49

طلاقِ بائن  سے کیا مراد ہے؟

سوال
سوال
طلاقِ بائن  سے کیا مراد ہے؟

جواب
طلاقِ بائن وہ طلاق ہوتی ہے جس سے نکاح ختم ہوجاتا ہے۔ یہ طلاق ایسے الفاظ سے ہوتی ہے جس سے فوری طور پر رشتہ نکاح ختم کرنا سمجھا جائے۔

طلاق بائن دو طرح کی ہے:

1- طلاقِ بائن خفیفہ: یہ ایک یا دو طلاق کو کہتے ہیں، جس میں رشتۂ نکاح ختم ہوجاتا ہے، شوہر کو رجوع کا حق نہیں رہتا۔ ہاں! اگر وہ دونوں دوبارہ ازدواجی زندگی گزارنا چاہیں تو دورانِ عدت یا بعد ختمِ عدت بقرارِ مہرِ جدید دوبارہ عقد  کرسکتے ہیں۔

2- طلا قِ مغلظہ: طلاقوں کا عدد تین تک پہنچ جائے تو اسے طلاقِ مغلظہ کہتے ہیں۔ طلاقِ مغلظہ کو بینونتِ کبریٰ بھی کہتے ہیں۔

طلاق کے جن الفاظ میں شدت نہیں ہوتی وہ عام طور پر  رجعی طلاق کے الفاظ ہوتے ہیں اورجن کے معنی میں شدت اور سختی ہوتی ہے وہ بائن کے الفاظ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بسااوقات ایک لفظ طلاقِ رجعی کا ہوتا ہے، مگر مخصوص اَحوال کی وجہ سے وہ بائن بن جاتا ہے، مثلاً غیر مدخولہ کو اگر طلاقِ رجعی  دی جائے تو وہ بائن ہوتی ہے، اسی طرح اگر بائن کے بعد رجعی دی جائے تو وہ بھی بائن ہوتی ہے وغیرہ۔ تفصیل کے لیے کتبِ فقہ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

طلاقِ بائن کے ذریعہ عورت نکاح سے خارج ہوجاتی ہے، میاں بیوی کا نکاح ختم ہوجاتاہے؛ اس لیے طلاقِ بائن کے بعد عدت کے دوران رجوع کرنا یا تجدیدِ نکاح سے قبل میاں بیوی کے تعلقات قائم کرنا یا ساتھ رہنا جائز نہیں۔ طلاقِ بائن ایک یا دو ہوں تو ان کے بعد رجوع کی صورت یہ ہے کہ شوہر گواہوں کی موجودگی میں نئے مہرکے ساتھ دوبارہ نکاح کرے۔ دوبارہ نکاح کی صورت میں آئندہ کے لیے شوہر کو اتنی ہی طلاق کا حق ہوگا جتنی رہ گئی ہیں، یعنی ایک طلاق ہو تو صرف دوطلاق کاحق حاصل ہوگا اور دو طلاق ہوں تو ایک طلاق کا حق ہوگا۔ آئندہ جب کبھی بھی مزید طلاقیں دیں اور طلاقوں کی تعداد تین تک پہنچ گئی تو بیوی اپنے شوہر پر حرام ہوجائے گی۔ پھر تجدیدِ نکاح کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144112200775

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
جواب
طلاقِ بائن وہ طلاق ہوتی ہے جس سے نکاح ختم ہوجاتا ہے۔ یہ طلاق ایسے الفاظ سے ہوتی ہے جس سے فوری طور پر رشتہ نکاح ختم کرنا سمجھا جائے۔

طلاق بائن دو طرح کی ہے:

1- طلاقِ بائن خفیفہ: یہ ایک یا دو طلاق کو کہتے ہیں، جس میں رشتۂ نکاح ختم ہوجاتا ہے، شوہر کو رجوع کا حق نہیں رہتا۔ ہاں! اگر وہ دونوں دوبارہ ازدواجی زندگی گزارنا چاہیں تو دورانِ عدت یا بعد ختمِ عدت بقرارِ مہرِ جدید دوبارہ عقد  کرسکتے ہیں۔

2- طلا قِ مغلظہ: طلاقوں کا عدد تین تک پہنچ جائے تو اسے طلاقِ مغلظہ کہتے ہیں۔ طلاقِ مغلظہ کو بینونتِ کبریٰ بھی کہتے ہیں۔

طلاق کے جن الفاظ میں شدت نہیں ہوتی وہ عام طور پر  رجعی طلاق کے الفاظ ہوتے ہیں اورجن کے معنی میں شدت اور سختی ہوتی ہے وہ بائن کے الفاظ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بسااوقات ایک لفظ طلاقِ رجعی کا ہوتا ہے، مگر مخصوص اَحوال کی وجہ سے وہ بائن بن جاتا ہے، مثلاً غیر مدخولہ کو اگر طلاقِ رجعی  دی جائے تو وہ بائن ہوتی ہے، اسی طرح اگر بائن کے بعد رجعی دی جائے تو وہ بھی بائن ہوتی ہے وغیرہ۔ تفصیل کے لیے کتبِ فقہ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

طلاقِ بائن کے ذریعہ عورت نکاح سے خارج ہوجاتی ہے، میاں بیوی کا نکاح ختم ہوجاتاہے؛ اس لیے طلاقِ بائن کے بعد عدت کے دوران رجوع کرنا یا تجدیدِ نکاح سے قبل میاں بیوی کے تعلقات قائم کرنا یا ساتھ رہنا جائز نہیں۔ طلاقِ بائن ایک یا دو ہوں تو ان کے بعد رجوع کی صورت یہ ہے کہ شوہر گواہوں کی موجودگی میں نئے مہرکے ساتھ دوبارہ نکاح کرے۔ دوبارہ نکاح کی صورت میں آئندہ کے لیے شوہر کو اتنی ہی طلاق کا حق ہوگا جتنی رہ گئی ہیں، یعنی ایک طلاق ہو تو صرف دوطلاق کاحق حاصل ہوگا اور دو طلاق ہوں تو ایک طلاق کا حق ہوگا۔ آئندہ جب کبھی بھی مزید طلاقیں دیں اور طلاقوں کی تعداد تین تک پہنچ گئی تو بیوی اپنے شوہر پر حرام ہوجائے گی۔ پھر تجدیدِ نکاح کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144112200775

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں