54

عنوان:مسجد کا پیسہ مدرسہ میں خرچ کرنا کیسا ہے؟

عنوان:مسجد کا پیسہ مدرسہ میں خرچ کرنا کیسا ہے؟
سوال:میرا تعلق گوجرانوالہ ، پنجاب، پاکستان سے ہے آپ پوچھنا یہ تھا کہ مسجد کے بجلی کے بل اور امام و خطیب کے وظیفہ کی مد میں چندہ اکھٹا کرتے ہیں۔مسجد سے متصل طلباء اور طالبات کا مدرسہ بھی ہے ۔ اب مسئلہ یہ پوچھنا تھا کہ کسی صورت میں مسجد کے پیسوں کو مدرسہ کی ضرریات پوری کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ موسم گرما میں اے سی اور پنکھے چلنے کی وجہ سے جب مسجد کا بل زیادہ آتا ہے تو بل کے لئے دوبارہ اعلان کیا جاتا ہے ۔بصورت دیگر نمازیوں کو گرمی میں نماز پڑھنی پڑتی ہے ۔ اس معاملہ میں رہنمائی فرمائیں کیا کوئی گنجائش ہے کہ اس صورت حال میں مسجد کے پیسے مدرسہ میں استعمال کیے جائیں۔
بسم الله الرحمن الرحيم

جب لوگوں سے مسجد کی بجلی کا بل ادا کرنے اور امام وخطیب کو وظیفہ دینے کے عنوان سے چندہ کیا جاتا ہے تو مسجد کے لئے وصول شدہ چندے کی رقم مدرسے میں خرچ کرنا شرعا جائز نہیں ہے۔ ․․․قالوا مراعاة غرض الواقفین واجبة (رد المحتار علی الدر المختار6/665، ط: زکریا)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں