61

کیا سودی رقم سے کئے گئے کاروبار کی آمدن حرام ھو گی؟ ؟

سوال

کیا سودی رقم سے کئے گئے کاروبار کی آمدن حرام ھو گی؟ ؟

جواب

چوں کہ سودی رقم اصلاًً حرام ہے ؛اس لیے اس سے نفع حاصل کرنا،کاروبار کرنابھی حرام ہے۔سودی رقم استعمال کرکے اگرچہ حلال کاروبار کیاجائے تب بھی اس میں حرمت وخباثت بدستور برقرار رہے گی۔اور سود کے ذریعہ کیے جانے والے کاروبار سے حاصل شدہ منافع حلال نہیں ہوگا۔

البتہ ایسی حرام کمائی سے کاروبار کرناجس کا تعلق شخصی معاملات سے ہو ،مثلاًًغصب یا رشوت وغیرہ کے ذریعہ حاصل ہونے والے مال سے کاروبار کیاجائے تو اس کا حکم یہ ہے کہ  اصل رقم مالک کی طرف لوٹادی جائے، اور  اس کے ذریعہ جوکاروبار کیاہے اس کا نفع جائز ہوگا۔اور اگر مالک کا علم نہ ہو تواس کی طرف سے فقراء مساکین پر وہ رقم صدقہ کردی جائے۔

” لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ۔” (شامی، کتاب الحظر والاباحۃ ، باب الاستبراء، فصل فی البیع 6/385، سعید)

اسی طرح وہ حرام مال جو انسان کو بدل اور معاوضہ کے طور پر حاصل ہوا ہو، مثلاً: مسلمان نے شراب یاخنزیروغیرہ بیچ کر رقم حاصل کی ہو اور ایسی رقم سے کاروبار کیاہو ،اس صورت کاحکم یہ ہے کہ ایسی رقم سے کیے جانے والے کاروبار کی آمدنی جائز ہوگی شرط یہ ہے کہ جتنی رقم حرام آمدنی کی لگائی ہے اسے بلانیت ثواب فقراء پر صدقہ کردے۔

مزید تفصیل کے لیے فتاویٰ بینات ،جلد چہارم ،عنوان:’’سودی اداروں کےملازمین کے پاس جمع شدہ رقم کا حکم‘‘ص:75 تا 86،مطبوعہ مکتبہ بینات ،جامعہ بنوری ٹاؤن ملاحظہ فرمائیں۔فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 143811200027

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں