71

کھانا کھانے کا سنت طریقہ کیا ہے اور اس میں کیا حکمت ہے ؟

سوال:کھانا کھانے کا سنت طریقہ کیا ہے اور اس میں کیا حکمت ہے ؟

بسم الله الرحمن الرحيم

کھانے کی چند اہم سنتیں یہ ہیں اور ان کی حکمت واضح ہے :

(۱) کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا۔
عن سلمان رضی اللّٰہ عنہ قال: قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: برکة الطعام الوضوء قبلہ والوضوء بعدہ۔ (شمائل ترمذی ۱۲، سنن وآداب ۷۵)

(۲) اجتماعی طور پر کھانا۔

عن حرب عن أبیہ عن جدہ أن أصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قالوا: یا رسول اللّٰہ! إنا نأکل ولا نشبع، قال: فلعلکم تفترقون؟ قالوا: نعم! قال: فاجتمعوا علی طعامکم واذکروا اسم اللّٰہ علیہ یُبارک لکم فیہ۔ (سنن أبی داوٴد، کتاب الأطعمة / باب فی الاجتماع علی الطعام ۲/۵۲۸رقم: ۳۷۶۴دار الفکر بیروت)

(۳) دستر خوان بچھانا

۔عن أنس رضی اللّٰہ عنہ قال: ما علمت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم أکل علی سُکُرُّجةٍ قطُّ، ولا خُبزَ لہ مُرققٌ قطُّ، ولا أکل علی خِوانٍ قطُّ، فقیل لقتادة: فعلی ما کانوا یأکلون؟ قال: علی السفر۔ (صحیح البخاری، کتاب الأطعمة / باب الخبز المرقق والأکل علی الخوان والسفرة ۲/۸۱۱رقم: ۵۳۸۶دار الفکر بیروت)

(۴) جوتے چپل اُتارکر کھانا

۔ عن أنس رضی اللّٰہ عنہ قال: قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إذا أکلتم الطعام فاخلعوا نعالکم؛ فإنہ أروح لأقدامکم۔ (مجمع الزوائد، کتاب الأطعمة / باب خلع النعال عند الأکل ۵/۲۳رقم: ۷۹۱۲د)

(۵) بسم اللہ پڑھ کر کھانا۔

(۶) دائیں ہاتھ سے کھانا۔

عن أبی سلمة رضی اللّٰہ عنہ یقول: کنت غلامًا فی حجر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وکانت یدی تطیشُ فی الصحفة، فقال لی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: یا غلامُ! سم اللّٰہ، وکل بیمینک، وکل مما یلیک، فما زالت تلک طعمتی بعدُ۔ (صحیح البخاری، کتاب الأطعمة / باب التسمیة علی الطعام والأکل بالیمین ۲/۸۰۹رقم: ۵۳۷۶دار الفکر بیروت)

(۷) کھانے میں عیب نہ نکالنا۔

عن أبی ہریرة رضی اللّٰہ عنہ قال: ما عاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم طعامًا قطُّ، إنِ اشتہاہ أکلہ وإن کرہہ ترکہ۔ (صحیح البخاری، کتاب الأطعمة / باب ما عاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم طعامًا قط ۲/۸۱۴رقم: ۵۳۷۶دار الفکر بیروت، صحیح مسلم ۲/۱۸۷رقم: ۲۰۶۴بیت الأفکار الدولیة )

(۸) تین انگلیوں سے کھانا۔

إن عبد الرحمن بن کعب بن مالک أو عبد اللّٰہ بن کعب عن أبیہ رضی اللّٰہ عنہ أنہ حدثہم أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یأکل بثلاث أصابع، فإذا فرغ لعقہا۔ (صحیح مسلم، کتاب الأشربة / باب استحباب لعق الأصابع واقصعة وأکل اللقمة الساقطة الخ ۲/۱۷۵رقم: ۲۰۳۲بیت الأفکار الدولیة، شمائل ترمذی ص: ۶۱رقم: ۱۴۱المکتبة الإسلامیة داکا بنغلادیش)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں