48

نفلی عمل میں ایک سے زائد نیت کرنا

سوال
میں نے سنا ہے کہ نفلی کام میں ستر سے زائد نیت کر سکتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے؟

جواب
کسی بھی نفلی عمل یا نفلی عبادت کی ادائیگی  میں ایک عمل کرتے ہوئے متعدد نیتیں کی جا سکتی ہیں، جیسے: غسل ایک عمل ہے، اس میں (اگر حاجت ہوتو) جنابت دور کرنے کی نیت بھی کی جا سکتی ہے، اور (اگر عید کا دن بھی ہو تو) عید کے غسل کی بھی نیت کی جاسکتی ہے، اور (اگر وہی دن جمعہ کا بھی ہو تو) جمعہ کے غسل کی نیت بھی کی جا سکتی ہے، اس طرح ایک ہی غسل میں نیت کی وجہ سے ان تمام امور کا ثواب ملے گا ۔

اسی طرح دو رکعت نفل میں تحیۃ المسجد، تحیۃ الوضوء، چاشت وغیرہ  کئی نیتیں کی جا سکتی ہیں اور متعدد نیتیں کرنے پر انہی دو رکعتوں میں ان تمام نوافل کا ثواب ملے گا۔  اسی طرح سے نفلی صدقہ کرتے ہوئے مختلف امور کے لیے صدقہ کی نیت بھی کرسکتا ہے،  اسی طرح طواف کر کے کئی افراد کو ثواب بخشنا چاہے تو بخش سکتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ صرف دو رکعت نفل میں ساری نوافل کی نیت کر کے باقی نوافل کو مستقل طور پر چھوڑ دیا جائے، بلکہ حسبِ موقع جتنی توفیق ہو زیادہ سے زیادہ  نوافل پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

 تاہم ۷۰ کے عدد یا اس سے کم زیادہ کی کوئی قید نہیں ہے، شرعاً اس کے لیے کوئی عدد متعین نہیں۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ جس عمل کی نیت کر رہا ہو اس کا وقت اور موقع بھی ہو، تب اس کا اجر ملےگا، اور اگر کسی ایسے عمل کی یا کسی ایسی نفل کی نیت کی جس کا وہ وقت ہی نہیں تھا  پھر وہ اجر کا مستحق نہیں ہوگا، جیسےرات میں نفل پڑھتے وقت چاشت کی نیت لغو اور بےفائدہ ہے۔

حاشیۃ الطحطاویمیں ہے:

“ثم إنه إن جمع بين عبادات الوسائل في النية صح، كما لو اغتسل لجنابة وعيد وجمعة اجتمعت ونال ثواب الكل، وكما لو توضأ لنوم وبعد غيبة وأكل لحم جزور، وكذا يصح لو نوى نافلتين أو أكثر، كما لو نوى تحية مسجد وسنة وضوء وضحى وكسوف، والمعتمد أن العبادات ذات الأفعال يكتفي بالنية في أولها ولا يحتاج إليها في كل جزء اكتفاء بانسحابها عليها، ويشترط لها الإسلام والتمييز والعلم بالمنوى، وأن لا يأتي بمناف بين النية والمنوي”.

(باب شروط الصلاة وأركانها: 1/216، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

 

فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 143909201840

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں