعض بے بنیاد تصورات میں سے ایک تصور یہ ہے کہ تیسرے خلیفہء اسلام حضرت عثمان (رضی اللہ تعالی عنہ) نے بہت سے باہم متضاد نسخوں میں سے قرآن کریم کے ایک نسخے کی توثیق اور تدوین کی، حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم جو آج بطور کلام الہی دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدت کا مرکز ہے، وہی قرآن کریم ہے جو حضرت محمد (ﷺ) پر نال ہوا۔ آپ (ﷺ) نے اپنی ذاتی نگرانی میں اس کی کتابت کرائی اور بنفس نفیس اس کی توثیق فرمائی، آئیے! اس بے بنیاد تصور کی حقیقت کا جائزہ لیں جس کے مطابق دعوٰ کیا جاتا ہے کہ قرآن کی تدوین و توثیق حضرت عثمان (رضی اللہ تعالی عنہ ) کی طرف سے کی گئی۔

نبوی سر پرستی مین تدوینِ قرآن:

جب بھی نبی کریم (ﷺ) پر وحی نازل ہوتی، سب سے پہلے آپ اسے زبانی یاد کرتے اور اس کے بعد صحابہ (رضوان اللہ تعال علیھم اجمعین ) کو سناتے اور ہدایت فرماتے کہ جو اسے حفظ کرے گا۔ اللہ تعالی اس سے راضی ہوگا۔ آپ بلا تاخیر کاتبانِ وحی کو حکم دیتے کہ نازل ہونے والی وحی کو لکھ لیں۔

اس ے بعد بذاتِ خود ان سے سن کر اس کی توثیق فرماتے، نبی کریم (ﷺ) اُمی تھے اور لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے ، لہذا ہر نزولِ وحی کے بعد آپ (ﷺ) اپنے صحابہ کے سامنے اسے دہراتے تھے، وہ بذریعہ وحی نازل ہونے والی آیات لکھ لیا کرتے تھے اور نبی کریم (ﷺ) تحریر کردہ آیات کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے صحابہ سے فرماتے کہ جو کچھ لکھا گیا ہے پڑھ کر سناؤِ اگر اس میں کوئی غلطی ہوتی تو نبی کریم (ﷺ) اس کی نشاندہی فرماتے، اس کی تصحیح کراتے اور دوبارہ اس کی پڑتال فرماتے، اسی طرح آپ (ﷺ) اپنے صحابہ (رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین) کی حفظ کردہ آیاتِ قرآنی اور سورتیں ان سے سنا کرتے اور ان کی توثیق فرماتے تھے۔ اسی طریقے سے پورے قرآن کریم کی کتابت نبی کریم (ﷺ) کی ذاتی نگرانی میں انجام دی گئی۔

ترتیب قرآن وحی الہی کے مطابق ہے :

پورا قرآن کریم ساڑھے بائیس برس کی مدت میں تھوڑا تھوڑا کرکے حسب ضرورت نازل ہوا، نبی کریم (ﷺ) نے قرآن مجید کی تدوین وحی کی زمانی ترتیب کے مطابق نہیں فرمائی، قرآنی آیات اور سورتوں کی ترتیب وحی الٰہی کے تحت قائم کی گئی اور اللہ جانب سے اس کا حکم حضرت جبرائیل (علیہ السلام ) کے ذریعے سے نبی کریم (ﷺ) تک پہنچایا گیا۔ جب بھی نازل شدہ آیات صحابہ کرایم (رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین ) کو سنائی جاتیں تو نبی کریم (ﷺ) یہ بھی فرما دیتے کہ نازل ہونے والی آیات کو کون سی سورت میں اور کن آیات کے بعد شامل کیا جائے۔

ہر رمضان میں نبی کریم (ﷺ) قرآن کے نازل شدہ حصوں کی، ترتیبِ آیات کے ساتھ، دہرائی فرماتے اور توثیق جبرائیل امین کے ذریعے سے کیا کرتے تھے۔ آپ (ﷺ) کی وفات سے قبل آخری رمضان المبارک میں قرآن کریم کی تصدیق و توثیق دو مرتبہ انجام دی گئی۔ لہذا یہ بات بالکل واضح ہے کہ نبی کریم (ﷺ) نے اپنی زندگی میں خود قرآن کریم کی تدوین اور توثیق فرمائی اور یہ تدوین و توثیق قرآن مجید کی کتابت اور آپ کے متعدد صحابہ کرایم (رضوان اللہ تعالی علیھم اجعمین ) کے حفظ قرآن، دونوں صورتوں میں ہوئی۔

کتابتِ قرآن کی تکمیل عہدِ نبوی میں ہوئی :

نبی کریم (ﷺ) کی زندگی میں مکمل قرآن مجید، آیات کی صحیح ترتیب اور سیاق و سباق کے ساتھ موجود تھا، تاہم اس کی آیات الگ الگ چمڑے کے ٹکڑوں ، پتلے ہموار پتھروں، درختوں کے پتوں، کھجور کی شاخوں اور اونٹ کے شانوں کی ہڈیوں وغیرہ پر تحریر کی گئی تھیں۔

آپ (ﷺ) کے وصال کے بعد پہلے خلیفہ اسلام حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ تعالی عنہ ) کے حکم پر مختلف اشیاء پر لکھے گئے قرآن کے حصوں کو ایک چیز پر تحریر کرکے یکجا کردیا گیا اور یہ اوراق کی صورت میں تھا، اور ان اوراق کو ڈوریوں کے ساتھ باندہ دیا گیا تاکہ جمع شدہ قرآن کا کوئی حصہ کم نہ ہونے پائے، قرآن پاک کا یہ نسخہ حضرت ابو بکر (رضی اللہ تعالی عنہ ) کے پاس رہا حتی کہ انھوں نے وفات پائی، پھر حضرت عمر ( رضی اللہ تعالی عنہ ) کے دور حکومت میں ان کے پاس تھا، پھر یہ نسخہ ام المؤمنین حضرت حفصہ ( رضی اللہ تعالی عنہ ) کی تحویل میں رہا لیکن اس کی اشاعت نہیں ہوئی۔

(صحیح البخاری، فضائل القرآن، باب جمع القرآن، حدیث 4986 )​

نقول قرآن :

تیسرے خلیفہ حضرت عثمان (رضی اللہ تعالی عنہ) کے دور میں قرآن مجید کے بعض الفاظ کے املاء اور تلفظ کے بارے میں اختلاف نے سر اٹھایا۔ املاء اور تلفظ کے اختلاف سے معنی پر کوئی اثر نہ پڑتا تھا۔ مگر تو مسلم عجمیوں کے لیئے اس کی بڑی اہمیت ہوگئی۔ ہر جگہ لوگ اپنی قرأت کو صحیح اور دوسروں کی قرأت کو غلط قرار دینے لگے، اسی لیے حضرت عثمان (رضی اللہ تعالی عنہ) نے ام المؤمنین حضرت حفصہ (رضی اللہ تعالی عنہا ) سے قرآن مجید کا اصل نسخہ مستعار لیا جس کے متن کی توثیق نبی (ﷺ) نے فرمائی تھی۔ حضرت عثمان (رضی اللہ تعالی عنہ) نے اللہ کے رسول کے فرمان کے مطابق قرآن کی کتابت کرنے والے چار صحابیوں کو، جن کی قیادت زید بن ثابت (رضی اللہ تعالی عنہ ) کے سپرد ہوئی، یہ حکم دیا کہ وہ مکمل قرآن مجید کی متعدد نقول تیار کریں، حضرت عثمان (رضی اللہ تعالی عنہ ) نے یہ نقول مسلمانوں کے بڑے بڑے مراکز میں بھجوا دیں۔

بعض لوگوں کے پاس قرآن کے بعض حصوں کے ذاتی مجموعے موجود تھے، عین ممکن تھا کہ یہ نامکمل ہوں اور ان میں غلطیاں بھی موجود ہوں، چنانچہ حضرت عثمان (رضی اللہ تعالی عنہ ) نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ایسی تمام نقول نذر آتش کردیں جو اصل نسخہء قرآنی سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں تاکہ قرآن کا اصل متن محفوظ کیا جاسکے۔ نبی کریم (ﷺ) کے توثیق شدہ اصل قرآن کے متن سے نقل کردہ قرآن کی دو ایسی نقول آج بھی دستیاب ہیں، ان میں ایک تاشقند ( ازبکستان ) کے عجائب گھر میں اور دوسری استنبول ( ترکی ) کے توپ کاپی عجائب گھر میں محفوظ ہے۔

اِعرابِ قرآن :

قرآن مجید کے اصل مسودے میں حرکات اور اعراب کی علامتیں ظاہرنہیں کی گئی تھیں۔ ان میں تین اہم علامتوں کو اردو زبان میں زبر، زیر، پیش اور عربی مں فتحہ، ضمہ، اور کسرہ کہا جاتا ہے، شد، مد اور جزم وغیرہ ان کے علاوہ ہیں، عربوں کو قرآن مجید کے صحیح تلفظ کی ادائیگی کے لے ان علامات کی کوئی حاجت نہیں تھی کیونکہ عربی ان کی مادری زبان تھی، تاہم غیر عرب مسلمانوں کے لیئے اعراب کے بغیر قرآن کی صحیح تلاوت مشکل تھی، چنانچہ یہ علامتیں ، بنوامیہ کے پانچویں خلیفہ عبد الملک بن مروان کے عہد (66ھ تا 86ھ بمطابق 685ء تا 705ء) اور عراق میں حجاج کی گورنری کے دور میں قرآنی رسم الخط میں شامل کی گئیں۔

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید کا موجودہ متن جس میں حرکات اور اعراب شامل ہیں، نبئی کریم (ﷺ) کے دور کا اصل قرآن نہیں ہے لیکن وہ اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں کہ قرآن کا لغوی مطلب تلاوت یا بار بار پڑھی جانے والی چیز ہے۔ لہذا قطع نظر اس سے کہ رسم الخط مختلف ہے یا یہ کہ اس میں حرکات وغیرہ شامل کردی گئی ہیں، اہم بات قرآن کریم کی تلاوت کی صحت ہے، اگر عربی متن اور اس کا تلفظ وہی ہے جو ابتداء میں تھا تو لازمی طور پر اس کے معانی بھی وہی رہیں گے۔

حفاظتِ قرآن :

اللہ نے قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ خود فرمایا ہے، ارشاد باری تعالٰی ہے:

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (٩)

“بلا شبہ ہم ہی نے یہ ذکر (قرآن) اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔”

( سورۃ الحجر 15 آیت 9)​

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں