86

سوال: مہربانی فرما کر ایام تشریق میں تکبیرات جو کہ ہر نماز کے بعد پڑھی جاتی ہیں،ان کا حدیث سے ثبوت دے دیجیے-؟

سوال: مہربانی فرما کر ایام شریق میں تکبیرات تجو کہ ہر نماز کے بعد پڑھی جاتی ہیں،ان کا حدیث سے ثبوت دے دیجیے-؟

01—حضرت علیؓ عرفہ کے دن فجر کی نماز کے بعدتکبیر کہتے، ایامِ تشریق کے آخر تک نماز عصر تک اورعصر کے بعد تکبیر کہتے۔”
(مصنف ابن أبي شیبة:2؍72) واللفظ له (المستدرک: 1؍299، السنن الکبریٰ للبیهقي: 3؍314)

02”حضرت علی ؓ عرفہ کی صبح، فجر کی نماز کے بعد تکبیر کہتے پھر وہ برابر کہتے رہتے تھے یہاں تک کہ امام ایام تشریق کے آخر ی دن عصر کی نماز پڑھاتا، پھر وہ عصر کے بعد تکبیر پکارتے۔”
(المستدرک :1؍299)

یہ روایت اپنے مفہوم پر بالکل واضح ہے اور اس میں یکبّر بعد صلوٰة الفجر یعنی ”وہ نمازِ فجر کے بعد تکبیر پکارتے تھے۔” اور یہ سلسلہ جاری رہتا یہاں تک کہ وہ عصر کی نما زکے بعد تک تکبیرات پکارتے تھے (ایامِ تشریق کے اختتام تک)۔ اس روایت میں کوئی ابہام نہیں ہے اور اِسے بغور پڑھا جائے تو اُمید ہے کہ مسئلہ کی تہہ تک پہنچنے میں طالب ِحق کو دشواری پیش نہ آئے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

3- عن ابن عباس أنه کان یکبر عن غداة عرفة إلی صلوة العصر من آخر أیام التشریق
عبداللہ بن عباسؓ عرفہ کی صبح سے ایام تشریق کے آخر تک، عصر کی نماز تک تکبیر پکارتے تھے۔”
( المستدرک: 1؍299)
4-فحدثنا أبوالعباس محمد بن یعقوب أنبأ العباس بن الولید بن مزید ثنا أبي قال سمعت الأوزاعي وسئل عن التکبیر یوم عرفة فقال: یکبر من غداة عرفة إلیٰ آخر أیام التشریق کما کبر علي وعبداﷲ
”جناب ولید بن مزید رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ سے یومِ عرفہ کی تکبیر کے متعلق سوال کیا گیاتو میں نے ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا: (عرفہ کی) صبح سے ایامِ تشریق کے آخر تک تکبیرات پکاری جائیں گی، جیسا کہ علی ؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ تکبیر کہا کرتے تھے۔”
( المستدرک :1؍300)
5- عبداللہ بن مسعودؓ سے ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ موجود ہیں :
فأخبرناہ أبویحیٰی أحمد بن محمّد السمرقندي ثنا مُحمّد بن نصر ثنا یحیٰی بن یحیٰی أنبأ هیثم عن أبي جناب عن عُمیر بن سعید قال:قدم علینا ابن مسعود فکان یکبر من صلوٰة الصبح یوم عرفة إلیٰ صلوٰة العصر من آخر أیام التـشریق 5
”جناب عمیر بن سعید رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عبدللہ ابن مسعودؓ تشریف لائے، پس وہ یومِ عرفہ کے دن صبح کی نما زسے ایامِ تشریق کے آخر، نمازِ عصر تک تکبیرات پکارتے تھے۔”
( المُستدرَک : 1؍299،300)
6-کان عمر بن الخطاب یکبر بعد صلوٰة الفجر من یوم عرفة إلی صلوٰة الظھر من آخر أیام التشریق 6
” حضرت عمرؓ بن خطاب ؓ عرفہ کے دن نمازِ فجر کے بعد سے تکبیر کہتے، یہاں تک کہ وہ ایام تشریق کے آخر تک، ظہر کی نماز تک تکبیر کہتے تھے۔”
(المستدرک 1؍299 و ابن أبي شیبة :2؍72)
اسی پر جامعہ بنوری ٹاؤن اور دار العلوم دیوبند کا فتوی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں