22

عورت کو اگر درمیان یا آخر وقت میں حیض آئے تو کیا نماز معاف ہوجاتی ہے ؟

کیا نماز کا وقت شروع ہونے کے بعد
عورت کو اگر درمیان یا آخر وقت میں حیض آئے تو کیا نماز معاف ہوجاتی ہے ؟

الجواب حامداً و مصلیا و مسلما

حیض شروع وقت میں آئے یا درمیان میں آئے یا آخر وقت میں بہر صورت اگر عورت نے اس وقت کی نماز نہ پڑھی ہو تو وہ نماز معاف ہوجاتی ہے ، اس لیے اگر کسی عورت کو نمازکا وقت ختم ہونے سے پہلے حیض آگیا اور اس نے اس وقت کی نماز نہیں پڑھی تھی تو وہ نماز معاف ہوجائے گی ، حیض سے پاک ہونے کے بعد اسے اُس نماز کی قضا نہیں کرنی ہوگی ،

اما الفرض ففي الصوم تقضیہ دون الصلاة وإن مضی من الوقت ما یمکنھا أداوٴھا فیہا؛لأن العبرة عندنا لآخر الوقت کما في المنبع (رد المحتار، کتاب الطھارة، باب الحیض، ۱: ۴۸۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند)
اذا حاضت في الوقت أو نفست سقط فرضہ بقي من الوقت ما یمکن أن تصلي فیہ أو لا ھکذا في الذخیرة (الفتاوی الھندیة، کتاب الطھارة، الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء، الفصل الرابع في أحکام الحیض والنفاس والاستحاضة، ۱: ۳۸، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)
ماخذ دارالافتاء دارالعلوم دیوبند

فقط وﷲ اعلم بالصواب
محمد مستقیم عفاالله عنه

0 Reviews

Write a Review

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں