71

: رکعت پانے کے لیے جھکتے ہوئے تکبیرِ تحریمہ کہنے کا حکم

: رکعت پانے کے لیے جھکتے ہوئے تکبیرِ تحریمہ کہنے کا حکم

جب امام رکوع میں ہوتا ہے تو ایسے میں بعض لوگ جماعت میں شامل ہونے اور رکعت پانے کے لیے جلدی میں جھکتے جھکتے تکبیرِ تحریمہ کہہ دیتے ہیں، اس صورت میں ان کی نماز درست ہے یا نہیں؟ ذیل میں اس کا تفصیلی حکم ذکر کیا جاتا ہے جس سے پہلے بطورِ تمہید ضروری مسائل ذکر کیے جاتے ہیں تاکہ زیرِ نظر مسئلہ سمجھنے میں آسانی رہے۔

📿 رکعت پانے کے لیے جھکتے ہوئے تکبیرِ تحریمہ کہنے کا حکم:
1⃣ نماز شروع کرنے کے لیے تکبیرِ تحریمہ کہنا خود بھی فرض ہے اور تکبیرِ تحریمہ کو قیام کی حالت میں کہنا بھی فرض ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی شخص نے قیام کی بجائے رکوع کی حالت میں تکبیرِ تحریمہ کہی یا اس کی تکبیرِ تحریمہ رکوع کی حالت میں مکمل ہوئی جیسے کہ ’’اللہ‘‘ تو قیام کی حالت میں ادا ہوا لیکن ’’اکبر‘‘ رکوع کی حالت میں ادا ہوا، تو ان دونوں صورتوں میں تکبیرِ تحریمہ درست نہیں ہوگی، کیوں کہ فرض چھوٹ گیا ہے، جس کے نتیجے میں ظاہر ہے کہ نماز ہی درست نہ ہوگی۔
2️⃣ اس ضمن میں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ قیام کا مطلب کیا ہے؟ تو واضح رہے کہ ایک تو قیام کی کامل صورت اور طریقہ ہے کہ مکمل طور پر سیدھا کھڑا ہوا جائے اور اس میں جھکاؤ نہ ہو، جبکہ قیام کا ادنی اور کم سے کم درجہ اور صورت یہ ہے کہ اس قدر جھک جائے کہ گھٹنوں تک ہاتھ نہ پہنچے، یعنی اگر کوئی شخص اس قدر جھک گیا ہو کہ اس کے ہاتھ گھٹنوں تک نہ پہنچے ہوں تو یہ بھی قیام ہی کے حکم میں ہے اور یہ قیام کا ادنی درجہ ہے، جبکہ اس سے مزید جھک جانا کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں تو یہ پھر رکوع کے حکم میں داخل ہوجاتا ہے۔
3⃣ مذکورہ تمہیدی تفصیل کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر کوئی شخص باجماعت نماز میں اس وقت آیا کہ امام رکوع میں تھا تو اس کو چاہیے کہ وہ تکبیرِ تحریمہ کھڑے کھڑے قیام ہی کی حالت میں ادا کرے، پھر اس کے بعد رکوع کرے، لیکن اگر اس نے جھکتے جھکتے تکبیرِ تحریمہ کہی تو اگر اس کے ہاتھ گھٹنوں تک پہنچنے سے پہلے پہلے اس کی تکبیرِ تحریمہ مکمل ہوگئی تو اس کی تکبیرِ تحریمہ درست کہلائے گی کیوں کہ وہ قیام ہی کی حالت میں ادا ہوئی ہے، یوں اس کی نماز بھی درست شمار ہوگی، لیکن اگر اس نے تکبیرِ تحریمہ اُس وقت کہی یا اس کی تکبیرِ تحریمہ اُس وقت مکمل ہوئی جب اس کے ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ چکے تھے تو ایسی صورت میں اس کی تکبیرِ تحریمہ درست نہ ہوگی کیوں کہ تکبیرِ تحریمہ قیام کی بجائے رکوع کی حالت میں ادا اور مکمل ہوئی ہے، جس کی وجہ سے فرض چھوٹ گیا ہے، اس لیے اس کی نماز بھی درست نہ ہوگی، اس صورت میں اس کے ذمے لازم ہے کہ وہ دوبارہ سے نماز شروع کرے۔
4️⃣ اسی تناظر میں فقہی کتب میں یہ مسئلہ بھی مذکور ہے کہ اگر کوئی شخص باجماعت نماز میں اس وقت آیا کہ امام رکوع میں تھا تو اس نے قیام کی حالت میں تکبیرِ تحریمہ کی بجائے رکوع کی نیت سے تکبیر کہی اور رکوع میں چلا گیا تو ایسی صورت میں اس کی یہ تکبیر تکبیرِ تحریمہ ہی شمار ہوگی اور رکوع والی نیت لغو اور کالعدم قرار دی جائے گی، یوں اس کی نماز درست شمار ہوگی۔

📚 فقہی عبارات
☀ الفتاوى الهندية:
وَلَا يَصِيرُ شَارِعًا بِالتَّكْبِيرِ إلَّا في حَالَةِ الْقِيَامِ أو فِيمَا هو أَقْرَبُ إلَيْهِ من الرُّكُوعِ، هَكَذَا في «الزَّاهِدِيِّ»، حتى لو كَبَّرَ قَاعِدًا ثُمَّ قام لَا يَصِيرُ شَارِعًا في الصَّلَاةِ. وَيَجُوزُ افْتِتَاحُ التَّطَوُّعِ قَاعِدًا مع الْقُدْرَةِ على الْقِيَامِ، كَذَا في «مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ» ……. وَكَذَا لو أَدْرَكَ الْإِمَامَ في الرُّكُوعِ فقال: اللهُ أَكْبَرُ، إلَّا أَنَّ قَوْلَهُ: «اللهُ» كان في قِيَامِهِ، وَقَوْلَهُ: «أَكْبَرُ» وَقَعَ في رُكُوعِهِ لَا يَكُونُ شَارِعًا في الصَّلَاةِ. (فَرَائِضِ الصَّلَاةِ)
☀ الدر المختار:
(مِنْ فَرَائِضُهَا) الَّتِي لَا تَصِحُّ بِدُونِهَا (التَّحْرِيمَةُ) قَائِمًا …… (وَمِنْهَا: الْقِيَامُ) بِحَيْثُ لَوْ مَدَّ يَدَيْهِ لَا يَنَالُ رُكْبَتَيْهِ. وَمَفْرُوضَةٌ وَوَاجِبَةٌ وَمَسْنُونَةٌ وَمَنْدُوبَةٌ بِقَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِيهِ، فَلَوْ كَبَّرَ قَائِمًا فَرَكَعَ وَلَمْ يَقِفْ صَحَّ؛ لِأَنَّ مَا أَتَى بِهِ الْقِيَامُ إلَى أَنْ يَبْلُغَ الرُّكُوعَ يَكْفِيهِ.
☀ رد المحتار على الدر المختار:
(قَوْلُهُ وَمِنْهَا الْقِيَامُ) يَشْمَلُ التَّامَّ مِنْهُ وَهُوَ الِانْتِصَابُ مَعَ الِاعْتِدَالِ وَغَيْرَ التَّامِّ وَهُوَ الِانْحِنَاءُ الْقَلِيلُ بِحَيْثُ لَا تَنَالُ يَدَاهُ رُكْبَتَيْهِ …… (قَوْلُهُ إلَى أَنْ يَبْلُغَ الرُّكُوعَ) أَيْ يَبْلُغَ أَقَلَّ الرُّكُوعِ بِحَيْثُ تَنَالُ يَدَاهُ رُكْبَتَيْهِ. وَعِبَارَتُهُ فِي الْخَزَائِنِ عَنْ الْقُنْيَةِ إلَى أَنْ يَصِيرَ أَقْرَبَ إلَى الرُّكُوعِ.
(فَرَائِضِ الصَّلَاةِ)
☀ البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
وَلَوْ قَالَ الْمُصَنِّفُ: «فَرْضُهَا التَّحْرِيمَةُ قَائِمًا» لَكَانَ أَوْلَى؛ لِأَنَّ الِافْتِتَاحَ لَا يَصِحُّ إلَّا فِي حَالَةِ الْقِيَامِ، حَتَّى لَوْ كَبَّرَ قَاعِدًا، ثُمَّ قَامَ لَا يَصِيرُ شَارِعًا؛ لِأَنَّ الْقِيَامَ فَرْضٌ حَالَ الِافْتِتَاحِ كَمَا بَعْدَهُ، وَلَوْ جَاءَ إلَى الْإِمَامِ وَهُوَ رَاكِعٌ فَحَنَى ظَهَرَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ: إنْ كَانَ إلَى الْقِيَامِ أَقْرَبَ يَصِحُّ، وَإِنْ كَانَ إلَى الرُّكُوعِ أَقْرَبَ لَا يَصِحُّ، وَلَوْ أَدْرَكَ الْإِمَامَ رَاكِعًا فَكَبَّرَ قَائِمًا وَهُوَ يُرِيدُ تَكْبِيرَةَ الرُّكُوعِ جَازَتْ صَلَاتُهُ؛ لِأَنَّ نِيَّتَهُ لَغَتْ فَبَقِيَ التَّكْبِيرُ حَالَةَ الْقِيَامِ. (بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ)

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی
24 محرم الحرام 1443ھ/ 2 ستمبر 2021

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں