26

جب اسلام بتوں کی پوجا سے کے خلاف ہے تو مسلمان اپنی نمازوں میں کعبہ کے آگے کیوں جھکتے ہیں اور اس کی عبادت کیوں کرتے ہیں؟

کیا مسلمان کعبہ کو پوجتے ہیں؟

” جب اسلام بتوں کی پوجا سے کے خلاف ہے تو مسلمان اپنی نمازوں میں کعبہ کے آگے کیوں جھکتے ہیں اور اس کی عبادت کیوں کرتے ہیں؟”

کعبہ ہمارا قبلہ ہے، یعنی وہ سمت جس کی طرف منہ کرکے مسلمان نماز پڑھتے ہیں، اہم بات یہ ہے کہ اگرچہ مسلمان نمازوں میں کعبہ کی طرف رُخ کرتے ہیں لیکن وہ کعبہ کو پوجتے ہیں نہ اس کی عبادت کرتے ہیں بلکہ مسلمان صرف اللہ کے آگے جھکتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔

اس کا ذکر سورۃ بقرہ میں ہے :

قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ()

” (اے نبی!) ہم آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے ہیٰں۔ لہذا ہم ضرور آپ کو اس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں۔ سو آپ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں۔۔”

(سورۃ البقرہ 2 آیت 144)​

قبلہ اتحاد و اتفاق کا ذریعہ ہے :

اسلام وحدت کا دین ہے، چنانچہ مسلمانوں میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنے کے لیے اسلام نے ان کا ایک قبلہ متعین کیا ہے اور ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں، نماز کے وقت کعبے کے طرف رخ کریں۔ جو مسلمان کعبے کے مغرب کی طرف رہتے ہوں، وہ اپنا رخ مشرف کی طرف کریں گےا ور جو مشرق کی طرف رہتے ہوں، وہ اپنا رخ مغرب کی طرف کریں گے۔

کعبہ نقشہ عالم کے وسط میں ہے :

یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے دنیا کا نقشہ بنایا۔ ان کے نقشوں میں جنوب اوپر کی طرف تھا اور شمال نیچے کی طرف اور کعبہ درمیان میں تھا۔ بعد میں مغربی نقشہ نگاروں نے جو نقشے بنائے، ان میں شمال اوپر کی جانب اور جنوب نیچے کی طرف دکھایا گیا جیسا کہ آج کل دنیا کے نقشے بنائے جاتے ہیں۔ بہر حال الحمد للہ کعبہ دنیا کے نقشے کے تقریباً وسط میں ہے۔

طوافِ کعبہ :

جب مسلمان مکہ کی مسجد حرام میں جاتے ہیں، وہ کعبے کے گرد چکر لگا کر طواف کرتے ہیں۔ ان کا یہ علم واحد سچے معبود پر ایمان اور اس کی عبادت کی علامت ہے۔ جیسے ہر دائرے کا ایک ہی مرکز ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالی بھی ایک ہے جو عبادت کے لائق ہے۔

حضرت عمر ( رضی اللہ تعالی عنہ ) کی ایک حدیث میں عقیدہ توحید :

جہاں تک سیاہ پتر ، یعنی حجر اسود کی حرمت کا تعلق ہے۔ حضرت عمر ( رضی اللہ تعالی عنہ ) کی ایک حدیث سے واضح ہے ، حضرت عمر ( رضی اللہ تعالی عنہ ) نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور کہا :

” انی اعلم انک حجر لا تضر ولا تنفو ولولا انی رایت رسول اللہ (ﷺ) یقبلک ما قبلتک ”

” میں یقیناً جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ تو کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان، اگر میں نے نبی کریم (ﷺ) کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی نہ چومتا۔

(صحیح البخاری، الحج، باب ماذکر فی الحجر الأسود حدیث 1597)​

کعبے کی چھت پر اذان :

نبی کریم (ﷺ) کے دور میں کعبہ کی چھت کے اوپر کھڑے ہوکر اذان دیتے تھے (تجلیات نبوت، ص 226۔)

اب لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمان کعبہ کو پوجتے ہیں تو بھلا کون سا بتوں کو پوجنے والا اس بُت کے اُوپر کھڑا ہوتا ہے جس کی وہ پوجا کرتا ہے؟

( اسلام میں پوجنے اور عبادت کرنے کا تصور صرف ذات باتی تعالی کے لیے ہے۔ حجر، شجر، شخصیات یا استھان کی پُوجا کا تصور اسلام میں نہیں پایا جاتا۔ اسلام نے ایسی جگہ پر بھی عبادت سے روک دیا ہے جہاں اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کا شبہ پیدا ہوسکتا ہو۔ مثلاً قبرستان میں نماز ادا کرنا، یا ایسی جگہ عبادت کرنا جہاں غیر اللہ کی عبادت کی جاتی ہو، ممنوع ہے، تاریخ شاہد ہے کہ کسی دور میں کوئی ایک مچال بھی نہیں ملتی کہ مسلمانوں نے کسی مکان یا عمارت کی عبادت کی ہو۔)

اسلام میں اگر اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کا تصور ہوتا تو محمد (ﷺ) اس لائق تھے کہ آپ کی قبر کو قبلہ بنایا جاتا اوراس کی عبادت کی جاتی۔ لیکن آپ (ﷺ) نے اس سے سختی سے منع کردیا۔

اسی طرح آپ (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالی کے سوا کسی اور کو سجدہ جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ بتوں کے پجاری تو بت خانے میں جاکر عبادت کرتے ہیں یا ان بتوں کے ماڈل بنا کر سامنے رکھتے ہیں جب کہ مسلمان قبولیت عبادت کے لیے خانہ کعبہ جانے کو شرط قرار دیتے ہیں نہ اس کا ماڈل اپنے سامنے رکھنا جائز سمجھتے ہیں۔ وہ تو جہتِ کعبہ کو سامنے رکھ کہ کعبہ کے بجائے رب کعبہ کی عبادت کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں