57

سوال:میت کو غسل دینے کا مسنون طریقہ مطلوب ہے ؟

سوال:میت کو غسل دینے کا مسنون طریقہ مطلوب ہے ؟
جواب نمبر: 62834
بسم الله الرحمن الرحيم
میت کو غسل دینے کا طریقہ درج ذیل ہے: جس تختہ پر غسل دیا جائے پہلے اس کو تین یا پانچ یا سات مرتبہ لوبان وغیرہ کی دھونی دے لیں، اس پر میت کو قبلہ رخ کرکے یا جیسے بھی آسان ہو لٹایا جائے، اس کے بعد میت کے بدن کے کپڑے چاک کرلیں اور ایک تہبند اس کے ستر پر ڈال کر بدن کے کپڑے تارلیں، یہ تہبند موٹے کپڑے کا ناف سے لے کر پنڈلی تک ہونا چاہیے تاکہ بھیگنے کے بعد ستر نظر نہ آئے، پھر بائیں ہاتھ میں دستانے پہن کر میت کو استنجا کرائیں، اس کے بعد وضو کرائیں اور وضو میں کلی نہ کرائیں نہ ناک میں پانی ڈالا جائے اور نہ گٹوں تک ہاتھ دھوئے جائیں، ہاں البتہ کوئی کپڑا یا روئی وغیرہ انگلی پر لپیٹ کر تر کرکے ہونٹوں، دانتوں اور مسوڑھوں پر پھیر دیں، پھر اسی طرح ناک کے سوراخوں کو بھی صاف کردیں، خاص کر اگر میت جنبی یا حائضہ ہو تو منہ اور ناک پر انگلی پھیرنے کا زیادہ اہتمام کیا جائے، اس کے بعد ناک، منہ اور کانوں کے سوراخوں میں روئی رکھ دیں؛ تاکہ وضو وغسل کراتے ہوئے پانی اندر نہ جائے، وضو کرانے کے بعد ڈاڑھی وسر کے بالوں کو صابن وغیرہ سے خوب اچھی طرح دھوویں ، پھر مردے کو بائیں کروٹ پر لٹاکر بیری کے پتوں میں پکا ہوا یا سادہ نیم گرم پانی دائیں کروٹ پر خوب اچھی طرح تین مرتبہ نیچے سے اوپر تک بہادیں تاکہ پانی بائیں کروٹ کے نیچ پہنچ جائے۔ پھر دائیں کروٹ پر لٹاکر اس طرح بائیں کروٹ پر سر سے پیر تک تین مرتبہ پانی ڈالا جائے کہ پانی دائیں کروٹ تک پہنچ جائے، نیز پانی ڈالتے ہوئے بدن کو بھی آہستہ آہستہ ملا جائے، اگر میسر ہو تو صابن بھی استعمال کریں۔ اس کے بعد میت کو ذرا بٹھانے کے قریب کردیں اور پیٹ کو اوپر سے نیچے کی طرف آہستہ آہستہ ملیں اور دبائیں اگر کچھ نجاست نکلے تو صرف اس کو پونچ کر دھو ڈالیں، وضو وغسل لوٹانے کی ضرورت نہیں، اس کے بعد اس کو بائیں کروٹ پر لٹاکر کافور ملا ہوا پانی سرسے پیر تک تین دفعہ ڈالیں، پھر سارے بدن کو تولیہ وغیرہ سے پونچھ دیا جائے، ویوضع کما مات کما تیسر في الأصح علی سریرٍ مجمرٍ وترًا إلی سبعٍ فقط ”فتح“ ککفنہ․․․ إلی قولہ: وینشف في ثوبٍ إلخ․ (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/ ۸۴-۸۹، ط: زکریا دیوبند)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں