74

کسی شخص کا نام بگاڑنا

سوال
ایک آدمی کا نام “مونِس الہٰی” ہے، اگر کوئی شخص اس کا نام بگاڑ کر “مونث الہی”  کہتا ہے تو اس نام بگاڑنے والے کے لیے کس حد تک گناہ کی بات ہے؟ آیا کہیں یہ مونث کا لفظ الہی کے ساتھ استعمال کرنے سے ایمان پر تو کوئی معاملہ نہیں آئے گا؟

جواب
کسی مسلمان  کا نام بگاڑنا  اور اسے برے لقب سے پکارنا قرآنِ مجید کی آیت کی رو سے  حرام اور سخت گناہ ہے؛  لہذ “مونِس” نام کو “مؤنث” سے بگاڑنے والا فاسق ہے، البتہ اسلام سے خارج نہیں ہے، ایسا کرنے  سے فورًا توبہ کرے اور اپنے مسلمان بھائی سے معافی مانگے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ}

ترجمہ: “اے ایمان والو ٹھٹھا (مذاق) نہ کریں ایک لوگ دوسرے سے، شاید وہ بہتر ہوں ان سے، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں سے، شاید وہ بہتر ہوں ان سے، اور عیب نہ لگاؤ ایک دوسرے کو ، اور نام  نہ ڈالو چڑانے کو ایک دوسرے کے، بُرا نام ہے گناہ گاری  پیچھے ایمان کے، اور جو کوئی توبہ نہ کرے تو وہی ہے  بے انصاف۔ (ترجمۂ شیخ الہند)

وفی تفسیر الطبري(302/22):

“والذي هو أولى الأقوال في تأويل ذلك عندي بالصواب أن يقال: إن الله تعالى ذكره نهى المؤمنين أن يتنابزوا بالألقاب؛ والتنابز بالألقاب: هو دعاء المرء صاحبه بما يكرهه من اسم أو صفة، وعمّ الله بنهية ذلك، ولم يخصص به بعض الألقاب دون بعض، فغير جائز لأحد من المسلمين أن ينبز أخاه باسم يكرهه، أو صفة يكرهها. وإذا كان ذلك كذلك صحت الأقوال التي قالها أهل التأويل في ذلك التي ذكرناها كلها، ولم يكن بعض ذلك أولى بالصواب من بعض، لأن كلّ ذلك مما نهى الله المسلمين أن ينبز بعضهم بعضًا.”

فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144203201477

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں