52

اذان مغرب اور اقامت نماز مغرب کے درمیان کتنا وقفہ دیا جا سکتا ہے؟

سوال
اذان مغرب اور اقامت نماز مغرب کے درمیان کتنا وقفہ دیا جا سکتا ہے؟
اور اقامت نماز مغرب کے درمیان کتنا وقفہ دیا جا سکتا ہے؟

جواب
عام نمازوں میں نماز اور اذان میں اتنے وقفہ کا حکم ہے کہ کھانا کھانے والا اپنے کھانے سے، پینے  والا اپنے پینے سے، اور قضاءِ حاجت کرنے والا قضاءِ حاجت کرکے فارغ ہوجائے۔مغرب کی نماز میں چوں کہ تعجیل کا حکم ہے ؛ اس لیے اس میں اتنا وقفہ کرنا درست نہیں ہے، لیکن بالکل وصل بھی مکروہ ہے؛ اس لیے اذان اور اقامت کے درمیان کچھ فصل ہونا ضروری ہے، مغرب کی نماز میں اس فصل کی تحدید   میں امام صاحب رحمہ اللہ کا  قول  یہ ہے کہ ایک سکتہ کے بقدر وقفہ کرے، اور موذن بیٹھے نہیں، اور ایک سکتہ کی مقدار ان کے ہاں ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیات کے بقدر ہے، اور ایک روایت کے مطابق تین  قدم چلنے کے بقدر۔ اور صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک دو خطبوں کے درمیان جلسہ کے بقدر  وقفہ کرنا کافی ہے، یعنی ان کے بقول مؤذن اتنی مقدار بیٹھے گا کہ زمین  پر تمکن حاصل ہوجائے اور اس میں طوالت  نہ ہو۔ اور خود امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا عمل بھی یہی تھا کہ مغرب کی اذان اور نماز  کے درمیان وہ   بیٹھتے نہیں تھے۔اور یہ اختلاف  افضلیت میں ہے؛ اس لیے کہ مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان  بیٹھنا امام صاحب کے نزدیک بھی جائز ہے  اور نہ بیٹھنا اور تین آیتوں کے بقدرکھڑے کھڑے فصل کرنا  صاحبین کے نزدیک بھی جائز ہے۔
 حاصل یہ ہے کہ عام حالت میں مغرب کی نماز میں تعجیل افضل ہے، مغرب کی  نماز اور اذان میں صرف ایک بڑی آیت یا تین مختصر آیات کی تلاوت کے بقدر  وقفہ کرکے نماز پڑھ لینی چاہیے،   اور جتنی دیر میں دورکعت ادا کی جاتی ہیں  (یعنی 2 منٹ ) یا اس سے   زیادہ  تاخیر کرنا مکروہِ تنزیہی ہے،اس کا معمول بنانا درست نہیں ہے، اور  بغیر عذر کے اتنی تاخیر کرنا کہ ستارے چمک جائیں  مکروہِ تحریمی ہے۔ (فتاویٰ جامعہ)

البتہ عذر کی وجہ سے تاخیر مکروہ نہیں ہے،جیساکہ مرض وسفر کی بنا پر  مغرب کو آخر وقت تک مؤخر کرنا اور عشاء کو اول وقت میں پڑھنا درست ہے۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (1/ 346):

فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں