23

کیا اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ؟

کیا اسلام بزورِ شمشیر پھیلا ؟

” اسلام کو امن و سلامتی کا مذہب کیسے کہا جاسکتا ہے جبکہ یہ تلوار کے زور سے پھیلا ؟ ”

کچھ غیر مسلم عام طور پر اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اسلام کے ماننے والے اتنی زیادہ تعداد میں نہ ہوتے اگر اسلام تلوار کے ذریعے سے نہ پھیلا ہوتا۔ مندرجہ ذیل نکات یہ حقیقت واضح کریں گے کہ اسلام بزورِ طاقت ہرگز نہیں پھیلا بلکہ اپنی عالمگیر صداقت، عقل پر مبنی تصورات اور سچائی پر مبنی دلائل کی بدولت اسلام کو فروغ ملا ہے۔

اسلام کا مطلب :

اسلام لفظ “سلام ” سے نکلا ہے۔ جس کا مطلب ہے سلامتی اور امن ، اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اپنے آپ کو اللہ کی رضا کے آگے جھکا دیا جائے۔ پس اسلام سلامتی اور امن کا مذہب ہے جو اپنے آپ کو اللہ کی مرضی کے آگے جھکا دینے کی بدولت نصیب ہوتا ہے۔

طاقت کا استعمال :

دنیا میں ہر انسان امن اور ہم آہنگی قائم رکھنے کے حق میں نہیں ہوتا یا بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے مفادات کے لیے امن و امان کو خراب کرتے ہیں۔ لہذا بعض اوقات امن قائم رکھنے کے لیئے طاقت کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ے کہ جرائم کے سد باب کے لیے پولیس کا نظام قائم کیا گیا ہے جو مجرموں اور سماج دشمن عناصر کے خلاف طاقت استعمال کرتی ہے تاکہ ملک میں امن و امان قائم رہے، اسلام امن کا خواہاں ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اپنے ماننے والوں کو ظلم و استحصال کے خلاف لڑنے کا حکم دیتا ہے۔ بعض اوقات ظلم سے لڑنے اور اسے ختم کرنے کے لیے طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلام میں طاقت کا استعمال صرف ظلم کے خاتمے ، امن کے فروغ اور عل کے قیام کے لیے ہے اور اسلام کا یہ پہلو سیرت النبی (ﷺ) خلفائے راشدین (رضی اللہ تعالی عنھم ) کے عہد کے ادوار سے بخوبی آشکار ہوتا ہے۔

مؤرخ ڈی لیسی اولیری کی رائے :

اس غلط نظریے کا جواب کہ اسلام بزورِ شمشیر پھیلا، ایک انگریز مؤرخ ڈی لیسی اولیری نے اپنی کتاب “Islam at the Cross Road” صفحہ 8 میں بہترین انداز میں دیا ہے:

” تاریخ بہرحال یہ حقیقت واضح کردیتی ہے کہ مسلمانوں کے متعلق روایتی تعصب پر مبنی کہانیاں کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا اور اس کے ذریعے سے جنونی مسلمان دنیا پر چھا گئے، سب نامعقول اور فضول افسانے ہیں جنھیں مؤرخین نے بار بار دُوہرایا ہے۔”

سپین میں مسلمانوں کے 800 برس :

مسلمانوں نے سپین میں تقریباً 800 سال حکومت کی اور وہاں لوگوں کو مسلمان کرنے کے لیے کبھی تلوار نہیں اٹھائی، بعد میں صلیبی عیسائی برسر اقتدار آئے تو انہوں نے وہاں سے مسلمانوں کا صفایا کردیا اور پھر سپین مین ایک بھی مسلمان ایسا نہ تھا جو آزادی سے ” اذان ” دے سکے۔

تقریباً ڈیڑہ کروڑ عرب نسلی عیسائی ہیں :

مسلمان دنیائے عرب پر 1400 سال سے حکمران ہیں۔ اس کے باجود ابھی تک 14 ملین یعنی ایک کروڑ چالیس لاکھ عرب ایسے ہیں جو نسلوں سے عیسئی ہیں۔ جیسے مصر کے قبطی عیسائی ، اگر اسلام تلوار یا طاقت کے زور سے پھیلا ہوتا تو عرب میں ایک بھی عیسائی نہ ہونا۔

بھارت میں غیر مسلم :

ہندوستان میں مسلمانوں نے تقریباً ایک ہزار سال حکومت کی۔ اگر وہ چاہتے تو بذریعہ طاقت ہندوستان کے ہر غیر مسلم کو مسلمان کر لیتے۔ آج بھارت کی 80 فیصد آبادی غیر مسلموں کی ہے۔ یہ تمام غیر مسلم کیا اس بات کی زندہ شہادت نہیں ہیں کہ اسلام تلوار سے نہیں پھیلا۔

انڈونیشیا اور ملائشیا میں اسلام :

دُنیا بھر کے ممالک میں سے انڈونیشیا میں مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، اسی طرح ملائشیا میں بھی اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ کون سی اسلامی فوج انڈونیشیا اور ملائشیا گئی تھی؟

افریقہ کا مشرقی ساحل :

اسی طرح اسلام بہت تیزی سے براعظم افریقہ کے مشرقی ساحل پر پھیلا ۔ مستشرقین سے پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر اسلام تلوار کے ذریعے سے پھیلا تو کونسی اسلامی فوج افریقہ کے مشرقی ساحل پر گئی تھی۔

تھامس کار لائل کی دلیل :

مشہور مؤرخ تھامس کار لائل اپنی کتاب ” ہیرو اینڈ ہیرو ورشپ ” میں اسلام کے پھیلاؤ کے بارے میں مغربی تصورات کی تردید کرتے ہئے کہتا ہے:

“اسلام کے فروغ میں تلوار استعمال ہوئی لیکن یہ تلوار کیسی تھی؟ ایک نظریہ تھا۔ ہرنیا نظریہ شروع میں فردِ واحد کے نہاں خانہ دماغ میں جنم لیتا ہے۔ وہاں وہ نشونما پاتا رہتا ہے۔ اس پر دنیا بھر کا صرف ایک ہی آدمی یقین رکھتا ہے۔ گویا ایک شخص فکری لحاظ سے تمام انسانوں سے مختلف ہوتا ہے۔ اگر وہ ہاتھ میں تلوار لے اور اس کے ذریعے سے اپنا نظریہ پھیلانے کی کوشش کرے تو یہ کوشش بے سود رہے گی۔ لیکن اگر آپ اپنے نطریے کی تلوار سے سرگرمِ علم رہیں تو وہ نظریہ دُنیا میں اپنی قوت سے خود بخود پھیلتا چلا جائے گا۔”

دین میں کوئی جبر نہیں :

یہ درست نہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔ مسلمان فروغ اسلام کے لیے تلوار استعمال کرنا چاہتے بھی تو استعمال نہیں کرسکتے تھے کیونکہ قرآن مجید مندرجہ ذیل آیت میں کہتا ہے۔

لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ (سورۃ البقرہ 2 آیت 256)

” دین میں کوئی جبر نہیں۔ ہدایت گمراہی سے واضح ہوچکی ہے۔ ”

حکمت کی تلوار :

فروغِ اسلام کا باعث دراصل حکمت کی تلوار ہے۔ یہ ایسی تلوار ہے جو دل اور دماغ فتح کرلیتی ہے۔ قرآن کہتا ہے ۔ :

ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (سورۃ النحل 16 آیت 125)

” لوگوں کو اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور بہترین وعظ کے ساتھ بلائیں اور ان سے بہترین طریقے سے بحث کریں۔”

نصف صدی میں عالمی مذاہب کے پیروکاروں میں اضافہ :

1986ء میں ریڈرز ڈائجسٹ کے ایک مضمون میں 1934ء سے 1984ء تک نصف صدی میں دنیا کے بڑے بڑے مذاہب کے پیروکاروں کی تعدار میں فیصد اضافے کے اعداد و شمار دئے گئے تھے۔ یہ مضمون ” صاف سچ ” (The Plain Truth) نامی جریدے میں بھی چھپا۔ ان میں سرفہرست اسلام تھا جس کے پیروکاروں کی تعداد میں 235 فیصد اضافہ ہوا اور عیسائیت میں اضافہ صرف 47 فیصد رہا۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ اس صدی میں کون سی مذہبی جنگ لڑی گئی جس نے لاکھوں لوگوں کو مسلمان کردیا۔

امریکہ اور یورپ میں روز افزوں مذہب اسلام ہے :

آج یورپ اور امریکہ میں سب سے زیادہ بڑھنے والا مذہب اسلام ہے۔ وہ کون سی تلوار ہے جو لوگوں کی اتنی بڑی تعداد میں مسلمان ہونے پر مجبور کررہی ہے؟ یہ تلوار اسلام کا سچا عقیدہ ہے۔

ڈاکٹر جوزف آدم پیٹرسن کا اعلانِ حقیقت :

ڈاکٹر جوزف آدم پیٹرسن صحیح کہتے ہیں:

“جو لوگ فکر مند ہیں کہ ایٹمی ہتھیار ایک دن عرب لوگوں کے ہاتھ لگ جائیں گے ، وہ اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ اسلامی بم تو پہلے ہی گرایا جاچکا ہے۔ یہ اس دن گرا تھا جب محمد (ﷺ) پیدا ہوئے تھے۔ ”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں