49

سؤر کا گوشت حرام کیوں ہے؟

سؤر کا گوشت حرام کیوں ہے؟

” سؤر کا گوشت کھانا اسلام میں کیوں منع ہے؟ ”

اسلام میں سؤر کا گوشت حرام ہے، یہ حقیقت بہت واضح ہے ، مندرجہ ذیل نکات اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ کیوں حرام ہے:

قرآن میں سؤر کے گوشت کی ممانعت :

قرآن میں سؤر کا گوشت کھانے سے کم و بیش 4 جگہ منع فرمایا گیا ہے۔ یہ ممانعت ان آیات 2/173، 5/3، 6/145، اور 16/115 میں آئی ہے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے۔:

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ (سورۃ المائدہ 5 آیت 3)

” تمہارے لیئے حرام کیا گیا ہے۔ مردہ جانور اورخون اور سؤر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ ”

( سورۃ المائدہ 5 آیت 3)​

یہ آیات مسلمانوں کو مطمئن کرنے کیلئے کافی ہیں کہ سؤر کا گوشت کیوں منع کیا گیا ہے، تاہم عیسائی اپنی مذہبی کتاب کے حوالے سے قائل ہوسکتے ہیں۔

بائبل میں سؤر کے گوشت کی ممانعت :

بائبل میں عہد نامہ عتیق کی کتاب احبار (Leviticus) میں لکھا ہے۔

” اور سؤر نہ کھانا کیونکہ اس کے پاؤں الگ اور چرے ہوئے ہیں۔ ہر چند وہ جگالی نہیں کرتا۔ وہ تمہارے لیے ناپاکک ہے، تم ان کا گوشت نہ کھانا اور ان کی لاشوں کو بھی نہ چھونا، وہ تمہارے لیئے ناپاک ہیں۔ (احبار: 11/8-7)

سؤر کا گوشت بائبل کی کتاب استثناء (Deuteronomy) میں بھی منع کیا گیا ہے:

” اور سؤر تمہارے واسطے ناپاک ہے کہ اس کے پاؤں تو چرے ہوتے ہیں مگر وہ جگالی نہیں کرتا۔ تم ان کا گوشت نہ کھانا نہ ان کی لاش کو چھونا۔ ” (استثناء: 14/8)

اسی طرح بائبل کی کتاب یسعیاہ (Isaiah) بات 65 فقرہ2 تا 5 میں بھی سؤر کا گوشت کھانے سے منع کیا گیا ہے۔

سؤر کا گوشت 70 بیماریوں کا سبب بنتا ہے:

دوسرے غیر مسلم اور دہریئے اس حقیقت کو اُسی وقت تسلیم کریں گے جب ان کو عقلی دلیل اور سائنس کی بنیاد پر سمجھایا جائے گا کہ سؤر کا گوشت مختلف قسم کی کم از کم ستر بیماریوں کا باعث بنتا ہے ۔ اسے کھانے والے کے معدے اور آنتوں میں کئی قسم کے کیڑے پیدا ہوسکتے ہیں۔ مثلاً راؤنڈ ورم ( پیٹ کے کیڑے)، پن ورم، ہک ورم، ان میں سے خطرناک ٹیپ ورم یا Taenia Solium ہے جس کو عام زبان میں کدو دانہ کہتے ہیں۔ یہ آنتوں میں ہوتا ہے اور بہت لمبا ہوتا ہے، اس کا انڈا خون میں شامل ہوکر تقریباً تمام اعضاء تک پہنچ جاتا ہے۔ اگر یہ دماغ میں چلا جائے تو یاداشت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگر دِل میں پہنچ جائے تو دل کے دورے کا باعث بنتا ہے۔ اگر آنکھ میں داخل ہوجائے تو اندھا پن پیدا کرسکتا ہے۔ل اگر جگر میں داخل ہوجائے تو جگر کو نقصان پہنچا سکتا ہے، غرضیکہ یہ جسم کے تقریباً تما حصوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ایک غلط خیال یہ ہے کہ اگر صور کا گوشت اچھے طریقے سے پکایا جائے تو مضر کیڑوں کے انڈے مر جاتے ہیں۔ امریکہ میں ایک تحقیقی جائزے سے پتہ چلا کہ 24 افراد جو Trichura-Tichurasis نامی بیماری میں مبتلاء ہوئے، ان میں سے 22 نے سؤر کا گوشت اچھی طرح پکایا تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کے گوشت میں موجود جراثیم کے انڈے تیز درجہ حرارت پر پکانے سے بھی نہیں مرتے۔

سؤر کا گوشت چربی پیدا کرتاہے :

سؤر کے گوشت میں عضلات ساز مادہ کم اور حد سے زیادہ چربی ہوتی ہے۔ یہ چربی خون کی نالیوں میں جم جاتی ہے جو فالج اور دل کے دورے کا باعث بنتی ہے، یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ 50 فیصد امریکی ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔

زمین کا غلیظ ترین جانور :

سؤر روئے زمین کا غلیظ ترین جانور ہے، یہ گوبر ، فضلے اور گندگی پر پھلتا پھولتا ہے۔ اسے اللہ تعالی نے غلاظت خور اور سب سے زیادہ گندگیی پر گزارہ کرنے والا جانور بنایا ہے۔ دیہات عموماً لیٹرینز اور بیت الخلاء نہیں ہوتے، اس لیے لوگ کھلی جگہوں پر رفع حاجت کرت ہیں۔ اور اکثر اس غلاظت کو سؤر ہی چٹ کرتے ہیں۔

کوئی یہ دلیل دے سکتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک جیسے آسٹیلیا وغہیرہ میں سؤروں کو بڑی صاف ستھری جگہ پالا جاتاہے۔ ان صاف جگہوں پر بھی ان کو باڑوں میں رکھا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کہ سؤروں کو کتنی ہی صاف ستھری جگہ پر رکھا جائے، اس سے کچھ فرق نہں پڑتا، یہ فطرتاً گندے ہیں۔ وہ نہ صرف اپنا بلکہ اپنے ساتھ والے کا فضلہ بھی کھا جاتے ہیں۔

سؤر بے شرم جانور ہے :

خنزیر زمین پر پایا جانے والا سے زیادہ بے شرم جانور ہے۔ یہ واحد جانور ہے جو دیگر سؤروں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اس کی ساتھی سؤرنی کے ساتھ جنسی فعل کریں۔ امریکہ میں اکثر لوگ اس کا گوشت کھاتے ہیں، کئی دفعہ محفلِ رقض ( ڈانس پارٹی ) کے بعد وہ اپنی بیویاں بدل لیتے ہیں، اور کہتے ہیں۔ ” تم میری بیوی کے ساتھ سو جاؤ اور میں تمہاری بیوی کے ساتھ ہمبستر ہوں گا۔ ” ظاہر ہے کہ جو لوگ سؤر کا گوشت کھائیں گے وہ اسی طرح کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں