113

عورت کا نماز ھاتھ سینے پر باندھنا

عورت کا نماز ھاتھ سینے پر باندھنا

عورت کے بارے میں اجماع ہے کہ وہ قیام کے وقت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی اور اجماع مستقل دلیل شرعی ہے۔

1: امام ابو القاسم ابراہیم بن محمد القاری الحنفی السمر قندی (المتوفیٰ بعد907ھ) لکھتے ہیں:
وَ الْمَرْاَۃُ تَضَعُ [یَدَیْھَا]عَلٰی صَدْرِھَا بِالْاِتِّفَاقِ.
(مستخلص الحقائق شرح کنز الدقائق: ص153)

ترجمہ: عورت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی،اس پر سب فقہاء کا اتفاق ہے۔

2: سلطان المحدثین ملا علی قاری رحمہ اللہ (م1014ھ) فرماتے ہیں:
وَ الْمَرْاَۃُ تَضَعُ [یَدَیْھَا]عَلٰی صَدْرِھَا اِتِّفَاقًا لِاَنَّ مَبْنٰی حَالِھَا عَلَی السَّتْرِ.
(فتح باب العنایۃ: ج1 ص243 سنن الصلوۃ)

ترجمہ:عورت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی،اس پر سب فقہاء کا اتفاق ہے، کیونکہ عورت کی حالت کا دارو مدار پردے پر ہے۔

3: علامہ عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ (م1304ھ) لکھتے ہیں:
وَاَمَّا فِیْ حَقِّ النِّسَائِ فَاتَّفَقُوْا عَلٰی اَنَّ السُّنَّۃَ لَھُنَّ وَضْعُ الْیَدَیْنِ عَلَی الصَّدْرِ لِاَنَّھَامَا اَسْتَرُ لَھَا.
(السعایۃ ج 2ص156)

ترجمہ:رہا عورتوں کے حق میں[ہاتھ باندھنے کا معاملہ]تو تمام فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان کے لیےسنت سینہ پر ہاتھ باندھناہے کیونکہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔

فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں