35

صرف ایک دین اسلام کی اتباع کیوں اور مذاہب کی اتباع کیوں نہیں کر سکتے ؟

صرف اسلام ہی کی پیروی کیوں ؟
صرف ایک دین اسلام کی اتباع کیوں؟ اور مذاہب کی اتباع کیوں نہیں کر سکتے ؟
صرف دین اسلام کو فالو کرنا کیوں ضروری ہے جبکہ اور بھی تو مذاہب ہیں
جواب

صرف اسلام ہی کی پیروری کیوں ؟

“تمام مذاہب لوگوں کو اچھے کام کرنے کی تعلیم دیتے ہیں، پھر ایک شخص کو اسلام ہی کی پیروی کیوں کرنی چاہییے؟ کیا وہ کسی دوسرے مذہب کی پیروی نہیں کرسکتا؟ ”

تمام مذاہب بنیادی طو رپر انسان کو صحیح راہ پر چلنے اور برائی سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ لیکن اسلام ان سب سے بڑھ کر ہے۔ یہ ہمیں صحیح راہ پر چلنے اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی سے برائی کو خارج کرنے میں عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام انسانی فطرت اور معاشرے کی پیچیدگیوں کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔ اسلام خود خالقِ کائنات کی طرف سے رہنمائی ہے۔ اس لیے اسلام کو دین فطرت ، یعنی انسان کا فطری دین کہا گیا ہے۔ اسلام اور دوسرے مذاہب کا بنیادی فرق درج ذیل امور سے واضح ہوتا ہے۔:

اسلام اور ڈاکہ زنی کا تدارک :

تمام مذاہب کی تعلیم ہے کہ ڈاکہ زنی اور چوری ایک بُرا فعل ہے۔ اسلام کی بھی یہی تعلیم ہے، پھر اسلام اور دوسرے مذاہب میں فرق کیا ہے؟ فرق یہ ہے کہ اسلام اس کی تلقین کرنے کے ساتھ ساتھ کہ ڈاکہ زنی اور چوری بُرا کام ہے۔ اسیا سماجی ڈھانچہ بھی فراہم کرتا ہے جس میں لوگ ڈاکے نہیں ڈالیں گے۔ اس کے لیے اسلام درج ذیل انسدادی اقدامات تجویز کرتا ہے:

زکوۃ کا حکم :

اسلام انسانی فلاح کے لیئے زکاۃ کا نظام پیش کرتا ہے۔ اسلامی قانوں کہتا ہے کہ ہر وہ شخص جس کی مالی بچت نصاب، ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی مالیت کو پہنچ جائے تو وہ ہر سال اس میں سے اڑھائی فیصد اللہ کی راہ میں تقسیم کرے۔ اگر ہر امیر شخص ایمانداری سے زکواۃ ادا کرے تو اس دنیا سے غربت ، جو ڈاکہ زنی کی اصل محرک ہے، ختم ہوجائے گی اور کوئی شخص بھی بھوک سے نہیں مرے گا۔

چوری کی سزا :

اسلام چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹنے کی سزا دیتا ہے۔ سورۃ مائدہ میں ہے:

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (سورۃ المائدہ 5 آیت 38)

” چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کا ہاتھ کاٹ دو، یہ اللہ کی طرف سے ان دونوں کے کیئے ہوئے جرم کی سزا ہے۔ اور اللہ بہت طاقتور اور بہت حکمت والا ہے۔”

اس پر غیر مسلم یہ کہ سکتے ہیں کہ ” 20 ویں صدی میں ہاتھ کاٹے جائیں؟ اسلام تو ایک ظالم اور وحشیانہ مذہب ہے ” لیکن ان کی یہ سوچ سطحی اور حقیقت سے بعید ہے۔

عملی نفاذ :

امریکہ کو دنیا میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے وہاں جرائم، چوری، ڈکیتی وغیرہ کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے۔ فرض کریں کہ امریکہ میں اسلامی شریعت نافذ کی جاتی ہے اور ہر امیر آدمی نصاب کے مطابق ، یعنی ساڑھے باون تولے چاندی  پر ہر سال زکواۃ ادا کرتا ہے اور ہر چور کا ہاتھ سزا کے طور کاٹ دیا جاتا ہے تو کیا امریکہ میں چوری اور ڈکیتی کی شرح بڑھ جائے گی، کم ہوجائے گی، یا اتنی ہی رہے گی؟ یقیناً کم ہوگی۔ مزید برآں یہ سخت قانون ممکنہ چوروں کو ارتکابِ جُرم سے روکنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔

میں اس بات سے متفق ہوں کہ اس وقت دنیا میں چوری کرنے والوں کی تعدار بہت زیادہ ہے اور اگر قطر ید کی سزا نافذ کی گئی تو لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کے ہاتھ کٹیں گے۔ لیکن یہ نکتہ پیشِ نظر رہے کہ جونہی آپ اس قانون کو نافذ کریں گے۔ چوری کی شرح فوری طور پر کم ہوجائے گی، تاہم اس سے پہلے اسلام کا نظامِ زکواۃ کار فرما ہو اور معاشرے میں صدقات و خیرات اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے اور غریبوں اور ناداروں کی مدد کا جذبہ فراواں ہو اور پھر سزاؤں کا نظام نافذ ہو تو چوری کرنے والا چوری کرنے سے پہلے سو بار سوچے گا کہ وہ اپنا ہاتھ کٹنے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔ عبرتناک سزا کا تصور ہی ڈاکوؤں اور چوروں کی حوصلہ شکنی کرےگا، بہت کم چوری کریں یا ڈاکہ ڈالیں گے۔ پھر چند ہی عادی مجرموں کے ہاتھ کاٹے جائیں گے اور لاکھوں لوگ چوری اور ڈکیتی کے خوف کے بغیر سکون سے رہ سکیں گے۔ اس طرح اسلامی شریعت کے عملی نفاذ سے خوشگوار نتائج بھی برآمد ہوں گے۔

عورتوں کی عصمت دری کا سدباب :

تمام مذاہب کے نزدیک عورتوں سے چھیڑ چھاڑ اور ان کی عصمت دری ایک سنگین جرم ہے۔ اسلام کی بھی یہی تعلیم ہے۔ پھر اسلام اور دوسرے مذاہب کی تعلیمات میں فرق کیا ہے؟ فرق اس حقیقت میں مضمر ہے کہ اسلام محض عورتوں کے احترام کی تلقین ہی نہیں کرتا اور خواتین سے چھیڑ چھاڑ اور ان کی عصمت دری جیسے سنگین جرائم سے نفرت ہی نہیں کرتا بلکہ اس امر کی بھرپور رہنمائی بھی کرتا ہے کہ معاشرے سے ایسے جرائم کا خاتمہ کس طرح کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے آپ درج ذیل زریں اصول ملاحظہ کیجیئے:

مردوں کے لیے حجاب :

اسلام کے حجاب کا نظام اپنی مثال ہے۔ قرآن مجید پہلے مردوں کو حجاب کا حکم دیتا ہے اور پھر عورتوں کو۔ مردوں کے حجاب ( پردہ ) کا ذکر مندرجہ ذیل آیت میں ہے:

قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (سورۃ النور 24 آیت 30)

” (اے نبی!) مومن مردوں سے کہ دیجیئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے بہت پاکیزگی کی بات ہے۔ اور اللہ اُن تمام باتوں سے بخوبی واقف ہے جو وہ کرتے ہیں۔”

اسلام کہتا ہے کہ جو شخص کسی غیر محرم کو دیکھے تو اسے چاہیئے کہ فوراً نگاہیں نیچی کرلے۔

عورتوں کے لیے حجاب:

عورتوں کے حجاب کا ذکر مندرجہ ذیل آیت میں ہے:

وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الإرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ (سورۃ النور 24 آیت 31)

“( اے نبی) مؤمن عورتوں سے کہ دیجیئے کہ وہ اپنی نگالیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی نمائش نہ کریں سوائے اس کے جو از خود ظاہرہو۔ اور ان کو چاہیئے کہ اپنے سینوں پر اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہر پر یا اپنے باپ پر یا اپنے سسر پر یا اپنے بیٹوں پر یا اپنے شوہر کے بیٹوں پر یا اپنے بھائیوں پر یا اپنے بھتیجوں پر یا اپنے بھانجوں پر یا اپنی ( مسلمان ) عورتوں پر یا اپنے دائیں ہاتھ کی ملکیت ( کنیزوں ) پر یا عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے نوکروں پر یا عورتوں سے چھپی باتوں سے ناواقف لڑکوں پر، اور وہ ( عورتیں ) اپنے پاؤں زور زور سے زمین پرمارتی نہ چلیں کہ ان کی زینت ظاہر ہو جائے جسے وہ چھپاتی ہیں۔ اور اے مومنو! تم سب اللہ سے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔” ( سورۃ النور 24 آیت 31)

حجاب کی حد یہ ہے کہ تمام جسم ڈھکا ہوا ہو۔ صرف چہرہ اور ہاتھ کی کلائیاں کھلی رکھی جاسکتی ہیں اور اگر عورتیں چاہیں تو وہ ان اعضاء کو بھی ڈھانپ سکتی ہیں۔ تاہم بعض علماء اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ چہرہ ڈھانپنا بھی لازم ہ۔ ( اور یہی مؤقف قرین صواب ہے)۔

حفاظتی حصار :

اللہ تعالی حجاب کا حکم کیوں دیتا ہے؟ اس کی وضاحت سورۃ الاحزاب کی مندرجہ ذیل آیت میں کی گئی ہے۔

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (سورۃ الاحزاب 33 آیت 59)

“اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مؤمنوں کی عورتوں سے کہ دیجیئے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں اوڑھ لیا کریں ( جب وہ باہر نکلیں ) یہ ( بات ) ان کے لیے قریب تر ہے کہ وہ ( حیا دار مؤمنات کے طور پر ) پہچانی جائیں اور انہیں ایذا نہ دی جائے ( کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرسکے ) اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ”

قرآن کے مطابق حجاب کا حکم عورتوں کو اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ باحیا عورتوں کے طو رپر پہچانی جاسکیں اور چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رہیں۔

ایک مثال سے وضاحت :

فرض کریں، دو جڑواں بہنیں ہیں۔ دونوں خوبصورت ہیں اور ایک گلی میں جارہی ہیں۔ ان میں سے ایک اسلامی حجاب میں ہے، جبکہ دوسری منی سکرٹ میں ملبوس ہے۔ نکڑ پر کوئی بدمعاش کھڑا کسی لڑکی چھیڑنے کا منتظر ہے۔ وہ کس سے چھیڑ چھاڑ کرے گا؟ اسلامی حجاب میں ملبوس لڑکی سے یا منی سکرٹ میں ملبوس لڑکی سے؟ ایسا لباس جو جسم کو چھپانے کے بجائے نمایاں کردے وہ بالواسطہ طو رپر مخالف جنس کو چھیڑ چھاڑ اور بدکاری کی دعوت دیتا ہے لہذا قرآن صحیح کہتا ہے کہ حجاب، یعنی پردہ کو چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رکھتا ہے۔

عصمت دری کرنے والے کے لیے موت کی سزا :

اسلامی شریعت عصمت دری کرنے والے کی سزا موت قرار دیتی ہے ( ڈآکٹر ذاکر نائیک نے عصمت دری کرنے والے (Rapist) کی سزا کو ” سزائے موت ” لکھا ہے جبکہ اسلامی شریعت کے نقطہء نظر سے زانی کی سزا یا حدود دو قسم کی ہے :

رجم (سنگسار) اور کوڑے۔

زانی اگر شادی شدہ ہے تو رجم ( سنگسار ) کیا جائے گا اور اگر غیر شادی شدہ ہے تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ( یا قید ) کی سزا دی جائے گی۔ )۔ غیر مسلم خوفزہ ہوں گے کہ اتنی بڑی سزا! بہت سے لوگ اسلام کو وحشی اور ظالمانہ مذہب قرار دیتے ہیں۔ لیکن ان کی یہ سوچ غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ میں نے یہ سوال سینکڑوں گیر مسلموں سے پوچھا ہے کہ فرض کیجیئے خدانخواستہ کوئی آپ کی بیوی ، آپ کی ماں یا آپ کی بہن کی عصمت دری کرے اور آپ کو منصف بنایا جائے اور جرم کرنے والے کو آپ کے سامنے لایا جائے۔ آپ اس کے لیے کیا سزا تجویز کریں گے؟ سب نے کہا: ” ہم اسے قتل کردیں گے۔ ” اور کچھ اس حد تک گئے کہ ” ہم اس کے مرنے تک اسے تشدد سے تڑپاتے رہیں گے۔ ” اب اگر کوئی آپ کی بیوی یا بیٹی یا آپ کی ماں کی عصمت دری کرے تو آپ اس مجرم کو قتل کرنا چاہیں گے۔ لیکن جب کسی اور کی بیوی، بیٹی یا ماں کی عصمت دری کی جاتی ہے تو مجرم کے لیے سزائے موت وحشیا نہ کیوں کہا جاتا ہے؟ آخر یہ دوہرا معیار کیوں؟

امریکہ میں عصمت دری کے روز افزوں واقعات :

امریکہ کو دنیا میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے۔ 1990ء کی ایف بھی آئی کی رپورٹ کے مطابق عصمت دری (Rape) کے 1،02،555 مقدمات درج کئے گئے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ صرف 16 فیصد مقدمات کا اندراج ہوا یا ان کی رپورٹ کی گئی۔ یوں 1990ء میں پیش آمدہ عصمت دری کے واقعات کی اصل تعداد معلوم کرنے کے لیے 100/16 یعنی 6۔25 سے ضرب دی جائے تو وہ 6،40،968 بنتی ہے۔ اور اگر اس مجموعی تعداد کو سال کے 365 دنوں سے تقسیم کیا جائے تو روزانہ اوسط 1،756 نکلتی ہے۔

بعد کی ایک اور رپورٹ کئ مطابق امریکہ میں اس برس عصمت دری کے اوسطاً 1900 واقعات روزانہ پیش آئے، امریکی محکمہ انصاف کے نیشنل کرائم سروے بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 1996ء میں آبروریزی کے 3،07،000 واقعات کی رپورٹ کی گئی اور یہ اصل تعداد کا صرف 31 فیصد تھی۔ اس طرح عصمت دری کے واقعات کی اصل تعداد 9،90،332 بنتی ہے جو دس لاکھ کے قریب ہے۔ گویا امریکہ میں اس سال ہر س32 سکینڈ کے بعد عصمت دری کا ایک واقعہ پیس آیا۔ ہوسکتا ہے اب امریکہ میں ایسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرنے والے اور دلیر ہوگئے ہوں۔ 1990ء کی ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق وہاں عصمت دری کے جنتے بھی واقعات کی رپورٹ کی گئی ان کے مجرموں میں سے صرف 10 فیصد گرفتار کئے گئے جو زانیوں کی کل تعداد کا صرف 1۔6 فیصد تھے۔ اور گرفتار شدگان میں سے بھی 50 فیصد کو مقدمے کی نوبت آنے سے پہلے ہی چھوڑ دیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف 0۔8 فیصد مجرموں کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسرے لفظوں میں اگر ایک شخص 125 مرتبہ یہ جرم کرتا ہے تو اسے صرف ایک بار سزا ملنے کا امکان ہے۔ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق 50 فیصد لوگ جن کو ان مقدمات کا سامنا کرنا پڑا انہیں ایک سال سے بھی کم قید کی سزا سنائی گئی۔ اگرچہ امریکی قانون کے مطابق ایسے جرم کے مرتکب افراد کی سزا سات سال قید ہے مگر پہلی دفعہ ایسا گھناؤنا جرم کنے والے کے ساتھ جج نرمی کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ ذرا تصور کریں کہ ایک شخص 125 دفعہ یہ جرم کرتا ہے اور اس کے مجرم ٹھہرائے جانے کا امکان ایک فیصد ہوتا ہے اور اس میں بھی نصف مرتبہ جج کا رویہ اختیار کرتے ہوئے اسے ایک سال سے بھی کم کی سزا دیتا ہے۔

اسلامی شریعت کی برکت :

فرض کریں امریکہ میں اسلامی شریعت کا نفاذ کیا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی عورت کی طرف دیکھا ہے تو وہ اپنی نگاہ نیچی کرلیتا ہے اور ہر عورت اسلامی حجاب، یعنی پردے میں رہتی ہے اور اس کا پورا جسم سوائے ہاتھوں اور چہرے کے ڈھکا ہوتا ہے۔ اس صورتِ حال کے باجود اگر کوئی عصمت دری کرتا ہے اور مجرم کو سزائےموت دی جاتی ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا کہ اس طرح عمصمت دری کی شرح بڑھ جائے گی ، وہی رہے گی یا کم ہو جائے گی؟ یقیناً شرح کم ہوجائے گی اور یہ اسلامی شریعت کے نفاذ کا بابرکت نتیجہ ہوگا۔

اسلام میں تمام مسائل کا عملی حل :

اسلام بہترین طرزِ زندگی ہے کیونکہ اس کی تعلیمات محض نظریاتی ہی نہیں بلکہ وہ انسانیت کو درپیش مسائل کے عملی حل بھی پیش کرتی ہیں۔ لہذا اسلام انفرادی اور اجتماعی سطحوں پر بہتر نتائج حاصل کرتا ہے۔ اسلام بہترین طرزِ زندگی کے کیونہ یہ قابل عمل عالمگیر مذہب ہے جو کسی ایک قوم نسل تک محدود نہیں، اسی لیے دوسرے مذاہب کے مقابلے میں صرف اسلام ہی ایسا دین ہے جس کو اپناکر انسان اپنی شاہراہِ حیات بالکل سیدھی بنا کر اخروی زندگی میں کامیابی و کامرانی حاصل کرسکتا ہے۔ اور اخروی کامیابی ہی حقیقی کامیابی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں