47

کیااسلام میں ذبح کرنے کا طریقہ ظالمانہ ہے ؟

اسلام میں ذبح کرنے کا طریقہ ظالمانہ ہے ؟
“مسلمان جانوروں کو ظالمانہ طریقے سے دھیرے دھیرے کیوں ذبح کرتے ہیں؟” جانور ذبح کرنے کا اسلامی طریقہ ” ذبیحہ ” غیر مسلموں کی اکثریت کے نزدیک تنقید کا باعث ہے، اگر کوئی مندرجہ ذیل نکات کو سمجھ لے تو وہ جان سکتا ہے کہ ذبح کرنے کا یہ طریقہ نہ صرف رحمدلانہ ہے بلکہ سائنسی لحاظ سے بھی بہترین ہے۔
ذبح کرنے کا اسلامی طریقہ
اسلامی طریقے سے جانور ذبح کرنے کے لیئے مندرجہ ذیل شرائط کا خیال رکھنا چاہیئے:
1۔ جانور کو تیز دھار چاقو یا چھری سے تیزی سے ذبح کرنا چاہیئے تاکہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو۔
2۔ ” ذبیحۃ ” عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے : ” ذبح کیا گیا” جانور کو ذبح کرنے کا عمل اس کا گلا، سانس کی نالی اور گردن میں موجود خون کی نالیاں کاٹ کر انجام دینا چاہیئے۔
3۔ سر اُتارنے سے پہلے خون کو مکمل طور پر بہہ جانے دینا چاہیئے، خون کی بیشتر مقدار نکالنے کی وجہ یہ ہے کہ خون میں جراثیم نشوونما پاسکتے ہیں۔ حرام مغز کو نہیں کاٹنا چاہیئے کیونکہ دِل کو جانے والے اعصاب کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور یوں دِل کی دھڑکن رک جانے کی وجہ سے خون مختلف نالیوں میں منجمد ہوجاتا ہے۔ خون میں جراثیم اور بیکٹیریا خون مختلف قسم کے جراثیم، بیکٹیریا اور زہروں (Toxics) کی منتقلی کا ذریعہ ہے ، اس لیے مسلمان کا ذبح کرنے کا طریقہ زیادہ صحت مند اور محفوظ ہے کیونکہ خون میں تمام قسم کے جراثیم ہوتے ہیں جو مختلف بیماریوں کا باعث بنتے ہیں، لہذا زیادہ سے زیادہ خون جسم سے نکل جانے دینا چاہیئے۔
ذبیحہ گوشت کی تازگی
جانور اسلامی طریقے سے ذبح کیا جائے تو خون کے ممکنہ حد تک شریانوں سے نکل جانے کی بدولت گوشت ذبح کرنے کے دوسرے طریقوں کی نسبت زیادہ دیر تک زیادہ دیر تک تازہ رہتا ہے۔ جانور کو تکلیف نہیں ہوتی۔ گردن کی شریانیں تیزی کے ساتھ کاٹنے سے دماغ کے اس عصب (Nerve) کی طرف خون کا بہاؤ رک جاتا ہے جو احساس کا ذمہ دار ہے۔ یوں جانور کو درد محسوس نہیں ہوتا۔ جانور جب مرتے وقت تڑپتا ہے یا ٹانگیں ہلاتا اور مارتا ہے تو یہ درد کی وجہ سے نہیں بلکہ خون کی کمی کے باعث عضلات کے پھیلنے اور سکڑنے کی وجہ سے ہوتا ہے اور خون کی کمی کا سبب خون کا جسم سے باہر کی طرف بہاؤ ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں