50

کافروں کو مکہ جانے کی اجازت کیوں نہیں؟

کافروں کو مکہ جانے کی اجازت کیوں نہیں؟

” غیر مسلموں کو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ جانے کی اجازت کیوں نہیں؟ ”

یہ صحیح ہے کہ قانون کے تحت غیر مسلموں کو مکہ اور مدینہ جانے کی اجازت نہیں، مندرجہ ذیل نکات اس پابندی کی وجوہ کو واضح کریںگے۔

ممنوعہ علاقہ :

میں بھارت کا شہری ہوں، پھر بھی مجھے کئی علاقوں ، مثلاً فوجی چھاؤنی کی حدود میں جانے کی اجازت نہیں، ہر ملک میں کئی علاقے ایسے ہوتے ہیں جہاں اس ملک کے عام شہری کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ وہ لوگ جو باقاعدہ فوج میں شامل ہوں یا جن کا تعلق ملک کے دفاع سے ہو، صرف ان کو جانے کی اجازت ہوتی ہے اسی طرح اسلام بھی تمام انسانوں کے لیے عالمگیر مذہب ہے، اسلام کی چھاؤنی یا ممنوعہ علاقہ صرف دو مقدس شہر مکہ اور مدینہ ہیں، یہاں صرف وہ لوگ جو اسلام پر ایمان رکھتے ہیں، اور اسلام کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں وہی قدم رکھ سکتے ہیں۔

ایک عام شہری کے لیے یہ بات غیر منطقی ہوگی کہ وہ فوجی چھاؤنی میں داخلے پر پابندی کے سلسلے میں اعتراض کرے، اسی طرح غیر مسلموں کا یہ اعتراض بھی قطعی غلط ہے کہ مکہ اور مدینہ میں ان کے داخلے پر پابندی کیوں ہے۔

ویزا پالیسی :

جب کوئی شخص کسی دوسرے ملک کا سفر کرتا ہے ، سب سے پہلے اسے ویزے کی درخواست دینی پڑتی ہے جو گویا اس ملک میں داخل ہونے کا اجازت نامہ ہے، ہر ملک کے اپنے قوانین و ضوابط اور ویزا جاری کرنے کی شرائگ ہیں، اگر ان کے معیار اور شرائط کو پورا نہیں کیا جاتا تو ان کو داخلے کی اجازت نہیں ملتی۔

ویزا جاری کرنے والے ملکوںمیں سب سے زیادہ سخت قوانین امریکہ کے ہیں، خاص طور پر جب تیسیری دنیا کے لوگوں کو ویزا دینے کا معاملہ ہو ویزا حاصل کرنے سے پہلے ان کی بہت سی شرائط کو پورا کرنا پڑتا ہے۔

جب میں سنگاپور گیا تو ان کے امیگریشن فارم پر درج تھا کہ وہاں منشیات لے جانے والوں کے لیئے موت کی سزا مقرر ہے اور ہرایک کو اس قانون کی پابندی کرنا پرے گی۔ میں یہ نہیں کہ سکتا کہ موت کی سزا وحشیانہ سزا ہے۔ اگر میں ان کی شرائط سے متفق اور ان کے مطلوبہ معیار پر پورا اترتا ہوں تو مجھے وہاں جانے کی اجازت ہے۔

کسی بھی انسان کے لیے مکہ اور مدینہ جانے کی بنیادی شرط یا ویزا یہ ہے کہ وہ اپنی زبان سے کہے،

” لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ “​

جس کے معنی ہیں :

” اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ “​

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں