47

موت کے بعد زندگی کیوں اور کیسے ممکن ہے؟

موت کے بعد زندگی کیوں؟

“آپ آخرت، یعنی موت کے بعد زندگی کے وجود کو کیسے ثابت کریں گے ؟ ”

کئی لوگ حیران ہوں گے کہ سائنسی اور عقلی دلائل کا حامل ایک شخص اخروی زندگی پر کیسے یقین رکھ سکتا ہے ؟ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص آخرت کی زندگی پر یقین رکھتا ہے وہ صرف اندھے اعتقاد کی بنا پر ایسا کرتا ہے جبکہ اُخروی زندگی پر میرا یقین علی دلائل پر مبنی ہے۔

آخرت کا عقیدہ عقلی بنیاد پر :

قرآن عظیم میں ایک ہزار سے زیادہ آیات ہیں جو سائنسی حقائق پر مبنی نہیں۔

قرآن میں مذکور بہت سے حقائق گذشتہ چند صدیوں میں سائنسی سطح پر دریافت ہوئے ہیں۔ لیکن سائنس ابھی تک قرآن کے ہر بیان کی تصدیق کی سطح پر نہیں پہنچی۔

فرض کریں کہ قرآن میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے۔ اس میں سے 80 فیصد بیانات سو فیصد درست ہیں۔ باقی 20 فیصد بیانات کے متعلق سائنس کوئی حتمی بات نہیں کہتی کیونکہ ابھی وہ اس مقام پر نہیں پہنچی جہاں وہ ان بیانات کو ثابت کرسکے یا جھٹلائے، ہم اپنے محدود علم کی روشنی میں یقین سے نہیں کہ سکتے کہ قرآن کے اس 20 فیصد حصے میں ایک فیصد یا ایک آیت بھی غلط ہے۔ اب جبکہ 80 فیصد قرآن 100 فیصد صحیح ہے۔ اور باقی 20 فیصد کو غلط ثابت نہیں کیا گیا تو منطق کہتی ہے کہ باقی 20 فیصد بھی صحیح ہے، موت کے بعد زندگی جس کا قرآن میں ذکر ہے وہ اس 20 فیصد غیر واضح حصے میں ہے جس کے متعلق منطق یہ کہتی ہے کہ صحیح ہے۔

امن اور انسانی اقدار کا تصور :

ڈاکہ زنی اچھائی ہے یا بُرائی؟ ایک عام عاقل آدمی کے نزدیک یہ بُرائی ہے ۔ ایک شخص جو موت کے بعد زندگی پر یقین نہیں رکھتا، کسی طاقتور اور بااثر ملزم کو کیسے قائل کرسکتا ہے کہ ڈاکہ زنی بُرائی ہے ؟

فرض کریں کہ میں دنیا میں سب سے طاقتور اور بااثر مجرم ہون، اس کے ساتھ ساتھ میں ایک ذہین اور منطقی شخص بھی ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ ڈاکہ زنی اچھی بات ہے کیونکہ یہ مجھے پُر تعیش زندگی بسر کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس لیے یہ میرے لیئے ٹجھیک ہے۔ اگر کوئی میرے سامنے منطقی دلیل لا سکے کہ یہ میرے لیئے کیوں بُری ہے تو میں اسے فوراً چھوڑ دوں گا لوگ عام طور پر مندرجہ ذیل دلائل دیتے ہیں:

لٹنے والے کے لیے مشکلات :

کچھ لوگوں کے نزدیک لُٹنے والا شخص مشکلات کا سامنا کرے گا، میں یقیناً متفق ہوں کہ یہ اس کے لیئے بُرا ہے جو لٹ جاتا ہے لیکن میرے لیے اچھا ہے اگر میں ہزاروں ڈالر لوٹتا ہوں میں کسی فائیو سٹار ہوٹل میں اچھے کھانے سے لطف اندوز ہوسکتا ہوں۔

کوئی آپ کو بھی لُوٹ سکتا ہے۔: کچھ لوگ دلیل دیتے ہیں کہ کسی دن میں بھی لُٹ جاؤں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ مجھے کوئی لوٹ نہیں سکتا کیونکہ میں ایک بہت طاقتور مجرم ہوں اور میرے سینکڑوں محافظ ہیں۔ میں کسی کو بھی لوٹ سکتا ہوں لیکن مجھے کوئی نہیں لوٹ سکتا۔ ڈاکہ زنی عام آدمی کیلئے خطرناک ہوسکتی ہے لیکن میرے جیسے بااثر آدمی کیلئے نہیں۔

پولیس تمہیں گرفتار کرسکتی ہے :

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر تم لوگوں کو لوٹو گے تو پولیس تمہیں گرفتار کرلے گی۔ لیکن پولیس مجھے گرفتار نہیں کرسکتی کیونکہ میں پولیس کو حصہ دیتا ہوں اور میرے حصے دار وزیر بھی ہیں۔

میں اس بات سے متفق ہوں کہ اگر عام آدمی ڈاکہ زنی کرے گا تو وہ پکڑا جائے گا اور یہ اس کے لیے اچھا نہ ہوگا لیکن میں غیر معمولی طو رپر با اثر اور طاقتور مجرم ہوں۔

میرے سامنے کوئی منطقی دلیل پیش کریں کہ میرے لیے ڈاکہ زنی کیوں بُری ہے۔ تب میں اس بُرے کام سے رک جاؤں گا۔

پیسہ کمانے کا آسان طریقہ :

کچھ لوگ کہ سکتے ہیں ک ہاس طریقے سے روپیہ کمانا آسان ہے، اس میں کوئی مشکل نہیں ۔ میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں کہ یہ آسان طریقہ ہے اور یہی وجہ سے کہ میں ڈاکہ زنی کرتا ہوں۔ اگر ایک شخص کو یہ اختیار دیا جائے کہ پیسہ کمانے کا آسان طریقہ منتخب کرے یا مشکل تو منطقی شخص آسان راستہ ہی اختیار کرے گا۔

انسانیت کے منافی فعل :

کچھ لوگوں کے نزدیک ڈاکہ زنی انسانیت کے خلاف ہے اور یہ ایک انسان کو دوسروں کا خیال رکھنا چاہیئے، میں دوبارہ دلیل دے کر یہ پوچھنا چاہوں گا کہ جس چیز کو ” انسانسیت (Humaity) ” کہتے ہیں وہ کس کا قانون ہے اور مجھے کیوں اس پر عمل کرنا چاہیئے ؟

یہ قانون جذباتی اور جوشیلے شخص کے لیے اچھا ہوسکتا ہے مگر میں تو منطقی شخص ہوں مجھے دوسروں کا خیال کرنے میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔

خود غرضی سے لطفِ حیات :

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اوروں کو لُوٹنا خود غرضی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ خود غرضانہ فعل ہے لیکن مجھے خود غرض کیوں نہیں ہونا چاہیئے؟ خود غرضی مجھے زندگی سے لطف اندوز ہونے میں مدد دیتی ہے۔

ڈاکہ زنی بہرحال بُرا کام ہے :

یہ ثابت کرے کے نام دلائل کہ ڈاکہ زنی ایک بُرا کام ہے، بے کار ہیں۔ یہ ایک عام آدمی کو تو مطمئن کرسکتے ہیں لیکن میرے جیسے طاقتور اور بااثر مجرم کو نہیں۔ ان دلائل کا منطقی اور عقلی حوالوں سے دفاع نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ اس دنیا میں بہت سے مجرم ہیں۔ اسی طرح زنا بالجبر اور دھوکہ دہی وغیرہ کو بھی میرے جیسے شخص کے لیے اچھا ثابت کیا جاسکتا ہے اور کوئی منطقی دلیل موجود نہیں جو مجھے قائل کرسکتے کہ یہ بُرے کام ہیں۔

مسلمان کا مجرم کو قائل کرنا :

آئیے ان کردار بدلتے ہیں۔ فرض کیجیئے کہ آپ بہت طاقتور اور بااثر مجرم ہیں۔ آپ نے پولیس اور وزیروں کو بھی پیسے سے خرید رکھا ہے اور آپ کی حفاظت کے لیے ٹھگوں کی فوج موجود ہے۔ لیکن میں بحیثیت مسلمان آپ کو قائل کرسکتا ہوں کہ ڈاکہ زنی، زنا بالجبر اور دھوکہ دہی وغیرہ بُرے کام ہیں۔ اگر میں بھی دلائل دوں جو پہلے دیے جاچکے ہیں کہ ڈاکہ زنی ایک بُرا کام ہے تو مجرم وہی جواب دے گا جو پہلے دے چکا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ مجرم کے منطقی ہونے کے باوجود اس کے تمام دلائل صرف اس وقت تک ہی صحیح ہیں جب وہ بہت طاقتور اور بااثر ہو۔ لیکن اگر اس کے اوپر اس سے کہیں زیادہ طاقتور ایک ہستی موجود ہےئ، اور یقیناً ہے، تو صورتِ حال بدل جاتی ہے۔

مجرم بھی انصاف چاہتا ہے :

ہر انسان انصاف کا آرزو مند ہے۔ اگر دوسروں کے لیے نہیں تو کم از کم اپنے لیے ضرور انصاف چاہتا ہے۔ بہت سے لوگ طاقت ور اور اختیارات کے نشے میں دوسروں کو دکھ اور تکلیف پہنچاتے ہیں۔ تاہم وہ لوگ بھی اس وقت یقیناً اعتراض کرتے ہیں جب خود ان سے بے انصافی کی جاتی ہے۔ ایسے لوگ دوسروں کی تکالیف سے بے خبر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ طاقت اور اختیارات کی پوجا کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ طاقت اور اختیارات انہیں نہ صرف دوسروں سے ناانصافی کرنے کی اجازت دیتے ہیں بلکہ ان کو دوسروں کے ظلم سے بھی بچاتے ہیں۔

سب سے طاقتور اور عادل :

بحیثیت مسلمان میں ایک مجرم کو اللہ تعالی کے وجود کا قائل کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تم سے کہیں زیادہ طاقتور اور انصاف کرنے والا ہے قرآنِ عظیم کہتا ہے:

إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ

بلا شبہ اللہ ( کسی پر ) ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا۔​

(سورہ النساء 4 آیت 40)

اللہ مجھے سزا کیوں نہیں دیتا ؟

ایک مجرم کے روبرو جب وجود باری تعالی کے بارے میں قرآن سے سائنسی حقائق پیش کئے جائیں تو منطقی اور سائنسی نقطہ نظر رکھنے کے باعث وہ اتفاق کرتا ہے کہ اللہ موجود ہے۔ لیکن وہ کہ سکتا ہے کہ اگر اللہ طاقتور اور عادل ہے تو پھر مجھے سزا کیوں نہیں دیتا ؟

بے انصاف لوگوں کو سزا ملنی چاہیئے :

ہر وہ شخص جس سے بے انصافی ہوئی ہو۔ چاہے اس کا سماجی یا معاشی مرتبہ کچھ بھ ہو۔ وہ چاہے گاکہ بے انصافی کے مرتکب شخص کو سزا ملے۔ ہر معقول شخص چاہے گا کہ ڈاکو یا عصمت دری کے مرتکب کو سبق سکھایا جائے۔ اگرچہ مجرموں کی ایک بڑی تعداد کو سزا دی جاتی ہے۔ اس کے باوجود بہت سے محرم ایسے بھی ہوتے ہیں جو محاسبے سے بچ جاتے ہیں۔ وہ بڑی خوشگوار اور عیش کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ اگر کسی طاقتور اور بااختیار شخص کے ساتھ کوئی ایسا طاقتور اور بااختیار شخص بے انصافی کرے جو اُس سے بڑھ کر طاقتور ہوتو وہ بھی چاہے گا کہ بے انصفای کے مرتکب شخص کو سزا دی جائے۔

عاقبت کے لیے آزمائش :

انسان کی یہ زندگی موت کے بعد کی زندگی کے لیے امتحان ہے قران مجید کہتا ہے۔

الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ

” وہ ( اللہ ) جس نے موت اور زندگی تخلیق کی ہے تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے، اور وہ بڑا زبردست اور بخشنے والا ہے۔

(سورۃ الملک 67 آیت 2)

یوم حساب کو آخری انصاف : قرآن عظیم میں ہے:

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلا مَتَاعُ الْغُرُورِ (١٨٥)

“اور ہر ذی روح موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے اور قیامت کے دن تمہیں تمہارے بدلے پورے پورے دیے جائیں گے۔ پھر جو شخص ( جہنم کی ) آگ سے بچ گیا اور اسے جنت میں داخل کردی گیا تو وہ کامیاب رہا۔ اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔

( سورۃ آلعمران 3 آیت 185)

آخری انصاف یوم حساب کو ہوگا۔ جب ایک شخص مرجائے گا تو اس کے بعد قیامت کے دن اُسے دوسرے انسانوں کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ یہ ممکن ہے کہ کسی مجرم کو اس کی سزا کا کچھ حصہ اس دنیا میں مل جائے گا لیکن آخری جزا اور سزا اس کو دوسری زندگی ہی میں ملے گی۔ ممکن ہے اللہ کسی ڈاکو یا زنا بالجبر کے مجرم کو اس دنیا میں سزا نہ دے لیکن وہ قیامت کے دن یقیناً جوابدہ ہوگا اور پُوری پُوری سزا پائے گا۔

ہٹلر کو سزا کیونکر ؟

کہا جاتا ہے کہ جرمن ایڈولف ہٹلر نے اپنے پُر دہشت دورِ حکومت میں لاکھوں یہودیوں کو گیس چیمبروں میں جلاکر خاک کردیا۔ جرمنی کی شکست کے بعد پولیس اس کو گرفتار بھی کرلیتی تو انسانی قوانین کے تحت اس کو کیا سزا دی جاتی جس سے انصاف کا تقاضا پورا ہوتا؟ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کرسکتے تھے کہ اس کو بھی گیس چیمبر میں ڈال دیتے لیکن یہ تو صرف ایک یہودی کو مارنےکی سزا ہوتی۔ باقی لاکھوں یہودیوں کے قتل کا بدلہ کیسے لیا جاتا؟ اس کا جوان قرآن دیتا ہے۔

ہٹلر کو دوزخ کی سزا :

قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے:

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا ()

“بلا شبہ جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں، ان کو ہم جلد آگ میں ڈالیں گے جب ان کی کھالیں جل جائیں گی۔ تو پھر ہم ان کو نئی کھالوں میں تبدیل کردیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھ سکیں۔ بے شک اللہ سب سے طاقتور اور خوب حکمت والا ہے۔

( سورۃ النساء 4 آیت 56)

لہذا اگر اللہ چاہے گا تو ہٹلر کو دوزخ کی آگ میں تا ابد جلایا جاتا رہے گا۔

اچھائی یا برائی تا تصور :

اس پوری بحث سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ کسی شخص کو آخرت یا موت کے بعد کی زندگی کے تصور کا قائل کیے بغیر انسانی اقدار اور اعمال کے اچھے یا برے ہونے کا تصوور کا قائل نہیں کیا جاسکتا۔ بالخصوص جب وہ بااثر اور طاقتور بھی ہو۔

حاشیہ :

آخرت کے تصور کے لیے قرآن نے جابجا مردوں کو زندہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔ حیوانات اور نباتات کے دوبارہ زندہ ہونے کی مثالیں جگہ جگہ مذکور ہیں۔ سورۃ بقرہ میں پانچ مقامات پر مُردوں کے زندہ ہونے کا ذکر ہے۔ جبکہ زمین کے مردہ (بنجر) ہونے کے بعد اس کی دوبارہ زندگی ہر انسان کے مشاہدے میں ہے، لہذا قیامت کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جانے سے کوئی دانا اور سمجھدار انکار نہیں کرسکتا ( ادارہ ))

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں