61

ہاتھ کی انگلیوں میں پتھر کی انگھوٹیاں پہننا جیسا کہ عقیق، فیروزہ، یاقوت وغیرہ

سوال
السلام علیکم، حضرت ! شوق کے اعتبار سے اگر ہاتھ کی انگلیوں میں کچھ پتھر کی انگھوٹیاں پہن لی جائیں جو چاندی میں تیار ہوں جیسا کہ عقیق، فیروزہ، یاقوت وغیرہ تو اس میں کوئ حرج تو نہیں؟شریعت کے حوالے سے بتا دیجیے، شکریہ
جواب
مرد کیلئے چاندی کے علاوہ کسی اور دھات مثلاً سونا، لوہا، تانبا، پیتل وغیرہ کی انگوٹھی پہننا جائز نہیں ہے، مرد کے لیے چاندی کی انگوٹھی بهی ساڑھے تین ماشے سے زیادہ نہ هو۔
اسی طرح عورت کے لیے بھی سونا چاندی کے علاوہ دوسرے دھاتوں کی انگوٹھی پہننا مکروہ ہے۔
واضح رہے کہ
مختلف قسم کے پتھر مثلاً: عقیق، فیروز، یاقوت وغیرہ سے متعلق یہ اعتقاد و یقین رکھنا کہ فلاں پتھر میری زندگی پراچھے اثرات ڈالتا ہے
یا روزی میں برکت هوتی هے،
پتھروں سے متعلق ایسے عقیدے رکهنا ناجائز هے، بلکہ زندگی پر اچھے برے اثرات انسان کے اپنے عملِ صالح یا عملِ بد سے ہیں، نہ کہ پتھرسے، لہذا اس عقیدے کے ساتھ انگوٹھیوں کو پہننا ناجائز و حرام ہے۔البتہ اگر کوئی Medical Treatment کے لیے پہنے اور واقعتاً اس کے پہننے سے بدن کے ظاہری حصہ پر اثر هوتا هو اور پہننے میں غلط عقیدہ نہ هو، تو بطورِ علاج پہننے کی گنجائش هوگی۔
اسی طرح اگر ان پتھروں سے متعلق کسی قسم کا کوئی غلط عقیدہ نہ هو، تو پهر انگوٹھی میں ایسے پتهر لگاکر پہننے میں کوئی حرج نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی صحیح مسلم:

عن عبد الله بن سرجس قال: رأيت الأصلع -يعنى عمر بن الخطاب – يقبل الحجر، ويقول: والله إنى لأقبلك وإنى أعلم أنك حجر، وأنك لاتضر ولاتنفع، ولولا أنى رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قبلك ما قبلتك”.

(كتاب الحج، باب استحباب تقبيل الحجر الأسود فى الطواف، ج: 2، ص: 925، ط: دار احیاء التراث العربی)

وفی شرح النووی علی مسلم:

“وأما قول عمر رضي الله عنه: لقد علمت أنك حجر وأنى لأعلم أنك حجر، وأنت لاتضر ولاتنفع، فأراد به بيان الحث على الاقتداء برسول الله صلى الله عليه وسلم في تقبيله ونبه على أنه أولا الاقتداء به لما فعله، وإنما قال: وأنك لاتضر ولاتنفع؛ لئلايغتر بعض قريبى العهد بالاسلام الذين كانوا ألفوا عبادة الأحجار وتعظيماً ورجاء نفعها وخوف الضر بالتقصير في تعظيمها، وكان العهد قريباً بذلك، فخاف عمر رضي الله عنه أن يراه بعضهم يقبله ويعتنى به فيشتبه عليه، فبين أنه لايضر ولاينفع بذاته، وإن كان امتثال ما شرع فيه ينفع بالجزاء والثواب، فمعناه أنه لا قدرة له على نفع ولا ضر، وأنه حجر مخلوق كباقي المخلوقات التي لاتضر ولاتنفع، وأشاع عمر هذا في الموسم ليشهد في البلدان ويحفظه عنه أهل الموسم المختلفوا الأوطان والله أعلم”.

(كتاب الحج، باب استحباب تقبيل الحجر الأسود فى الطواف، ج: 1، ص: 413، ط: قدیمی)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں