47

کیا غیر مسلموں کو کافر کہنا کیا یہ گالی ہے؟

کیا غیر مسلموں کو کافر کہنا گالی ہے؟

“کافر ” اُسے کہتے ہیں جو جھٹلاتا ہے یا انکار کرتا ہے۔ “کافر” کا لفظ ” کفر ” سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں۔ جھٹلانا یا چھپانا، اسلامی اسطلاح میں ” کافر” کر مطلب ہے جو اسلام کی تعلیمات اور اس کی سچائی کو جھٹلاتا یا چھپاتا ہے۔ اور جو شخص اسلام کا انکار کرتا ہے اس کو غیر مسلم (Non Muslim) کہتے ہیں۔

کافر کی اصطلاح گالی نہیں :

اگر کوئی غیر مسلم خود کو ” غیر مسلم” یا “کافر” کہے جانے کو گالی سمجھتا ہے، جس کامطلب ایک ہی ہے ، تو یہ اس کی اسلام کے بارے میں غلط فہمی کی وجہ سے ہے۔ اسے اسلام اور اسلامی اصطلاحات کو سمجھنے کے صحیح ذرائع تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اور ” کافر ” کہے جانے کو گالی نہیں سمجھنا چاہیئے۔ ” غیر مسلم ” یا ” کافر ” کے الفاظ گالی نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے مابین محض خطِ امتیاز کھینچنے والی اصطلاحات ہیں، اس میں تحقیر کا پہلو نہیں ہے، فرق و امتیاز قائم کرنے والی ایک معروف اصطلاح کو گالی قرار دینا قلتِ علم کے علاوہ سوءِ فہم کی دلیل ہے۔

حاشیہ :

قرآن نے کسی غیر مسلم کو گالی نہیں دی بلکہ قرآن نے تو ہر غیر مسلم کو اس کے اصل مذہب کا لحاظ کرتے ہوئے مخاطب کیا ہے۔ جیسے یہود، نصارٰی ، مجوسی اور صابی ان سب کو نبی آخر الزماں (ﷺ) کی نبوت اور رسالت تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے ” کافر ” کے لفظ سے بھی مخاطب کیا ہے۔ اگر یہ گالی ہوتا تو اہل عرب خصوصاً قریش اس پر اعتراض اٹھاتے کہ یہ قرآن ہمین گالیاں دیتا ہے۔ ہم کیوں اس کی بات کو تسلیم کریں، قرآن میں دو جگہوں پر ایمان والوں کے ساتھ یہودیوں اور نصرانیوں اور صابیوں کا ذکر کرکے بتایا ہے کہ اللہ کے ہاں صاحب فضیلت وہ یہے جواس کے احکام بجا لائے ورنہ اپنے آپ کو مومن کہلانے والا بھی اللہ کے ہاں ناپسندیدہ ہو جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں