57

کیا حجاب عورت کا استحصال اور حق تلفی نہیں؟

کیا حجاب عورت کا استحصال نہیں؟

“اسلام عورت کو پردے میں رکھ کر اس کی حیثیت کیوں گھٹاتا ہے؟ ”

سیکولر میڈیا میں اسلام میں عورت کی حیثیت کو اکثر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حجاب یا اسلامی لباس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ عورت اسلامی شریعت کی محکوم اور باندی ہے۔ اس سے پہلے کہ اسلام کے حجاب کے حکم کا تجزیہ کریں، ہمیں اسلام سے پہلے کے معاشروں میں عورت کی حیثیت کا مطالعہ کرنا ہوگا۔

زمانہ قدیم میں عورت کی حیثیت :

تاریخ سے لی گئی درج ذیل مثالیں واضح کرتی ہیں کہ قدیم تہذیبوں میں عورت کی حیثیت نہایت بے وقعت تھی اور اسے محض شہوانیی جذبات کی تسکین کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا حتی کہ اسے بنیادی انسانی شرف و عزت سے بھی محروم کردیا گیا تھا۔

بابل کی تہذیب:

اس تہذہب میں عورتوں کو گھٹیا سمجھا جاتا اور بابلی قوانین کے تحت وہ تمام حقوق سے محروم تھیں۔ اگر ایک آدمی قتل کا مرتکب ہوتا تو بجائے اس کے کہ اُسی کو سزا ملے، اس کی بیوی کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا۔

یونانی تہذیب:

یونانی کو قدیم تہذیبوں میں بہترین اور شاندار تہذیب سمجھا جاتا ہے۔ اس “شاندار” تہذہب میں عورت تمام حقوق سے محروم تھی اور اسے حقیر سمجھا جاتا تھا۔ یونانی دیومالائی کہانیوں میں ایک خیالی عورت جسے ” پنڈورا” کہا جاتا تھا، اُسے انسانوں کی بدقسمتی کی بنیادی وجہ خیال کیا جاتا تھا۔ یونانی لوگ عورت کو مرد سے بہت کمتر سمجھتے تھے۔ اگرچہ عورت کی دوشیزگی کو قیمتی سمجھا جاتا اور عورتوں کو اس حوالے سے خاصی اہمیت دی جاتی تھی لیکن بعد میں یونانی تہذیب پر بھی انانیت اور جنسی بے راہ روی چھا گئی اور اس تہذیب میں ذوقِ طوائفیت عالم ہوگیا۔

رومی تہذیب:

جب رومی تہذیب اپنی “عظمت” کی بلندیوں پر تھی، ایک مرد کو یہ اختیار بھی حاصل تھا کہ وہ اپنی بیوری کی جان لے سکتا تھا، طوائف بازی اور عریانیت اس معاشرے میں عام تھی۔

مصری تہذیب:

یہ تہذیب عورت کو مجسم برائی سمجھتی اور اُسے شیطنت کو علامت گردانتی تھی۔

اسلام سے پہلے عرب کی تہذیب:

عرب میں اسلام آنے سے پہلے عورت کو بہت حقیر سمجھا جاتا تھا اور جب لڑکی پیدا ہوتی تو اُسے بالعموم زندہ دفن کردیا جاتا۔

اسلام نے عورت کو مساوی درجہ دیا :

اسلام نے عورت کو برابری کا درجہد یا۔ اس کے حقوق کا تیون 1400 سال پہلے کردیا اوروہ توقع کرتا ہے کہ عورت اپنا یہ درجہ برقرار رکھے۔

مردوں کا حجاب :

لوگ عام طور پر “حجاب ” کو عورتوں کو تناظر میں زیر بحث لاتے ہیں لیکن قرآن عظیم میں اللہ تعالی مردوں کے حجاب کو عورتوں کے حجاب سے پہلے بیان کرتا ہے۔ سورۃ نور میں بیان کیا گیا ہے:

قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (٣٠)

” اور ایمان والوں سے کہ دیجیئے کہ وہ اپنی نگاہوں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، یہ ان کیلئے پاکیزگی کی بات ہے، اور اللہ اس کی خوب خبر رکھتا ہے۔ جو کام تم کرتے ہو۔

( سورۃ النور 24 آیت 30)​

لہذا جب ایک مرد کی نگاہ کسی غیر محرم خاتون پر پڑے تو اسے اپنی نظر جھکا لینی چاہیئے۔

سورۃ النور کی اگلی آیت میں ہے:

وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الإرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (٣١)

” اور ایمان والی عورتوں سے کہ دیجیئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنے سنگھار کی نمائش نہ کریں۔ سوائے اس ککے جو ( از خود ) ظاہرہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنے سنگھار کی نمائش نہ کریں۔ مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ دادا پر یا اپنے شوروں کے باپ دادا پر یا اپنے بیٹیوں پر یا اپنے شوہروں کے ( سوتیلے ) بیٹیوں پر، اپنے بھائیروں پر یا اپنے بھتیجوں پر یا اپنے بھانجوں پر یا اپنی ( مسلمان ) عورتوں پر یا اپنے دائیں ہاتھ کی ملکیت ( کنیزوں ) پر یا عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے نوکر چاکر مردوں پر یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی چھپی باتوں سے واقف نہ ہوں۔

( سورۃ النور 24 آیت 31)​

حجاب کا معیار :

قرآن و سنت کے مطابق پردے کے لیے چھ بنیادی معیار ہیں :-

پہلا معیار یہ ہے کہ جسم کو مکمل طور پر ڈھانپنا چاہیئے۔ یہ عورتوں اور مردوں کے لیئے مختلف ہے۔ مرد کے لیئے یہ معیار ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے جبکہ عورتوں کے لیئے تما جسم کا ڈھانپنا لازم ہے سوائے چہرے اور کلائی تک ہاتھوں کے، اور اگر ان کی خواہش ہو تو جسم کے ان حصوں کو بھی ڈھانپ سکتی ہیں۔بعض علمائے کرام کے نززیک ہاتھ اور چہرہ بھی لازمی پردے میں شامل ہیں۔ ( اوریہی بات راجح )۔

علاوہ ازیں مردوں اور عورتوں کے لیئے حجاب کےک پانچ یکساں معیار ہیں :-

1) کپڑے جو پہنے جائیں وہ ڈھیلے ڈھالے ہوں جو جسمانی اعضاء کو نمایاں نہ کریں۔

2) کپڑے اتنے باریک نہ ہوں کہ ان میں سے سب کچھ نظر آئے یا آسانی سے دیکھا جا سکے۔

3) لباس اتنا شوخ نہ ہو جو جنسِ مخالت کے مشابہ ہو ( یعنی عورتیں مردوں جیسے کپڑے نہ پہنیں اور مردوں کو چاہیئے کہ عورتوں جیسا لباس نہ پہنیں )۔

4) لباس غیر مسلموں کے لباس سے مشابہ نہ ہو، یعنی ایسا لباس نہ پہنیں جو غیر مسلموں کی مذہبی شناخت اور مخصوس علامت ہو۔

5) حجاب میں اخلاق اور شخصی طرز عمل بھی شامل ہیں۔

مکمل حجاب میں ان چھ بینادی معیاروں کے علاوہ اخلاقی کردار، سماجی رویے، وضع قطع اور شخصی ارادے کا بھی دخل ہے۔ حجاب کو صرف لباس کے معیار کی حد تک سمجھنا محدود سوچ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آنکھوں، دِل، سوچ اور ارادے اور نیت کا حجاب بھی ضروری ہے۔ اس میں انسان کے چلنے کا طریقہ، گفتگو کا سلیقہ اور رویے کا اظہار بھی شامل ہے۔

حفاظتی حصار :

حجاب چھیڑ چھاڑ سے بچاتا ہے، آخر عورت کے لیئے پردے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ اس کی وجہ سورۃ الاحزاب میں بیان کی گئی ہے۔ اِرشاد باری تعالی ہے:

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (٥٩)

” اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہ دیجیئے کہ وہ ( گھر سے باہر ) اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو گرا لیا کریں۔ یہ ( بات ) ان کے لیئے قریب تر ہے کہ وہ ( حیا دار مومنات کے طور پر ) پہچانی جاسکیں اور انہیں ایذا نہ دی جائے ( کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرسکے ) اور اللہ بہت معاف کرنے والا اور نہایت مہربان ہے”

( سورۃ الاحزاب 33 آیت 59)​

قرآن سے واضح ہے کہ عورتوں کو پردے کا حکم اس لیئے دیا گیا ہے کہ وہ باحیا عورتوں کی حیثیت سے پہچانی جائیں اور مردوں کی شرارتوں اور چھیڑ خانیوں سے محفوظ رہیں۔

مغرب میں عورت کا استحصال :

مغربی تہذیب عورت کی جس آزادی اور آزاد خیالی کی بلند آہنگ وکالت کرتی ہے وہ اس کے جسمانی استحصال، اس کی روحانی تحقیر اور اس کی عزت کی بربادی کے سوا کچھ نہیں، مغربی تہذیب عورت کا درجہ بلند کرنے کا بڑا چرچا کرتی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، واقعہ یہ ہے کہ مغربی تہذیب نے عورت کی عزت کو پامال کردیا ہے۔ اُسے عورت کے شرف و منزلت سے گرا دیا ہے ، اُسے داشتہ اور محبوبہ بنا دیا ہے۔ مغربی تہذیب میں عورت، عورت نہیں ہے۔ رنگین تتلی ہے، حصول لذت کا کھلونا ہے، مغرب نے عورت کو نیلام کا مال بنا دیا ہے، نام نہاد ” فن” اور ” ثقافت ” کی آر میں عورت کا شرمناک استحصال کیا جارہا ہے۔

امریکہ میں ریپ :

امریکہ کو دنیا میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہے لیکن دنیا بھر میں عورتوں کی سب سے زیادہ آبروریزی بھی وہیں ہوتی ہے۔ ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں صرف 1990ء میں روزانہ عصمت دری کے اوسطاً 1756 مقدمات درج ہوئے۔ بعد کی ایک اور رپورٹ کے مطابق امریکہ میں روزانہ تقریباً 1900 کی اوسط سے عصمت دری کے واقعات پیش آئے۔ سال نہیں بتایا گیا۔ ہوسکتا ہے 1992ء یا 1993ء ہو، مزید برآں ہوسکتا ہے اس کے بعد امریکی جبری بدکاریوں میں اور زیادہ نڈر ہوگئے ہوں۔ ذرا چشم تصور سے دیکھیئے:

میں آپ کے سامنے امریکہ کا ایک منظر پیش کرتا ہوں جہاں مسلم خاندانوں میں پردہ کیا جاتا ہے۔ جب بھی کوئی آدمی کسی عورت کو پردے میں یا اسلامی حجاب میں بُری نگاۃ سے دیکھتا ہے یا کوئی شرمناک خیال اُس کے ذہن میں آتا ہے تو وہ اپنی نگاہ نیچی کرلیتا ہے۔ ہر عورت اسلامی حجاب پہنتی ہے جس میں اس کا تمام جسم ڈھکا ہوا ہے سوائے چہرے اور کلائی تک ہاتھوں کے ، اس کے بعد اگر کوئی زنا بالجبر کرتا ہے تو اُسے سزائے موت دی جاتی ہے۔

میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا اس پس منظر میں امریکہ میں عصمت دری کے واقعات بڑھیں گے ، اسی طرح رہیں گے، یا کم ہوجائیں گے۔

اسلامی شریعت کا نفاذ :

فطری طور پر اسلامی شریعت کا نفاذ ہوتے ہی مثبت نتائج ناگزیر ہوں گے۔ اگر دنیا کے کسی بھی ملک میں چاہے وہ امریکہ ہو یا یورپ، اسلامی قوانین کا نفاذ کیا جائے تو معاشرہ سکون کا سانس لے گا۔ اسلامی حجاب عورت کا مرتبہ کم نہیں کرتا بلکہ اونچا کرتا ہے اور اس کی حیاداری اور پاکدامنی کی حفاظت کا ضامن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں