55

داڑھی کتنی رکھنی واجب ھے؟

سوال

داڑھی کتنی رکھنی واجب ھے؟

جواب

کانوں کے پاس جہاں سے جبڑے  کی ہڈی شروع ہوتی ہے  یہاں سے داڑھی کی ابتدا ہےاور  پورا جبڑا  داڑھی کی حد ہے۔ اور بالوں کی لمبائی کے لحاظ سے داڑھی کی کم از کم مقدار  ایک مشت ہے، اس سے زائد بال ہوں تو  ایک مشت کی حد تک اس کو کاٹ سکتے ہیں۔  ڈاڑھی کے بارے میں یہی معمول آں حضرت ﷺ اور صحٰابہ رضی اللہ  عنہم سے مروی ہے۔

داڑھی کی یہ مقدار اس لیے واجب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی تاکید کے ساتھ داڑھی بڑھانے کا حکم دیا ہے،  جن روایات کی بنا پر داڑھی بڑھانا واجب ہے،  دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے داڑھی کو ایک مشت تک کم کروانا ثابت ہے، اس سے کم مقدار کسی سے بھی ثابت نہیں ہے، ان تمام روایات کے مجموعے سے یہی نتیجہ نکلتاہے کہ داڑھی کاٹنے کی آخری حد ایک مشت ہے، اس سے کم جائز نہیں ہے، اگر جائز ہوتی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کوئی کم کرتے۔ اور ایک مشت سے زائد اتنی مقدار تک داڑھی چھوڑ سکتے ہیں جس سے آدمی خوب صورت اور  وجیہ نظر آئے۔ یہ ہر شخص کے چہرے اور جسامت کے اعتبار سے مختلف ہوسکتاہے،  لیکن داڑھی اتنی لمبی رکھ لینا کہ بال منتشر و پراگندہ معلوم ہوں یا وجاہت متاثر ہو، درست نہیں ہے۔

ملاحظہ ہو: حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں:

“أَنَّ النَّبِيَ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِهِ مِنْ عَرْضِهَا وَطُولِهَا”.

 ترجمہ: ’’نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی داڑھی مبارک لمبائی اور چوڑائی میں کم کرتے تھے۔‘‘ (الترمذي، السنن، 5: 94، رقم: 2762، بيروت: دار إحياء التراث العربي)

“عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلیٰ الله عليه وآله وسلم قَالَ: خَالِفُوا الْمُشْرِکِينَ وَفِّرُوا اللِّحَی وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ. وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَی لِحْيَتِهِ فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ”.

ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کی مخالفت کرو، مونچھیں باریک کرو اور داڑھی بڑھاؤ۔ حضرت ابن عمر جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو اضافی ہوتی اس کو کاٹ دیتے۔‘‘ (بخاري، الصحيح، 5: 2209، رقم: 5553، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة)

مروان بن سالم مقفع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا:

“يَقْبِضُ عَلَی لِحْيَتِهِ فَيَقْطَعُ مَا زَادَ عَلَی الْکَفِّ”.

ترجمہ: ’’وہ اپنی داڑھی مبارک کو مٹھی میں پکڑ کر جو مٹھی سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے تھے۔‘‘ (أبي داؤد، السنن، 2: 306، رقم: 2357، دار الفکر حاکم،

فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں