47

مسلمان فرقوں میں کیوں بٹےہوئے ہیں ؟

مسلمان فرقوں میں کیوں بٹےہوئے ہیں ؟

“جب مسلمان! ایک ہی قرآن کی پیروی کرتے ہیں تو ان میں اتنے زیادہ فرقے اور مکاتب فکر کیوں ہیں ؟ ”

دراصل مسلمان آج تقسیم ہوگئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اسلام میں ایسی تقسیم کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام اپنے پیروکاروں میں اتحاد کو فروغ دینے پر یقین رکھتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ربانی ہے:۔

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلا تَفَرَّقُوا 

” اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مظبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ ”

( سورۃ آل عمران 3 آیت 105)​

اس آیت میں اللہ کی کون سی رسی کا ذکر ہے ؟ یہ قرآن عظیم ہے ، یہ قرآن ہی اللہ کی رسی ہے جسے تمام مسلمانوں کو مضبوطی سے تھام لینا چاہیئے۔ اس آیت میں دوہرا حکم دیا گیا ہے۔ ” سب مل کر مضبوطی سے تھام لو۔ “ کے علاوہ یہ بھی حکم ہے کہ ” تم جدا جدا نہ ہو جاؤ” قرآن میں مزید فرمایا گیا ہے۔

أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ 
” اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو۔” ​
( سورۃ النساء 4 آیت 59)​

لہذا تمام مسلمانوں کو قرآن اور مستند احادیث کی پیروی کرنی چاہیئے اور آپس میں تقسیم نہیں ہونا چاہیئے۔

فرقہ بندی اللہ کی نافرمانی ہے :

قران کریم میں ارشادِ باری تعالی ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ

“(اے نبی!) بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو فرقوں میں تقسیم کیا اور وہ گروہوں میں بٹ گئے۔ آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں، بے شک ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے، پھر وہ (آخرت میں ) ان کو ان کے عملوں سے آگاہ کرے گا جو وہ کرتے رہے تھے۔

(سورۃ الانعام 6 آیت 159)​

اس آیت میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ مسلمان کو ایسے لوگوں سے علیحدہ رہنا چاہیئے جنھوں نے دین کو فرقوں میں تقسیم کررکھا ہے۔

لیکن جب کسی مسلمان سے کوئی پوچھتا ہے کہ تم کون ہو ؟ تو عام طور پر یہی جواب دیا جاتا ہے۔ ” میں سنی ہوں “ یا ” میں شیعہ ہوں ” کچھ اپنے آپ کو حنفی، شافعی، مالکی، اور حنبلی کہتے ہیں، کوئی کہتا ہے میں دیو بندی ہوں اور کوئی بتاتا ہے کہ میں بریلوی ہوں۔

ہمارے نبی (ﷺ) مسلمان تھے :

ایسے مسلمان سے کوئی یہ پوچھ سکتا ہے کہ ” ہمارے پیارے نبی (ﷺ) کیا تھے؟ کیا وہ حنبلی، شافعی، حنفی یا مالکی تھی؟ ” جواب ملے گا” بالکل نہیں، وہ اللہ کے ان تمام پیغمبروں کی طرح مسلمان تھے جو ان سے پہلے آئے تھے۔”

قرآن بیان کرتا ہے کہ حضرت عیسی (علیہ السلامم ) مسلمان تھے، جب انہنں نے اپنے حواریوں سے کہا۔

مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ

” اللہ کی راہ میں کون میرا مدد گار ہے؟ ”

(سورۃ آل عمران 3 آیت 52)​

تو حواریوں نے کہا:

نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ 

” ہم اللہ ( کی راہ میں آپ ) کے مدد گار ہیں۔ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ ”

( سورۃ آل عمران 3 آیت 52)​

ان الفاظ سے واضح ہے کہ حضرت عیسی (علیہ السلام ) اور ان کے پیروکاروں مسلمان ہی تھے۔

اسی طرح ارشاد باری تعالی ہے ۔

مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلا نَصْرَانِيًّا وَلَكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُسْلِمًا

” ابراہیم (علیہ السلام ) نہ تو یہودی تھے، نہ عیسائی بلکہ وہ تو خالص مسلمان تھے۔

( سورۃ آل عمران 3 آیت 67)​

قرآن کا حکم :

اسلام کے پیروکار اس امر کے پابند ہیں کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہیں، اگر کوئی شخص اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے تو جب اس سے پوچھا جائے کہ تم کون ہوتو اسے کہنا چاہیئے ” میں مسلمان ہوں ” حنفی اور شافعی وغیرہ نہیں کہنا چاہیئے قرآن کی سورۃ فُصلت ( حم سجدہ ) میں ہے:

وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ

” اور اس سے زیادہ اچھی بات والا کون ہے جو ( لوگوں کو ) اللہ کی طرف بُلائے اور نیک کام کرنے کا کہے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں۔ ”

( سورۃ فصلت 41 آیت 33)​

دوسرے لفظوں میں قرآن کی یہ آیت یہ کہنے کا حکم دیتی ہے کہ ” میں مسلمان ہوں۔ “

نبی کریم (ﷺ) نے 7 ھجری میں غیر مسلم حکمرانوں کو اسلام کی دعوت قبول کرنے کے خطوط لکھوائے، روم ،مصر اور حبش کے عیسائی حکمرانوں کے نام خطوط میں آپ نے سورۃ آل عمران کی آیت 64 بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھوائے:

فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ

” تم کہو: گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں۔”

( سورۃ آل عمران 3 آیت 64)​

آئمہ اسلام کا احترام :

ہمیں اسلام کے ائمہ کا احترام کرنا چاہیئے، ان میں امام ابو حنیفہ، امام ابویوسف، امام شافعی، امام احمد بن جنبل اور امام مالک اور دیگر ائمہ ( رحمۃ اللہ علیہ ) شامل ہیں۔ وہ سب سے بڑے عالم اور فقیہ تھے، اللہ تعالی ان کو ان کی تحقیق اور محنت کاصلہ دے، اگر کوئی امام ابوحنیفہ یا امام شافعی ( رحمۃ اللہ تعالی ) کے نظریات اور تحقیق سے متفق ہو تو اس پر کسی شخص کو اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔ لیکن جب آپ سے کوئی پوچھے کہ ” تم کون ہو ؟ ” تو اس کا جواب صرف یہ ہونا چاہیئے کہ ” میں مسلمان ہوں۔”

کچھ لوگ سنن ابوداؤد میں حضرت معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ ) کی حدیث کا حوالہ دے سکتے ہیں۔ اس میں نبی (ﷺ نے فرمایا:

” وان ھذہِ الملۃ ستفترق علی ثلاث و سبعین: ثنتان و سبعون فی النار و واحدۃ فی الجنۃ، وھی الجماعۃ “

” بے شک یہ ملت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی۔ بہتر (72) فرقے دوزخ میں جائیں گے۔ اور ایک جنت میں داخل ہوگا اور وہ ” الجماعۃ ” ( یعنی صحابہ کے منہج پر قائم گروہ ) ہوگا۔

( سنن ابی داؤد، السنۃ، باب شرح السنۃ، حدیث 4597 )​

حدیث یہ بتاتی ہے کہ نبی کریم (ﷺ)نے تہتر فرقے بننے کی پیش گوئی کی۔ آپ نے یہ نہیں کہا کہ مسلمانوں کو فرقوں میں تقسیم ہونے کی شعوری کوشش کرنی چاہیئے، قرآن عظیم ہمیں فرقے بنانے کی ممانعت کرتا ہے جو لوگ قرآن پاک اور صحیح حدیث کی تعلیمات کی پیروی کرتے ہیں اور فرقے نہیں بناتے اور نہ لوگوں کو تقسیم کرتے ہیں۔ وہی صحیح راستے پر چلنے والے ہیں۔

جامع ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عمر (رضی اللہ تعالی ) کی حدیث کے مطابق نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا:

“و تفترق امتی علی ثلاث و سبعین ملۃ، کلھم فی النار الا ملۃ واحدۃ، قال: ومن ھی یا رسول اللہ؟ قال: ما انا علیہ و اصحابی ۔

“میری امت تہتر ( 73 ) وں میں بٹ جائے گی اور ان میں سے تمام گروہ جہنم میں جائیں گے سوائے ایک گروہ کے۔ ” راوی نے پوچھا کہ یہ کون سا گروہ ہوگا؟ جواب دی: ” وہ گروہ جو اس راستے پر ہے جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ ”

قرآن عظیم کی بہت سی آیات میں کہا گیا ہے:

 اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو “ ایک سچے مسلمان کو قران اور صحیح حدیث کی پیروری کرنی چاہیئے، وہ کسی ھی عالم یا امام سے متفق ہوسکتا ہے۔ جب تک اس کے افکار و نظریات قرآن اور حدیث کی تعلیمات کے مطابق ہوں، اور اگر اس کے نظریات اللہ تعالی کے احکامات اور نبی (ﷺ)کی سنت کے برعکس ہوں تو پھر ان کی اہمیت نہیں، چاہیئے وہ کوئی کتنا ہی بڑا عالم یا دینی رہنما ہو۔

اگر تمام مسلمان قران کریم ہی کو سمجھ کر پڑھیں اور صحیح حدیث سے وابستہ رہیں تو ان شاء اللہ تمام اختلافات مٹ جائیں گے اور ہم ایک متحد اُمت بن جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں