29

لوگ تلاوت لگا کر اپنے اپنے کام میں مشغول رھتے ھیں کیا یہ درست ھے؟

سوال

لوگ تلاوت لگا کر اپنے اپنے کام میں مشغول رھتے ھیں کیا یہ درست ھے؟

جواب
قرآنِ کریم کی تلاوت براہِ راست ہو یا ریکارڈ شدہ ہو ،بہر دوصورت اس کا ادب واحترام ضروری ہے، لہذا کسی دوسرے کام میں مشغول ہوکر پس منظر میں تلاوت لگانا جب کہ تلاوت کی طرف توجہ بھی نہ ہو تو یہ قرآن کریم کے آداب کے خلاف ہے، اس سے بچنا چاہیے، دوسرے کام سے فراغت میسر ہو تو اس وقت تلاوت لگاکر سن لیں، اور جب دوبارہ کام شروع کریں تو اس کو بند کردیں۔

 حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ ’’آلات جدیدہ کے شرعی احکام ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:   

 ’’یہ بھی ظاہر ہے کہ قرآنِ کریم جب اس میں (ٹیپ ریکارڈ میں) پڑھنا جائز ہے تو اس کا سننا بھی جائز ہے، شرط یہ ہے کہ ایسی مجلسوں میں نہ سناجائے جہاں لوگ اپنے کاروبار یا دوسرے مشاغل میں لگے ہوں، یاسننے کی طرف متوجہ نہ ہوں،  ورنہ بجائے ثواب کے گناہ ہوگا ‘‘۔    (آلات جدیدہ کے شرعی احکام از مولانا مفتی محمد شفیع ،ٹیپ ریکارڈر مشین پر تلاوت قرآن کا حکم ،ص:۲۰۷،ط: ادارۃ المعارف)فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144008200796

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں