69

اسکول میں طرح طرح کے کارٹون اور تصاویر لگی ہوتی ہیںتو کیا وہاں نماز قبول ہوگی؟

سوال

میں ایک معلمہ ہوں، اسکول میں طرح طرح کے کارٹون اور تصاویر لگی ہوتی ہیں اور ہماری چھٹی دیر سے ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہاں سارے کمروں میں تصاویر لگی ہوتی ہیں تو کیا وہاں نماز قبول ہوگی؟

جواب: کمرے کے اندر جاندار کی تصویر لگی ہوئی ہو، چاہے اوپر ہو یا نیچے ہو، سامنے ہو، دائیں ہو یا بائیں ہو تو اس کمرے کے اندر نمازپڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔

سب سے زیادہ کراہت اس تصویر میں ہے، جو نمازی کے سامنے جانب قبلہ میں ہو، پھر وہ جو نمازی کے سر پر معلق ہو، پھر وہ جو اس کے داہنے ہو، پھر وہ جو بائیں طرف ہو، اور سب سے کم کراہت اس میں ہے کہ جو نمازی کے پیچھے کسی دیوار وغیرہ میں ہو۔

صورت مسئولہ میں اگر سکول سے گھر یا کسی اور جگہ جہاں جاندار کی تصاویر نہ ہوں، تک پہنچنے میں نماز کا وقت باقی رہتا ہو، تو آپ کو چاہیے کہ آپ اس جگہ پہنچ کر نماز ادا کریں، البتہ اگر وہاں تک پہنچنے میں نماز قضاء ہونے کا اندیشہ ہو، تو اسی تصاویر والے کمرے میں نماز ادا کرلیں، لیکن نماز سے پہلے تصاویر یا ان کے چہرے کو کسی کاغذ، کپڑے یا پردے وغیرہ سے ڈھانپ دیا جائے، تو نماز بلا کراہت درست ہو جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الھندیة:

و یکرہ أن یصلی و بین یدیہ أو فوق رأسہ أو علی یمینہ أو علی یسارہ أو في ثوبہ تصاویر ۔۔۔ و أشدھا کراھۃ أن تکون أمام المصلی ثم فوق رأسہ ثم یمینہ ثم یسارہ ثم خلفہ.

(ج1، ص: 166، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، دارالفکر)

وفی الدرالمختار:

ﻭﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﻓﻮﻕ ﺭﺃﺳﻪ ﺃﻭ ﺑﻴﻦ ﻳﺪﻳﻪ ﺃﻭ (ﺑﺤﺬاﺋﻪ) ﻳﻤﻨﺔ ﺃﻭ ﻳﺴﺮﺓ ﺃﻭ ﻣﺤﻞ ﺳﺠﻮﺩﻩ (ﺗﻤﺜﺎﻝ) ﻭﻟﻮ ﻓﻲ ﻭﺳﺎﺩﺓ ﻣﻨﺼﻮﺑﺔ ﻻ ﻣﻔﺮﻭﺷﺔ (ﻭاﺧﺘﻠﻒ ﻓﻴﻤﺎ ﺇﺫا ﻛﺎﻥ) اﻝﺗﻤﺜﺎﻝ (ﺧﻠﻔﻪ ﻭاﻷﻇﻬﺮ اﻟﻜﺮاﻫﺔ

(ج:1، ص: 468، ط:دارالفکر،بیروت۔)

وفی البحر الرائق:

ﻭﺃﺷﺪﻫﺎ ﻛﺮاﻫﺔ ﻣﺎ ﻳﻜﻮﻥ ﻋﻠﻰ اﻟﻘﺒﻠﺔ ﺃﻣﺎﻡ اﻟﻤﺼﻠﻲ ﻭاﻟﺬﻱ ﻳﻠﻴﻪ ﻣﺎ ﻳﻜﻮﻥ ﻓﻮﻕ ﺭﺃﺳﻪ ﻭاﻟﺬﻱ ﻳﻠﻴﻪ ﻣﺎ ﻳﻜﻮﻥ ﻋﻦ ﻳﻤﻴﻨﻪ ﻭﻳﺴﺎﺭﻩ ﻋﻠﻰ اﻟﺤﺎﺋﻂ ﻭاﻟﺬﻱ ﻳﻠﻴﻪ ﻣﺎ ﻳﻜﻮﻥ ﺧﻠﻔﻪ ﻋﻠﻰ اﻟﺤﺎﺋﻂ ﺃﻭ اﻟﺴﺘﺮ۔

(ج:2،ص: 29، ط: دارالکتاب الاسلامی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں