57

مسلمان بنیاد پرست اور دہشت گرد ہیں؟

مسلمان بنیاد پرست اور دہشت گرد ہیں؟

” مسلمانوں کی اکثریت بنیاد پرست اور دہشت گرد کیوں ہے ؟ ”

یہ سوال مذاہب یا عالمی امور کے متعلق کسی بحث میں بالواسطہ یا بلا واسطہ مسلمانوں کے بارے میں کیا جاتا ہے۔ راسخ العقیدہ اور ” بنیاد پرست ” مسلمانوں کا ذکر تمام ذرائع ابلاغ میں باربار کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے متعلق افترا پردازی کی انتہا کردی جاتی ہے۔ دراصل یہ بے بنیاد پراپیگنڈہ مسلمانوں کے خلاف امتیاز اور تشدد کا باعث بنتا ہے، اس کی ایک مثال اوکلاہوما میں ہونے والے بم دھماکے کی ہے۔ جس کے بعد امریکی میدیا نے مسلم دشمنی مہم چلائی، اسے مشرقِ وسطٰ کے مسلمانوں کی سازش قار دیا گیا جبکہ مجرم امریکی فوج کا ایک سپاہی تھا۔

آئیے! ” دہشت گردی ” اور ” بنیاد پرستی ” کے الزامات کا تجزیہ کریں۔

بنیاد پرست کی تعریف :

بنیاد پرست ایسے شخص کو کہتے ہیں جو اپنے عقیدے یا نظریے کی مبادیات ، یعنی بنیادی باتوں سے پوری طرح سے وابستہ ہو اور ان پر پوری طرح کاربند ہو۔ اگر ایک شخص اچھا ڈاکٹر بننا چاہتا ہے تو اسے طب کی مبادیات کا علم ہونا اور اُن پر اس کا عمل پیدا ہونا ضروری ہے۔ اور ایک اچھے ریاضی دان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ریاضی کی مبادیات سے اچھی طرح واقف ہو۔ گویا ایک ڈاکٹر کو طب میں اور ایک ریاضی دان کو ریاضی کے شعبے میں فنڈامنٹلسٹ (Fundamentalist) یا بنیاد پرست ہونا چاہیئے، اسی طرح ایک سائنسدان کو سائنس کے بارے میں مکمل معلومات ہونی چاہیئیں۔ دوسرے الفاظ میں اُسے سائنس کے میدان میں بنیاد پرست ہونا چاہیئے، اسی طرح دین کے معاملے میں بھی ایک شخص کا بنیاد پرست ہونا ضروری ہے۔

تمام بنیاد پرست ایک جیسے نہیں :

حقیقت یہ ہے کہ تمام بنیاد پرست ایک جیسے نہیں اور نہ ان کو ایک جیسا کہا جاسکتا ہے۔ تمام بنیاد پرستوں کو اچھے یا برے گروہوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بنیاد پرست گروہ سے وابستگی کا انحصار اُس سے متعلقہ شعبے اور سرگرمی پر ہے۔ جس میں وہ بنیاد پرستی کا مظاہرہ کرے۔ ایک بنیاد پرست ڈاکو یا چور اپنے پیشے میں بنیاد پرست ہوتا ہے جو معاشرے کے لیے تکلیف کا باعث بنتا ہے اور اس لیے نا پسندیدہ ٹھہرتا ہے جبکہ اس کے برعکس ایک بنیاد پرست ڈاکٹر معاشرے کے لیے بہت مفید ہوتا ہے اور بہت معزز بھی۔

مجھے بنیاد پرست ہونے پر فخر ہے :

میں ایک بنیاد پرست مسلمان ہوں اور اللہ تعالی کے فضل سے اسلام کے بنیادی اصولوں کو جانتا ہوں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک صحیح مسلمان کو بنیاد پرست ہونے پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیئے، میں اپنے بنیاد پرست مسلمان ہونے پر فخر کرتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اسلام کے بنیادی اصول نہ صرف انسانیت بلکہ تمام دنیا کے لیے مفید ہیں۔ اسلام کا ایک بھی بنیادی اصول ایسا نہیں جو تمام بنی نوع انسان کے مفاد میں نہ ہو یا ان کے لیے نقصان دہ ہو۔ بہت سے لوگ اسلام کے بارے میں غلط تصورات رکھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اسلام کی بہت سی تعلیمات ٹھیک نہیں اور ناانصافی پر مبنی ہیں۔ یہ اندازِ فکر اسلام کے بارے میں غلط اور ناکافی معلومات کی وجہ سے ہے۔ اگر کوئی کھلے دل و دماغ سے اسلام کی تعلیمات کا جائزہ لے تو وہ اس حقیقت تک پہچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اسلام انفرادی اور اجتماعی دائروں میں یکساں طور پر فائدہ مند ہے۔

بنیاد پرست کا لغوی مطلب :

ویبسٹرز (Websters) کی انگریزی ڈکشنری کے مطابق Fundamentalism یا بنیاد پرستی ایک تحریک تھی جو بیسیوں صدی کے شروع میں امریکی پروٹسٹنٹوں کے اندر اُٹھی یہ تحریک جدیدیت کے خلاف رد عمل تھی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ لوگ صرف عقائد اور اخلاق بلکہ تاریخی ریکارڈ کے حوالے سے بھی بائبل کے غلطیوں سے پاک ہونے پر زور دیتے تھے۔ وہ اس پر بھی زور دیتے تھے کہ بائبل کا متن ہو بہو خدا کے الفاظ ہیں۔ اس طرح بنیاد پرستی ایک ایسی اصطلاح ہے جو سب سے پہلے عیسائیوں کے ایک گروہ کے لیے استعمال کی گئی جو یقین رکھتے تھے بائبل لفظ بہ لفظ خدا کا کلام ہے اور اس میں کوئی غلطی یا تحریف نہیں ۔

لیکن اب آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق ” بنیاد پرست ” کا مطلب ہے:

” کسی مذہب خاص طور پر اسلام ، کے قدیم یا بنیادی نظریات پر سختی سے کاربند ہونا۔ “

یُوں مغربی دانشوروں اور میڈیا نے ” بنیاد پرستی ” کی اصطلاح کو عیسائیت سے الگ کرکے خاص طوراسلام سے وابستہ کردیا ہے۔ آج جب کوئی بنیاد پرست کی اصطلاح استعمال کرتا ہے تو فوراً اس کے ذہن میں ایک مسلمان کا تصور آتا ہے جو اس کے خیال میں میں دہشت گرد ہے۔

ہر مسلمان کو دہشت گرد ہونا چاہئے :

ہر مسلمان کو ” دہشت گرد ” ہونا چاہیئے۔ دہشت گرد ایسے شخص کو کہتے ہیں جو دہشت پھیلانے کا باعث ہو۔ جب کوئی ڈاکو کسی پولیس والے کو دیکھتا ہے تو وہ دہشت زدہ ہوجاتا ہے۔ گویا ڈاکو کے لیے پولیس والا دہشت گرد ہے، اسی طرح ہر مسلمان کو چور، ڈاکو اور زانی جیسے سماج دشمن عناصر کیلئے گرد ہونا چاہیئے۔ جب ایسا سماج دشمن شخص کسی مسلمان کو دیکھے تو اسے دہشت زدہ ہوجانا چاہیئے۔ یہ ٹھیک ہے کہ لفظ ” دہشت گرد ” عام طور پر ایسے شخص کیلئے استعمال ہوتا ہے جو عالم لوگوں کیلئے خوف اوردہشت کا باعث ہو لیکن سچے اور صحیح مسلمان کو صرف مخصوص لوگوں کے لیے دہشت گرد ہونا چاہیئے، یعنی سماج دشمن عناصر کے لیے نہ کہ عام بے گناہ لوگوں کیلئے، در حقیقت ایک مسلمان بے گناہ لوگوں کیلئے امن اور سلامتی کا باعث ہوتا ہے۔

دہشت گرد یا محب وطن کون ؟

آزادی ہند سے پہلے انگریزوں کی حکمرانی کے زمانے میں بعض مجاہدینِ آزادی جو عدم تشدد کے حامی نہیں تھے، انہیں انگریزوں کی حکومت ” دہشت گرد ” کے نام سے موسوم کرتی تھی لیکن عام ہندوستانیوں کے نزدیک تشدد پر مبنی سرگرمیوں میں مصروف یہ افراد محبِ وطن تھے۔ یوں ان لوگوں کی سرگرمیوں کو فریقین کی طرف سے مختلف نام دیئے گئے۔ وہ لوگ جو یہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان پر حکومت کرنا انگریزوں کا حق ہے وہ ان لوگوں کو دہشت گرد کہتے ھتے جبکہ دوسرے لوگوں جن کا خیال تھا کہ انگریزوں کو ہندوستان پر حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں، انہوں نے ان لوگوں کو محبِ وطن اور مجاہد آزادی قرار دیا۔

پس یہ نہایت ضروری ہے کہ کسی شخص کے بارے میں کوئی فیصلہ دینے سے پہلے اس کی بات سنی جائے، دونوں طرف کے دلائل سنے جائیں، صورت حال کا تجزیہ کیا جائے، پھر اس شخس کی دلیک اور مقصد کو پیش نظر رکھ کر اس کے مطابق اُس کے بارے میں رائے قائم کی جائے۔

اسلام کا مطلب سلامتی ہے :

لفظ اسلام ” سلام ” سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے سلامتی، یہ امن کا مذہب ہے جس کے بنیادی اصول اس کے پیروکاروں کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ دنیا میں امن قائم کریں اور اسے فروغ دیں۔

چنانچہ ہر مسلمان کو بنیاد پرست ہونا چاہیئے۔ اس کو امن کے دین اسلام کے بنیادی اصولوں پر عمل کرنا چاہئے اور اسے صرف سماج دشمن عناصر کے لیے دہشت گرد ہونا چاہیے تاکہ معاشرے میں امن اور عدل و انصاف کو فروغ ملے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں