21

ہمارے ہاں بلوچستان کے لوگ رہتے ہیں، کئی  عرصہ سے اب یہ علاقہ بھی ان کا  گاؤں بن چکا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی ان کا  رشتہ دار مرجائے تو وہ دو جنازے کرنا چاہتے ہیں، ایک اب موجودہ جگہ پر، دوسرا بلوچستان میں کیا، اگر ایسا نہ کریں تو دونوں علاقے ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں، اس شرعی حل کیا ہوگا؟

سوال
ہمارے ہاں بلوچستان کے لوگ رہتے ہیں، کئی  عرصہ سے اب یہ علاقہ بھی ان کا  گاؤں بن چکا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی ان کا  رشتہ دار مرجائے تو وہ دو جنازے کرنا چاہتے ہیں، ایک اب موجودہ جگہ پر، دوسرا بلوچستان میں کیا، اگر ایسا نہ کریں تو دونوں علاقے ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں، اس شرعی حل کیا ہوگا؟

جواب
اگر میت کے اولیاء  نے  نماز جنازہ پڑھ لی یا ان کی اجازت سے  پڑھائی گئی  تو نمازِ جنازہ ادا ہو گئی اور فر ضِ کفایہ ادا ہوگیا۔دوبارہ جنازہ  ادا کرنا درست نہیں۔دوسری بار جنازہ مشروع نہیں۔  علاقہ  کے لوگوں کا ناراض ہونے کی وجہ سےدوسرا جنازہ کرنا شرعاً درست نہیں۔

البتہ اگر  میت کے ولی نے نمازِ جنازہ نہیں پڑھی  اور نہ ہی اس کی اجازت سے پڑھی گئی ، بلکہ ایسے لوگوں نے پڑھی جن کو اس میت پر ولایت کا حق نہیں  تو ولی اس کی نمازِجنازہ پڑھ سکتا ہے، لیکن اس دوسری جماعت میں صرف وہ لوگ شریک ہوں گے جو پہلی میں شریک نہیں تھے۔

“فإن صلی غیره أي غیر الولي ممن لیس له حق التقدم علی الولي و لم یتابعه الولي أعاد الولي ولو علی قبره”. (الدرالمختار ، باب صلاة الجنائز، ۲/۲۲۲ ط سعید )

” (ثم الولي) بترتیب عصوبة الإنکاح ، فلا ولایة للنساء ولا للزوج”. (رد المحتار ص ۶۱۶) فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 143909201209

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

0 Reviews

Write a Review

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں