63

سوال یہ ہے کہ تجدید نکاح اور تجدید ایمان کیسے کی جاتی ہے ؟ نیز دونوں کیلئے گواہوں کا ہونا لازمی ہے کہ نہیں؟ پورا طریقہ کار کیا ہے ؟

سوال:
سوال یہ ہے کہ تجدید نکاح اورتجدید ایمان کیسے کی جاتی ہے ؟ نیز دونوں کیلئے گواہوں کا ہونا لازمی ہے کہ نہیں؟ پورا طریقہ کار کیا ہے ؟

جواب نمبر: 601092
بسم الله الرحمن الرحيم

 تجدید ایمان: کے لئے گواہوں کا ہونا ضروری نہیں ہے؛ البتہ کسی نیک صالح شخص یا عالم کے سامنے کر لیاجائے تو بہتر ہے اور اگر منافی ایمان کام کچھ لوگوں کے سامنے کیا تھا یا ان کے علم میں آگیا تو اپنے تجدید ایمان کا اظہار ان کے سامنے کردیا جائے تاکہ انھیں بدگمانی نہ رہے۔

تجدید نکاح: کے لئے دو مسلمان مرد گواہوں کا ہونا یا ایک مرد اور دوعورتوں کا ہوناضروری ہے نیز تجدید نکاح میں مہر بھی نیا مقرر کیا جائے گا چاہے اس کی مقدار کم ہو مگر ۳۱/ گرام چاندی سے کم نہ ہو۔

تجدید ایمان کا طریقہ یہ ہے کہ اس کفریہ قول و عمل سے توبہ کرکے آئندہ تمام کفر و شرک کی باتوں سے پرہیز کرنے کا عہد کرے اور دل کے یقین کے ساتھ زبان سے کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑھے اور اس بات کا اقرار کرے کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی بھی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں۔

تجدید نکاح کا طریقہ یہ ہے کہ کم از کم دو مسلمان گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کا ذکر کرتے ہوئے مرد و عورت نکاح کا ایجاب و قبول کریں مثلاً مرد عورت سے کہے میں نے اتنے مہر کے عوض تم سے نکاح کیا، عورت اس کے جواب میں کہے میں نے قبول کیا۔ یہ سب باتیں گواہوں کی موجودگی میں ہوں وہ ان کی باتوں کو اپنے کانوں سے سنیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں