36

اگر ہم گھر میں نماز پڑھ رہے ہوں اور کمرہ میں کارٹون والے اسٹیکرز لگے ہوں، تو کیا نماز ہو جائے گی؟

سوال
اگر ہم گھر میں نماز پڑھ رہے ہوں اور کمرہ میں کارٹون والے اسٹیکرز لگے ہوں، تو کیا نماز ہو جائے گی؟

جواب: جس کمرے کے اندر جاندار کی تصویر لگی ہوئی ہو، چاہے اوپر ہو یا نیچے ہو، سامنے ہو، دائیں ہو یا بائیں ہو، تو اس کمرے کے اندر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔
سب سے زیادہ کراہت اس تصویر میں ہے، جو نمازی کے سامنے جانب قبلہ میں ہو، پھر وہ جو نمازی کے سر پر معلق ہو، پھر وہ جو اس کے داہنے ہو، پھر وہ جو بائیں ہو، اور سب سے کم کراہت اس میں ہے کہ نمازی کے پیچھے کسی دیوار وغیرہ میں ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی البحر الرائق:

(قوله ولبس ثوب فيه تصاوير) لأنه يشبه حامل الصنم فيكره وفي الخلاصة وتكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لم يصل اهـ.
وهذه الكراهة تحريمية وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان وأنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه – صلى الله عليه وسلم – «أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم»۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وأشدها كراهة ما يكون على القبلة أمام المصلي والذي يليه ما يكون فوق رأسه والذي يليه ما يكون عن يمينه ويساره على الحائط والذي يليه ما يكون خلفه على الحائط أو الستر

(ج: 2، ص: 29، ط: دار الکتاب الاسلامی)

وفی الشامیۃ:

(ولبس ثوب فيه تماثيل) ذي روح، وأن يكون فوق رأسه أو بين يديه أو (بحذائه) يمنة أو يسرة أو محل سجوده (تمثال) ولو في وسادة منصوبة لا مفروشة (واختلف فيما إذا كان) التمثال (خلفه والأظهر الكراهة۔۔۔)

(ج: 1، ص: 647، ط: دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں