52

اللہ ایک ہے تو اس کے لیے جمع کا صیغہ کیوں؟

اللہ ایک ہے تو اس کے لیے جمع کا صیغہ کیوں؟

” قرآن مجید میں جہاں اللہ کلام کرتا ہے وہاں لفظ ” نَحنُ ” ہم ” استعمال کیا گیا ہے ، تو کیا اسلام متعدد دیوتاؤں پر ایمان رکھتا ہے ؟”

اسلام سختی کے ساتھ توحید کا مذہب ہے، یہ توحید پر ایمان رکھتا ہے اور اس بارے میں کوئی مصالحت گوارا نہیں کرتا۔ اسلامی عقیدے کے مطابق اللہ ایک ہے اور اپنی صفات میں بے مثل ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالی اکثر اپنے بارے میں لفظ ” نَحنُ ” ( ہم ) استعمال کرتا ہے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمان ایک سےزیادہ معبودوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

جمع کے صیغے دو ہیں :

متعدد زبانوں میں جمع کے صیغے کی دو قسمیں ہیں۔ ایک عددی جمع کا صیغہ ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ زیرِ بحث چیز تعداد میں ایک سے زیادہ ہے، جمع کا دوسرا صیغہ احترام کے لیئے بولا جاتا ہے۔ جیسا کہ انگریزی زبان میںملکہ انگلستان اپنا ذکر ” آئی ” (I) کی جگہ ” وی ” (We) کے لفظ سے کرتی ہے۔ یہ اندازِ تخاطب رائل پلورل (Royal Plural) یعنی ” شاہی صیغہء جمع ” کے الفاظ کے سے معروف ہے۔

بھارت کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی ہندی میں کہا کرتے تھے:

” ہم دیکھنا چاہتے ہیں ” گویا ہندی اور اردو میں “ہم ” رائل پلورل ہے۔

اسی طرح عربی میں جب اللہ قرآن میں اپنا ذکر کرتا ہے تو وہ اکثر عربی لفظ ” نحن ” استعمال فرماتا ہے۔ یہ لفظ عدد کی جمع کو نہیں بلکہ احترامی جمع کو ظاہر کرتا ہے۔ توحید اسلام کے ستونوں میں سے ایک ستون ہے، ایک اور صرف ایک معبود حقیقی کا وجود اور اس کا بے مثل ہونا وہ مضامین ہیں جن کا قرآن مجید میں متعدد بار ذکر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سورہء اخلاص میں ارشاد ہوا:

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (١)

” کہ دیجیے: وہ اللہ ایک ہے ”

(سورۃ الاخلاص 112 آیت 1)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں