114

نفاس کی مدت اور اس حالت میں غسل کرنا

سوال
بچے کی  پیدائش کے بعد ماں کو کتنے دنوں بعد نہا کر پاک ہوجانا چاہیے؟  کچھ لوگ کہتے ہیں: چالیس دن عورت ناپاک رہتی ہے۔ راہ نمائی فرمائیں!

جواب
بچہ پیدا ہونے کے بعد عورت کے رحم سے جو خون آتا ہے اس کو ’’نفاس‘‘ کہتے ہیں،  نفاس کی حالت میں  عورت کے لیے نماز ، روزہ، اور قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا یا چھونا جائز  نہیں ہوتا، البتہ پاک ہونے کے بعد  فرض روزوں کی قضا لازم ہوگی، اور ان ایام کی نمازیں عورت کے لیے بالکل  معاف ہیں، ان کی قضا بھی لازم نہیں ہوگی۔

نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے، اور کم سے کم مدت  کی کوئی حد نہیں،  اگر کسی کو ایک آدھ گھڑی خون آکر بند ہو جائے تو وہ بھی نفاس ہے، لہذا اگر کسی عورت کو بچہ کی ولادت کے بعد چالیس دن کے اندر اندر خون آئے تو وہ نفاس کا ہے،  اور چالیس دن کے اندر اندر خون آنا بند ہوجائے تو وہ پاک سمجھی جائے گی، چالیس دن یا سوا مہینہ  تک ناپاک نہیں شمار ہوگی۔ اور چالیس دن سے بڑھ جائے تو اگر اس کا پہلا بچہ ہے تو چالیس دن نفاس کا خون ہوگا، اور اس کے بعد آنے والا خون بیماری کا کہلائے گا، اس میں نماز وغیرہ پڑھنی ہوں گی، اور اگر اس کا پہلے سے کوئی بچہ ہے تو اس کی جتنے دن خون آنے عادت ہے اتنے دن کا خون نفاس شمار ہوگا اور باقی بیماری کا خون شمار ہوگا۔ البتہ اس نفاس کے ایام میں خواہ وہ چالیس دن ہوں یا اس سے کم ہوں  عورت کے لیے غسل کرنا شرعاً  منع نہیں ہے، بلکہ وہ ٹھنڈک وغیرہ کے لیے غسل کرسکتی ہے،ہاں اگر طبی طور پر نقصان دہ ہو تو  معالج کے مشورہ پر عمل کرنا چاہیے۔

الفتاوى الهندية (1/ 37):
” أقل النفاس ما يوجد ولو ساعةً، وعليه الفتوى، وأكثره أربعون، كذا في السراجية. وإن زاد الدم على الأربعين فالأربعون في المبتدأة والمعروفة في المعتادة نفاس، هكذا في المحيط”. فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144004200290

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں