49

سونا بطور قرض دینے کا حکم

سونا بطور قرض دینے کا حکم
سوال
 سونے کو قرض دینا کیسا ہے؟

جواب
واضح رہےسونے اور چاندی کو بطورِ قرض لینا اور دینا جائز ہے، چاہے واپس کرتے وقت سونے کی قیمت میں فرق آیا ہو یا نہ  آیا ہو۔

بصورتِ مسئولہ سونے کو بطور قرض دینا جائز ہے، جتنے کیرٹ کا سونا اور جتنا وزن قرض میں دیا ہو، واپسی کے وقت اتنا ہی وزن اور اتنے ہی کیرٹ کا سونا واپس کرنا ضروری ہوگا، واپس لیتے وقت کمی یا بیشی کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر واپسی کے وقت سونا موجود نہ ہو، تو واپسی کے دن اتنے ہی وزن کے اسی معیار کے سونے کی بازاری قیمت کے مطابق باہمی رضامندی سے کسی اور جنس سے قرض اتارنے کی اجازت ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

“فيصح استقراض الدراهم والدنانير، وكذا كل ما يكال أو يوزن أو يعد متقارباً”. (رد المحتار علی الدرالمختار، ج:5، ص:161، ط:ایچ ایم سعید) 

فتاوی شامی میں ہے:

“(وما غلب فضته وذهبه فضة وذهب)  … و) كذا (لايصح الاستقراض بها إلا وزناً) كما مر في بابه”. (رد المحتار علی الدرالمختار، ج:5، ص:265، ط:ایچ ایم سعید) فقط والله اعلم

فتوی نمبر : 144110201067

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں