52

موبائل ایپ پر آج کل پیسے کمائے جاتے ہیں انکا شرعی حکم کیا ھے

موبائل ایپ پر آج کل پیسے کمائے جاتے ہیں انکا شرعی حکم کیا ھے

جواب

سوال میں مذکورہ طریقہ کار  پر کام کرکے پیسہ کمانا درج ذیل وجوہات کی بنا پر ناجائز ہے:

اس میں ایسے لوگ  اشتہارات کو دیکھتے ہیں  جن کایہ چیزیں لینے کا کوئی ارادہ ہی نہیں، جیسا کہ آپ ویڈیو میں مختلف اشتہار دیکھتے ہیں۔  بائع کو ایسے دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ دکھانا جو کہ کسی طرح بھی خریدار نہیں، یہ بیچنے اور خریدنے والے کے ساتھ  ایک قسم کا دھوکا ہے۔
 نامحرم کی تصویر  کا دیکھنا جائز نہیں؛ لہذا اس محنت کرنے  پر جو اجرت  لی جائے گی وہ بھی جائز نہ ہوگی۔
مزید یہ کہ آپ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی اور نہ ہی اس ویب سائٹ پر اس قسم کی کوئی وضاحت موجود ہے کہ  لی جانے والی رقم کس مد میں لی جاتی ہے؟ اگر یہ محض پیکج کی قیمت ہے تو اس پیکج کے خریدنے کا حکم گزر چکا۔ اور اگر یہ کسی قسم کی سرمایہ کاری ہے،تو اس رقم سے کون سا  کاروبار کیا جاتا ہے؟ یہ بھی واضح نہیں۔ اس  لیے یہ بظاہر  سودی لین دین ہی کی ایک شکل ہے۔  لہٰذا  حلال کمائی کے لیے کسی بھی  ایسے طریقے کو اختیار کرنا چاہیے  کہ جس میں اپنی محنت شامل ہو ایسی کمائی زیادہ بابرکت ہوتی ہے۔البتہ ایڈز (اشتہارات) دیکھ کر آپ اتنے پیسے وصول کر سکتے ہیں جتنے آپ نے جمع کروائے تھے، جمع کروائی گئی رقم سے زیادہ رقم وصول کرنا جائز نہیں ہوگا۔
حدیث شریف میں ہے:

شعب الإيمان (2/ 434):

” عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: ” عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ، وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ “.

ترجمہ:آپ ﷺ سے پوچھا گیا  کہ سب سے پاکیزہ کمائی کو ن سی ہے؟تو آپ ﷺنے فرمایا: آدمی کا  خود  اپنے ہاتھ سے محنت کرنا اور ہر جائز اور مقبول بیع۔

شرح المشكاة للطيبي الكاشف عن حقائق السنن (7/ 2112):

فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں