67

میری بیوی چار لاکھ حق مہر معاف کرنے کے بعد دوبارہ مانگ رھی ھے اسکے متعلق کیا شرعی حکم ھے

میری بیوی چار لاکھ حق مہر معاف کرنے کے بعد دوبارہ مانگ رھی ھے اسکے متعلق کیا شرعی حکم ھے

جواب
مہر عورت کا حق ہے، عورت اپنی خوش دلی سے اپنا پورا  مہر یا مہر کا کچھ حصہ معاف کر دے تو معاف ہو جاتا ہے، لہذا اگر زید کی بیوی نے چار لاکھ بغیر کسی جبر واکراہ کے زبانی معاف کردیے تھے تو اب دوبارہ اس کو اس رقم کے مطالبہ کا حق نہیں ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 295):
’’ومنها: هبة كل المهر قبل القبض عيناً كان أو ديناً، وبعده إذا كان عيناً‘‘.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 113):
’’(وصح حطها) لكله أو بعضه (عنه) قبل أو لا، ويرتد بالرد، كما في البحر‘‘. فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144003200151

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں